ہماری منزل کیا ہے؟

ہماری منزل کیا ہے؟

منزلیں ' راستوں کی درستگی کی خبر دیا کرتی ہیں۔ کئی بار ان منزلوں پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ اصل منزل تو ابھی کہیں دور ہے۔ زندگیاں کئی بار ایسے الجھائو کا شکار ہوتی ہیں کہ یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ راستے جنہیں ہم اپنی پسند کی منزلوں کی طرف جانے کے لئے اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کوئی رابطہ ان منزلوں سے ہے بھی یا نہیں۔ پاکستان میں شاید یہ کیفیت ہر ایک سوچنے سمجھنے والے شخص پر طاری ہے اور پھر ہر ایک اس کیفیت سے اپنی اپنی طبیعت کے اعتبار سے نبرد آزما رہتا ہے۔ ایک عام سی زندگی گزارنے والا ایک میرے جیسا عام آدمی اس بات پر پریشانی اور پژمردگی کا شکار تو رہتا ہے کہ ہم نے اس ملک سے بہت محبت کی ہے لیکن یہ ملک جن لوگوں کے ہتھے چڑھ گیاہے ان کے لئے اس کی کوئی وقعت ہی نہیں۔ ہم جیسے لوگ اس ملک کے لئے جان دینے سے گریز نہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور ہمارے سامنے ہی ہمارے حکمران اس سوہنی دھرتی کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں۔ ایک عام آدمی کی بے بسی دن بہ دن بڑھتی چلی جاتی ہے۔ صبح سویرے اپنے گھر میں موجود وہ جام جم جسے عرف عام میں ٹیلی ویژن کہا جاتا ہے ' پاناما کیس کی کوئی نئی جہت سناتا ہے۔ اس امید کی کرن تھامے کہ شاید اس ملک میں واقعی احتساب کا کوئی نظام جنم لینے والا ہے۔ یہ عام آدمی گھر سے نکلتا ہے اور اس ٹوٹی پھوٹی سڑک کے گڑھوں میں الجھ جاتا ہے جو پچھلے سال سے زیر تعمیر ہیں۔ اس کی حق حلال سے کمائی کمزور سی گاڑی ہر بار جب کسی نئے دھچکے کا شکار ہوتی ہے اس عام آدمی کا دل اچھل کر اس کے حلق میں آجاتا ہے۔ آخر کب یہ سڑک ٹھیک ہوگی' کب معاملات میں کوئی بہتری آئے گی۔ وہ دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔ ان حکمرانوں کو کیا معلوم کہ ایک آدمی کی زندگی میں کیسی کیسی پریشانیاں ہیں؟ ۔ انہوں نے تو اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے اس ملک کو ایک ایسی موٹروے بنوا دی جس کی اس وقت اس ملک کو ضرورت بھی نہ تھی۔ وہ موٹر وے اس کمزور معیشت والے ملک کے لئے ایک بہت بڑا بوجھ تھی لیکن کیا کرتے کہ اس کو اپنے کاندھوں پر لاد کر چلنا اس وقت اس ملک کی مجبوری تھی۔ حاکم وقت کا حکم تھا اور اس سے مفر ممکن ہی نہ تھا۔ یہ ملک جانے اپنی کن خطائوں کے عوض ہم نے ایسے دیوئوں کے پاس گروی رکھا ہے جو آدم بو' آدم بو کرکے کبھی بھی ہم پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس ملک کو ایک سونے کے پنجرے میں قید کرکے یہ کبھی بھی اسے خوف کی فضا سے آزاد نہیں ہونے دیتے۔ اس ملک کی محبت میں ہم جیسے بونے ان کے قدموں کے پاس ہی گھوما پھرا کرتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری یہ عاجزانہ حرکتیں اور چاپلوسی والے لہجے ان کے دلوں کے میل کو موم کردیں گے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ کوہ قاف کے دیو ایسے ملکوں کو اپنے پاس ہمیشہ ہی قید رکھتے ہیں اور ہم جیسے بونوں کی بے بسی سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ پاناما لیکس جیسے کتنے ہی قصے ہمارے راستے میں آئے اور اپنی اپنی کتھا سنا کر چلے گئے۔ ہم نے نہ کبھی ان کہانیوں سے کوئی سبق سیکھا' نہ اپنے رویوں میں کوئی تبدیلی کی۔ ان کہانیوں کے کوڑھ زدہ جسموں نے کبھی ہم جیسے لوگوں کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ ہم بدلتے ہی نہیں۔ کسی صورت بھی نہیں۔ شاید اس لئے کہ ہم بدلنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ ہمیں بدلنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم زندگی اور سکوں میں الجھ گئے ہیں۔ ہماری زندگی ان سکوں کی جھنکار کے ارد گرد ناچتی پھرتی ہے۔ کیسی الجھن ہے۔ اس الجھن میں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ سارے راستے آپس میں الجھتے اور گڈ مڈ ہوتے رہتے ہیں اور یوں ہی اچانک کسی موڑ پر کسی احاطے میں کوئی دھماکہ ہو جاتا ہے۔ وہ دھماکہ جو کتنے گھروں کے صحنوں میں موت کے سائے پھیلا دیتا ہے۔ خاموشی کی دبیز چادروں کے نیچے سسکیاں ہلکورے کھاتی رہتی ہیں اور ہم معمول کی طرح اپنی اپنی ڈگر پر گامزن رہتے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے بس ایک اندھا سفر جاری رہتا ہے۔ نہ راستوں کا تعین ہوتا ہے نہ منزلوں کی کوئی خبر ملتی ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ یہ بے خیالی کب تک رہے گی۔ کب تک بے فیض راستوں پر یہ مشقت جاری رہے گی اور اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ لا حاصل کا یہ سفر کب تمام ہوگا۔ اس ملک کے غریب لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے یہ حکمران اپنی تعیشات کی خریداری میں مصروف رہتے ہیں۔ پانا لیکس اور ایسے کئی کیس محض ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ اس ملک کے لوگوں کی محدود سوچ کے ٹھٹھے اڑاتے ہیں۔ ہمیں کوئی کہتا ہے کہ منزل اس جانب ہے اور ہم اپنے اندھے پن میں ا کی آواز کی سمت میں چل پڑتے ہیں۔ کیا منزلیں یوں ملا کرتی ہیں۔ اندھیرے میں سے کوئی آواز سنائی دے اور اس کی جانب سفر شروع ہو جائے۔ منزلیں ایسے کب ملتی ہیں۔ منزلوں کا تعین تو حکمت سے ہوتاہے۔ ترجیحات کیا کرتی ہیں' عقل و دانش کی آواز اس سمت میں ہاتھ تھام کر لے جاتی ہے ۔ اس کے لئے فیصلہ کرنا پڑتا ہے' سوچنا سمجھنا پڑتا ہے ۔ ہم نے یہ سب کب کیا۔ ہمیں تو نہ اپنی ترجیحات کاعلم ہے اور نہ ہی ان ترجیحات کا تعین ہے۔ ہمیں منزلیں کہاں مل سکتی ہیں۔ یہ منزلیں آخر کب تک خود اپنی جانب ہمیں بلائیں گی۔ ہم تو وہ جاہل ہیں جنہیں خود اپنے مفاد کا علم نہیں۔ تبھی تو ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری منزل کہاں ہے؟

متعلقہ خبریں