دہشت گردی کے خلاف پاک افغان تعاون

دہشت گردی کے خلاف پاک افغان تعاون

پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے منصوبہ سازوں اور تربیت کاروں کے افغانستان میں ٹھکانوں پر پاک فوج کی دوسرے روز بھی شیلنگ اس عزم کو آشکار کرتی ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو کہیں پناہ نہیں لینے دی جائے گی اور انہیں جہاں کہیں بھی وہ ہوں ڈھونڈ کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ افغان وزارت خارجہ کے طلب کیے جانے پر پاکستان کے سفیر متعینہ کابل نے بھی کابل کی طرف سے احتجاج کے جواب میں افغان حکمرانوں کو بتایا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث حملہ آوروں کا سراغ افغانستان تک گیا ہے۔ دہشت گردوںکی جس تنظیم جماعت الاحرار نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اس کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں جہاں انہوں نے تربیت دینے کے لیے کمپاؤنڈ بنا رکھے ہیں۔ پاکستان نے انہی پر بمباری کی ہے اور ان کے اہم تربیت کار کے علاوہ متعدد ارکان کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ایک عرصہ سے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ آپریشن سوات اور آپریشن ضرب عضب کے دنوں سے ہزاروں کی تعداد میں فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں مقیم ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان ملا فضل اللہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا لیکن افغانستان نے اس کی گرفتاری سے معذوری کا اظہار کیا۔ اب آپریشن ضرب عضب کے بعد تحریک طالبان ،جماعت الاحرار اور دیگر تنظیموں کے ہزاروں دہشت گردوںنے ایک بار پھر افغانستان میں پناہ لی ہے اور وہاں پاکستان پر حملوں کی منصوبہ سازی اور تیاری کرتے ہیں۔ گزشتہ روز افغان ناظم الامور کو جی ایچ کیو طلب کرکے پاکستان کو مطلوب 76ایسے دہشت گردوں کی فہرست دی گئی تھی جو افغانستان میں مقیم ہیں۔افغان حکمران اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو ان کے لیے ان ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کارروائی آسان ہو گی۔ لیکن اس نشان دہی کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ اطلاعات اس قدر صحیح تھیں کہ پاک فوج نے جب ان ٹھکانوں پر گولہ باری کی تو دہشت گردوں کے کئی لیڈروں سمیت ان کے متعدد عناصر اس کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ افغان فوج کے سربراہ جنرل قدم شاہ شاہیم نے کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گردی روکنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ کوشش برسرزمین نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے بھی پاکستان کو ایسے دہشت گردوں کی فہرست دی ہوئی ہے جو پاکستان سے آ کر افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان میں کم از کم یہ پیغام موصول ہوتا ہے کہ اگرچہ پاکستان مخالف دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں تاہم ان کے خلاف افغان حکومت اس لیے کارروائی نہیں کر رہی کہ پاکستان ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا جن کی نشان دہی افغان حکومت نے کی ہے۔ پاکستان ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکارہے۔ پاکستان کے نزدیک دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ تاہم پاکستان میں اگر افغانستان جا کر دہشت گردی کرنے والے ہیں تو اپنے خفیہ ٹھکانوں ہی میں ہو سکتے ہیں اور ان کی تعداد بھی مختصر سی ہو سکتی ہے لیکن افغانستان میں پاکستان کے مخالف دہشت گردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو آپریشن سوات اور اب آپریشن ضرب عضب کے باعث فرار ہو کر افغانستان میں مقیم ہیں۔ افغان سیکورٹی فورسز کے لیے ان کی تلاش آسان ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ان لوگوں کو آخر کہیں سے رسد جاتی ہے اور اس رسد کے لیے کہیں سے مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ افغان فورسز کے لیے ان کی نشان دہی مشکل نہیں۔ لیکن ان کی چشم پوشی یہ ثابت کرتی ہے کہ افغان حکمران ان کی سرپرستی کر رہے ہیں اور اس کے صلے میں ان کا مفاد پوشیدہ ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں مقیم امریکی فوجوں کے کمانڈرجنرل نکلسن سے گزشتہ روز ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور ان سے افغانستان سے آ کر پاکستان میں حملہ آور ہونے والوں کو روکنے کے لیے تعاون کے لیے کہا ہے۔ جنرل نکلسن کو یہ معلوم ہو گا کہ ان ہزاروں دہشت گردوں کے افغانستان میں کوئی مالی وسائل نہیں ہیں یہ بعض غیر ملکی طاقتوں کی مالی معاونت کے سہارے رہتے ہیں۔ امریکی فوجی اگرانہیں برداشت کرتے رہیں گے توان کا مورال بھی خراب ہو گا ۔ ان دہشت گردوں کی قوت ان کے مالی معاونوں کے عزائم کی پابند ہے۔ وقت آنے پر وہ امریکی افواج کا بھی لحاظ نہیں کریں گے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں امن ان ہزاروں دہشت گردوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ وہ اسی صورت میں افغانستان میں قیام کر سکیں گے جب افغانستان میں بدامنی ہو۔یہ صورت حال افغانستان میں مقیم امریکی افواج کے مقاصد کے برعکس ہے۔ اور پھر دہشت گرد تنظیموں کے آپس میں رابطوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان میں دہشت گردی کرنے والا کس تنظیم کا رکن ہے اور پاکستان سے دہشت گردی کرنے والا کس تنظیم کا رکن ہے۔پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ افغانستان کی جمہوری حکومت اپنے قدم سارے ملک میں جمانے کی کوشش میں ہے جو پر امن حالات میں ہی ممکن ہے۔ امریکی افواج کا مقصد بھی افغانستان میں امن قائم کرنا ہے۔ پاکستان کی سویلین قیادت اور فوجی قیادت دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے۔ اور افغانستان کے آرمی چیف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں حملہ آور ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں مقیم ہیں اور وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی روکنے کے لیے کوشاں ہیں تو اس امکان پر غور کیا جانا چاہیے کہ پاکستان اورافغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ملک تعاون کریں اور ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کریں۔

متعلقہ خبریں