جھوٹ

جھوٹ

آج ہم سب اپنے آپ سے ایک سوال پوچھتے ہیں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں؟جواب تو سب کا اپنااپنا ہوگا لیکن روزمرہ کامشاہدہ تو یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کا چلن عام ہے سیاستدانوں کے جھوٹ سے سب لوگ اس لیے باخبر ہوتے ہیں کہ وہ خبروں کا حصہ ہوتے ہیں ان کی کہی ہوئی باتیں ، وعدے سب کے سامنے ہوتے ہیں ان کی زندگیاں کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں وہ کچھ چھپانا بھی چاہیں تو نہیں چھپ سکتا ۔ جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے تو اس کوچے میں بھی جھوٹ ہی کی اجارہ داری ہے اب تو لوگوںکا یہ حال ہے کہ جھوٹ بولے بغیر ان کا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے کو کوئی برائی ہی نہیں سمجھتے!اس سے پہلے کہ جھوٹ کے مختلف پہلوئوں پر بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس دین کے ہم ماننے والے ہیں وہ جھوٹ کے حوالے سے کیا کہتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ جھوٹ بولنے پر تو ہماری مسلمانی دائو پر لگ جاتی ہے مگر ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ایک مرتبہ جناب رسول کریمۖ سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی مسلمان بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں مسلمان بزدل ہوسکتا ہے! پھر پوچھا گیا کہ کیا کوئی مسلمان کنجوس ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا مسلمان کنجوس ہوسکتا ہے تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا کوئی مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے؟ تو مخبر صادقۖ نے فرمایا نہیں کوئی مسلمان جھوٹا نہیں ہوسکتا! سب سے پہلے تو ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے نبی کریمۖ صادق اور امین تھے ان کے اس قول کی روشنی میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟یقینا جھوٹ بولنا ایسا گناہ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا ایمان دائو پر لگ جاتا ہے ۔کیا یہ بات حیران کردینے والی نہیں ہے کہ ہم نماز کی پابندی کرتے ہیں روزے کا اہتمام کرتے ہیں حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی سے سرخرو ہوتے ہیں اور اس سب کچھ کے باوجود اپنی زندگی سے جھوٹ نہیں نکالتے !اس پر بھی سوچنا چاہیے کہ جب ہمارے پیارے نبی کریمۖ نے جھوٹ بولنے والے کو مسلمانی کے دائرے سے خارج کردیا ہے تو پھر ہمارے کیے ہوئے دوسرے نیک اعمال کہیں ضائع تو نہیں ہورہے اور اگر صاف بات کی جائے تو یقینا ضائع ہورہے ہیںجھوٹ کا تعلق صرف بولنے سے نہیں ہوتا عملی جھوٹ کی بھی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً اگر کوئی جعلی دوائیاں فروخت کررہا ہے ، اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کررہا ہے، کم تول رہا ہے،اپنے کام کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے کام جو بطور احسن نہیں کیے جاتے سب جھوٹ میں شامل ہیں !لوگ جھوٹ بولتے کیوں ہیں؟ہماری موٹی عقل میں اس وقت جھوٹ بولنے کی چند وجوہات سامنے آرہی ہیںپہلے ان پر بات کرلیتے ہیں۔ سرکاری ملازم چھٹی کے حوالے سے بہت جھوٹ بولتے ہیںدفتر جانے کو دل نہیں کرتا اب کوئی بہانہ بنا کر درخواست لکھنی ہے عام طور پر ناسازی طبع کا جھوٹ ایسے موقعوں پر چل جاتا ہے۔ اچانک کسی نے سیل فون پر ہم سے پوچھ لیا کہ جناب اس وقت آپ کہاں ہو؟ چونکہ ذہن میں ہوتا ہے کہ اگر کہاکہ گھر میں ہوں تو یہ بندہ جان چھوڑنے والا نہیں ہے اس لیے اس سے کہا جاتا ہے کہ میں تو اس وقت کسی تقریب میں شریک ہوں گھر سے دور ہوں اس طرح جھوٹ بول کر اس سے جان چھڑا لی جاتی ہے دکاندار اپنی اشیاء فروخت کرنے کے لیے بے تحاشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم اکثر دکانداروں سے کہتے ہیں کہ یار سچ بولو زیادہ نرخ بتا کر پھر کم کرتے چلے جاتے ہو اپنے اچھے بھلے رزق حلال کو جھوٹ بول کر مشکوک بنا رہے ہو؟ تو عام طور پر اس سوال کا جواب ان کے پاس یہی ہوتا ہے کہ اس طرح خریدار ان کی بات پر اعتبار نہیں کرتا اس لیے جھوٹ بولنا ان کی مجبوری ہے۔یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹ اتنا عام ہوچکا ہے کہ یہ جب تک نہ بولا جائے بات بنتی نظر نہیں آتی!ایک زمانہ وہ بھی تھا جب تاجر ایماندار تھے انڈونیشیا اور ملائشیاایسے ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کی کسی فوج نے حملہ نہیں کیا لیکن مسلمان وہاں صرف تجارت کی غرض سے گئے تھے ان تاجروں کے سچ اور دیانت داری کو دیکھ کر وہاں لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ جب ہمارے پیارے نبی کریمۖ نے یہ فرمادیا کہ سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے تو پھر اس کے بعد جھوٹ بولنے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے! اگر جھوٹ اتنی بری چیز ہے اور سچ اچھا ہے تو یقینا پھر سچ بولنا ایک مشکل کام ہے۔ جوش ملیح آبادی نے کہا تھا

سچ بات پہ ملتا ہے سدا زہر کا پیالہ
جینا ہے تو پھر جرات اظہار نہ مانگو
ویسے ہمارے ذہن میں جھوٹ بولنے کے حوالے سے ایک حل یقینا موجود ہے یعنی جھوٹ سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم خود جھوٹ بولنے والے نہ ہوں ہم اپنے بچوں کے لیے نہ صرف رول ماڈل ہوں بلکہ رات کو کھانے کے بعد بچوں کے ساتھ جو تھوڑی بہت گپ شپ لگائی جاتی ہے اس میں انہیں بتایا جائے کہ جھوٹ بولنا کتنی بڑی روحانی بیماری ہے۔ جھوٹ کے مضمرات سے اپنے بچوں کو آگاہ کیا جائے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر جھوٹ نہ بولا جائے!جب بچے بچپن ہی سے سچ کو اپنے گھر میں اپنے والدین کی صورت میں پھلتا پھولتا دیکھ لیتے ہیں تو جھوٹ سے نفرت اور سچ ان کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے وہ بڑے ہو کر جھوٹ بولنا بھی چاہیں تو نہیں بول سکتے !

متعلقہ خبریں