سیاپا فروشوں کا ایجنڈا

سیاپا فروشوں کا ایجنڈا

تاریخ اور مشاہدات معلمی کے لئے ہمہ وقت آمادہ ہیں مگر ان کا کیا کیجئے جو ذات کے تعصب میں زندگی بیتانے کو ہی کار زندگانی سمجھتے ہیں۔ در گاہ حضرت لعل شہباز قلندر پر ہوئے خود کش حملے کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے سیاپا فروشوں نے سندھ اور پیپلز پارٹی کے خلاف بھڑاس خوب نکالی۔ مگر ان میں سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے موقف کو بھی اسی طرح نشر کرتے جس طرح بھٹوز دشمنی کے اپنے ذاتی ''بین'' نشر کرتے رہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے ساری نا اہلی' کرپشن' اخلاقی و سیاسی کمزور یاں فقط سندھ میں ہیں۔ عجیب لوگ ہیں۔ پنجاب میں دہشت گردی ''را'' کرواتا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی سی پیک کے خلاف سازش ہے۔ خیبر پختونخوا میں اگر دہشت گردی ہو تو عمران خان ذمہ دار ہے۔ سندھ میں دہشت گردی پیپلز پارٹی کی ناکامی ہے۔ ہسپتال نہیں ہیں تو سہولیات نہیں۔ توکیوں نہ دہشت گردوں سے درخواست کی جائے کہ وہ سندھ میں دہشت گردی کا پروگرام اس وقت تک ملتوی کردیں جب تک حکومت قصبوں کی سطح تک جدید ہسپتال نہیں بنا لیتی؟۔ خدا کے بندو ذاتی نفرت کا چورن فروخت کرنے اور ''کسی'' کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی بجائے کبھی زمینی حقائق بھی مد نظر رکھ لیا کرو۔ پنجاب میں پچھلے چار سالوں کے دوران ہسپتالوں میں ناقص سہولتوں' ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور آکسیجن سلنڈروں کی عدم موجودگی سے سینکڑوں بچے موت کا رزق بنے۔ کتنے پروگرام ہوئے اس پر؟ افسوس کہ صحافت کمرشل ازم کا شکار ہوئی۔ خبر اور تجزیہ کی جگہ عناد اور بغض نے لے لی۔ ابتری کی بنیادی وجوہات پر غور کرنے کی بجائے اپنا اپنا سودا بیچا جا رہا ہے۔

سادہ سا سوال ہے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے سیاپا فروشوں' نوروں اور وزیر آبادی استروں سے پنجاب میں ڈرگ ایکٹ میں جو حالیہ ترمیم ہوئیں اور پھر اس کے نفاذ سے جو صورتحال پیدا ہوئی حوصلہ ہے تو اس کے ذمہ دار صوبائی وزراء بارے بات کیجئے۔ لوگوں کو بتائیے کہ پنجاب کی وہ کونسی شخصیت ہے جس کے صاحبزادے کے''سرویڈ فارمیسی'' میں 40فیصد حصص ہیں۔ ذرا اس وفاقی وزیر کا نام تو بتائیے جس نے پچھلے چار سالوں کے دوران 2عدد ادویہ ساز ادارے خریدے ہیں۔ ہمت ہے تو بولئے لکھئے اس سکینڈل بارے جو کارڈیالوجی ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی ادویات کے حوالے سے ہے۔ آپ کی تان چھوٹے صوبوں پر کیوں ٹوٹتی ہے؟ لاریب چھوٹے صوبوں میں سب اچھا نہیں ہے۔ کج بھی ہیں نظام ہائے حکومت میں اور نا اہلی بھی ہے مگر کیا میٹرو بس منصوبہ منانع بخش ثابت ہوا۔ سالانہ خسارہ کیسے پورا ہو رہا ہے۔ لاہور کا اورنج ٹرین منصوبہ سی پیک پر ڈکیتی نہیں۔ اصل منصوبہ پشاور سے کراچی تک دو نئی ریلوے لائنز بچھانے کا تھا۔ کیوں اسے اورنج ٹرین میں تبدیل کیاگیا؟ کسی کو معلوم ہے کہ صرف لاہور میں 11گھر ایسے ہیں جنہیں وزیر اعلیٰ ہائوس کی سیکورٹی مل رہی ہے۔ پنجاب کے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے مبلغ 36کروڑ روپے لگا کرجاتی امراء والی رہائش گاہ کی کئی کلو میٹر طویل چار دیواری بنائی گئی۔ کیوں اور کس قانون کے تحت۔ کراچی کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہے۔ پشاور بارش کے پانی میں ڈوب جاتا ہے کا راگ الاپنے والو جب لاہور سیوریج کے پانی کا تالاب بن جاتا ہے تو کیوں نہیں بولتے۔ پشاور اور کراچی میں ٹریفک جام کی بریکنگ نیوز دینے والو لاہور میں چار بڑی سڑکوں پر روزانہ اوسطاً 8گھنٹے ٹریفک جام رہتا ہے ۔ دو بڑے داخلی راستوں پر لگ بھگ 12گھنٹے۔ آبلے پڑے ہیں زبانوں میں کیا بولتے کیوں نہیں۔
اچھا لاہور دھماکہ پی ایس ایل کے خلاف بھارتی سازش تھی تو قلندر کی درگاہ پر ہونے والے دھمال کے خلاف کس نے سازش کی؟ معاف کیجئے ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ ترقی پسند سیاسی جماعتوں اور بالخصوص پیپلز پارٹی سے نفرت جس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ارے بھائی سندھ کے لوگوں نے ووٹ دئیے ہیں پی پی پی کو۔ یہ کیا بات ہوئی نواز لیگ عوام کو جوابدہ ہے اور پیپلز پارٹی میڈیا کو۔ کیوں بھائی یہ دوغلا پن کس لئے؟ مکرر عرض ہے چھوٹے صوبوں کی حکومتوں کو کارکردگی بہتر بنانی چاہئے مزید بہتر۔ مگر کبھی پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات کیجئے۔ وفاقی حکومت جو پونے چار سال بعد بھی وزیر خارجہ سے محروم ہے ۔ وزیر داخلہ ہر نازک وقت پر غائب ہو جاتے ہیں۔ سوال تو کیجئے کہ پچھلے پونے چار سالوں کے دوران درآمدات و برآمدات میں کتنی اور کیوں کمی ہوئی۔ بہت ادب سے عرض ہے ہم اہل صحافت کا کام خبر دینا اور تصویر کے دونوں رخ لوگوں کے سامنے رکھنا ہے مگر بد قسمتی سے اب صحافت کے دونوں میدانوں میں ایسے چھاتہ بردار گھس آئے ہیں جن کا مقصد صحافت کرنا نہیں بلکہ عوام میں مایوسی اور نفرت پھیلانا ہے۔
بجا ہے کہ لوگوں کی توقعات پر موجودہ نظام ہائے حکومت پورا نہیں اتر پایا مگر حضور یہ بات فقط چھوٹے صوبوں کے حوالے سے کیوں پنجاب اور اسلام آباد کے حوالے سے بھی کیجئے۔ مکرر عرض ہے تنقید صحافیوں کا حق ہے لیکن تنقید کیجئے تعمیری جذبہ کے ساتھ' آپ تو دو دھاری تلوار لئے میدان میں یوں اترے ہیں کہ گردنیں چھوٹے صوبوںکے قائدین کی مارنے کا پروگرام ہے۔ ایک سوال تو پوچھئے وفاقی حکومت سے۔ کیا اس نے رواں مالی سال کے صوبوں کے لئے مختص فنڈز کی مطلوبہ رقوم صوبوں کو دے دی ہیں؟ معاف کیجئے گا تحریک انصاف کے ووٹر جنوبی افریقہ اور پیپلز پارٹی کے ووٹر لاطینی امریکہ سے نہیں آئے وہ اسی ملک کے باشندے ہیں۔ سو ان کی قیادتوں کا بھی احترام کیجئے۔ سوال اٹھائیے کہ سوال ہی حسن زندگی ہے مگر سوالوں کی آڑ میں حقائق کو مسخ نہ کیجئے۔ صحافت کیجئے یہی آپ کا فرض ہے۔

متعلقہ خبریں