طورخم سرحد کی بندش

طورخم سرحد کی بندش

پاکستان میں دہشت گردی کا سراغ افغانستان تک جانے کے بعد طورخم بارڈر کی بندش ایک فطری ردِعمل تھا کہ یہاں سے روزانہ تیس پینتیس ہزار افراد سرحد پار کرتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں سرحد پار کرنے والوںمیں کون متوقع دہشت گرد ہے اور کون عام شہری یہ جاننا مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ اس اقدام کو افغانستان میں ناپسند کیا جا رہا ہے اس وجہ سے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے ایک میل اندر تک کرفیو کا نفاذ اور پولیٹیکل انتظامیہ کی طرف سے اس پٹی کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کسی ناخوشگوار واقع سے بچنے کے لیے ضروری اقدام ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ طور خم سرحد کی بندش کی وجہ سے مال لے جانے والی گاڑیوں کی قطاریںلگ گئی ہیں اور اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں سے بعض گاڑیوں میں لدی سبزیاں اور پھل اس بندش کی وجہ سے خراب ہو سکتے ہیں لیکن چند ٹرکوں میںلدی سبزیوں اور پھلوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے سارے ملک کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کے منصوبہ سازوں نے چاروں صوبوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی باعث تشویش ہے افغانستان سے 29متوقع دہشت گرد خیبر پختونخوا میں داخل ہو چکے ہیں۔تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خیبر پختونخوا میں حملہ آور ہونے کے بعد کہاں کہاں جائیں گے۔ پاکستان کا ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر شہری پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے اور ہر دہشت گرد خواہ اس کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو ، خواہ وہ خیبر پختونخوا میں حملہ کرنے کے ارادے سے آئے خواہ پاکستان کے کسی اور علاقے پر، پاکستان کا دشمن ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سرحد پارکرنے کے خواہش مندوں میں کچھ بیمار بھی ہو سکتے ہیں جو علاج کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ لیکن سر درد کی گولی خریدنے کے خواہش مند کو بیمار نہیں کہا جا سکتا ۔ افغانستان میں بھی طبی سہولتیں ہیں ۔ صرف ایسے شدید بیماروں کو اجازت دی جانی چاہیے جن کے لیے افغانستان کے ڈاکٹر پاکستان میں علاج کی سفارش کریں۔ اس کے لیے ان کے پاس علاج معالجے کے کاغذات ہونے چاہئیں اور پاکستان کے سیکورٹی اہل کاروں کی کلیئرنس بھی ۔ خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقوں میںکرفیو اس کشیدگی کے پیش ِ نظر لگایا گیا ہے کہ جو سرحد کے دوسری طرف پائی جاتی ہے جس کی بنا پر فرداً فرداً یا گروہ در گروہ سرحد پار کرنے کی کوششوں کا خدشہ محسوس کیا جارہا ہے۔ دہشت گردوں کے داخلے کے امکان کے پیش نظر پاک افغان سرحد کا بند کیا جانا ضروری ہے اور پاکستان کو حفظ ماتقدم کے طور پر اس کا حق ہے۔ سرحد کے قریب رہنے والوں کو علاقے خالی کر دینے کا حکم کسی ناخوشگوار واقع کی صورت میں ان کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ یقینا طورخم اور چمن سرحدی راستے ہمیشہ کے لیے بند نہیں کیے جا سکتے تاہم انہیں کھولنے کے لیے افغان حکومت کو تعاون پر آمادہ ہونا چاہیے تاکہ ایسے اقدامات طے کیے جا سکیں جن کی بدولت پاکستان میں متوقع دہشت گرد داخل نہ ہو سکیں۔ پاکستان اورافغانستان سے دہشت گردوں کو داخل ہونے سے روکنا افغان حکام کی بھی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کو روکنا افغان حکمرانوں کی بھی ضرورت ہے اس لیے پاک افغان سرحدی انتظام کو بہتر اور فول پروف بنانا خود افغان حکمرانوں کے مفاد میں ہے جن کا الزام ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے دہشت گرد داخل ہوتے ہیں ۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے الزامات درست ہیں تو انہیں سرحدی انتظام کے حوالے سے سنجیدہ ہونا چاہیے۔ طورخم اور دیگر سرحدی چوکیوں پر آنے جانے والوں کے لیے مستند سفری دستاویزات کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ دیگر سرحدی علاقوں میں ممکنہ ہلڑ بازی کرنے والوںکو روکنا بھی افغان حکمرانوں کی ذمہ داری ہے جو انہیں پوری کرنی چاہیے بصورت دیگر پاک فوج کسی کو بھی غیر قانونی طور پرداخل ہونے سے روکنے کے لیے مستعد ہے۔

متعلقہ خبریں