ادبی وکالمی جیمز بانڈ

ادبی وکالمی جیمز بانڈ

کالم نگاری کے حوالے سے میری اپنی رائے یہ ہے کہ کالم نگار کبھی بھی کامیاب اور اچھا کالم نگار نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی ذات کی منفی عینک کا استعمال ترک نہ کرے ۔میری مراد یہ ہے کہ انسان چیزوں کو اپنی آنکھ سے تو دیکھتا ہے لیکن اس دیکھنے کا بھی تو دو طرح کا انداز ہوتا ہے ایک منفی اور ایک مثبت ۔منفی انداز سے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ کسی کی صرف برائیاں ہی تلاش کی جائیںجن میں اکثر وہ برائیاں برائیاں ہی نہیں ہوتیں لیکن کالم نگار کی ''دروں بیں ''نظر انہیں دیکھ ہی لیتی ہے۔جبکہ مثبت انداز نظر میں بھی کسی شخصیت یاادارے میں موجود مثبت حوالوں کو تلاش کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ناموجود مثبت حوالوں کو بھی اسی دروں بینی سے تلاش کرلیا جاتا ہے ۔ کالم نگار چونکہ اسی معاشرے کا ایک انسان ہوتا ہے اس لیے ''بوقت ضرورت ''کچھ بھی کام آسکتا ہے ۔ البتہ پہلی والی صورت کافی مکروہ ہے ۔ کسی کو کالم میں نیچا دکھانا اور وہ بھی ذاتی مقاصد یا ذاتی رنج کی وجہ سے یا ذاتی عناد یا ذاتی تعصب کی وجہ سے تو یہ کم از کم کالم نگاری کا منصب نہیں ہوسکتا ۔ کالم نگاری یقیناایک مقدس عمل ہے کہ جس میں کالم نگار کواپنی گندگیوں کو نہیں شامل کرنا چاہیئے۔ کسی فلم کا ایک ڈائیلاگ یاد آریا ہے کہ ''سب دِکھتا ہے ''یقین جانیے کہ کالم نگار ی میں بھی سب دِکھتا ہے ،کالم کے حروف کالم نگارکو ایکسپوز کردیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں مقامی اور ملکی سطح کے اخبارات کے کالم نگاروں میں بڑی تعداد خود کو اپنے تعصبات سے نہیں بچا سکتی اور ان کا قلم کہیں کہیں بہک ہی جاتا ہے ۔ بے شک کالم نگار عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کے پاس کسی بھی حوالے سے تنقید کا حق ضرور ہوتا ہے لیکن تنقید کا یہ حق اپنی ذات کے حوالے سے استعمال کرنا ایساہی ہے کہ جیسے کوئی پولیس والا اپنی وردی کے بل بوتے پر کسی ہتھ ریڑھی والے سے زبردستی کیلے ہتھیا لے حالانکہ اسے وردی پہنانے والے کبھی اسے یہ حق نہیں دیتے ۔سو عوام کے دیے ہوئے حق کاذاتی استعمال ناجائز ہے ۔ہمارے ہاں دو قسم کے کالم نگار پائے جاتے ہیں ایک وہ جو صحافت کے راستے کالم نگار بنتے ہیں اوردوسرے وہ جو ادب کی ڈگری لے کر کالم نگاری کرتے ہیں ۔ صحافتی پس منظر کے کالم نگاروں کے کالموں کی بنیاد خبر ہی ہوتی ہے اور وہ کسی خبر یا اس خبر کے پس منظر یا پیش منظر کو بنیاد بناکر کالم گھڑتے ہیں ۔ ان کالموں میں تعصبات ہوتے ہیں کہ جن کا تعلق سیاسی میلان یا سیاسی نقطہ نظر سے پسند یا ناپسند کا تعین کرتا ہے ۔جبکہ ادیب کالم نگاروں کا عمومی مسئلہ ''ادیب گردی ''ہی ہوتا ہے ۔ مخالف شاعروںکونیچا دکھانا ان کا مقصد حیات ہوتا ہے ۔ اپنے دو نمبر دوست شاعروں ،نثرنگاروں کا شیکسپیئر اور غالب کے ہم پلہ جتوانے میں ان کا قلم فراٹے بھرنے لگتا ہے ۔ اب چونکہ ان کے مخالف شاعر یا ادیب کالم نگار نہیں ہوتے یا انہیں کالم نگاری سے شغف نہیں ہوتا اس لیے وہ بیچارے ان ادیب نمااور کالم نگارنمالکھاریوں سے یونہی دبتے رہتے ورنہ بقول شاعر ہم بھی منہ میں زباں رکھتے ہیں لیکن چونکہ ان کا کالم نگاروں کا ایک ''سینڈیکیٹ ''ہوتا ہے کہ جہاں سے جب کوئی شاعر راندہ ہوا پھر اسے کوئی نہیں پوچھتا ۔ایسے کالم نگاروں کو بھی جانتا ہوں جو بھری محفلوں میں معزز ومعتبر اور بزرگ شاعروں کی پگڑیاں تک اچھال چکے ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے پاس کالم نگاری کا لائسنس ہوتا ہے اس لیے وہ کسی کو کسی بھی وقت بے عزت کرسکتے ہیں ۔جیسے فلم میں جیمز بانڈ کو ''لائسنس ٹو کِل''کی سہولت میسر ہوتی ہے ، یعنی وہ جب جسے چاہے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ حالانکہ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ پھول کی خوشبوکو کسی طور نہیں روکا جاسکتا اور کوئی کسی کا رزق نہیں چھین سکتا اور سب سے اہم بات یہ کہ خود اللہ کا فرمان ہے کہ میں جسے چاہوں عزت دے دوں اور جسے چاہوں عزت نہ دوں تو پھر میں یا آپ یا کوئی کالم نگار اپنے حرف سے کسی کی بے عزتی کیوں کرے کہ جب خود ہم میں وہ سب خامیاں موجود ہوں کہ جن کا مذکور ہم دوسرے کے لیے روا رکھتے ہیں ۔ حرف کی بڑی تکریم ہے اور ایک ادیب اسے نہ سمجھے تو کوئی کیا کرسکتا ہے ۔ آئیے اب ہمارے استاد ڈاکٹر نذیز تبسم کے شعر پڑھئیے ۔پشاور کے اس سپوت کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا ہے کہ جس تمغے کو ان کی شاعری خوب جسٹی فائی کرتی ہے۔

مجھے بچوں سے خوف آنے لگا ہے
یہ بچپن ہی میں بوڑھے ہوگئے ہیں
نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی
اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی
بس اک طرزرفاقت ہے جسے نبھاتے ہیں جسے ورنہ
بہت سے دوستوںسے دوستی اچھی نہیں لگتی
تبسم یہ میرا ایمان ہے جب تک حریفوں کا
قدوقامت نہ ہو تو دشمنی اچھی نہیں لگتی
میں نفرت اور محبت دونوں میں شدت کا قائل ہوں
مجھے جذبوں کی خانہ پریہ اچھی نہیں لگتی
تبسم تیرے دشمن کی یہ چالیں نہیں تھیں
سو تیرے دوستوں کی اس میں فنکاری لگے ہے
کہ جس طرح سے اداکار لوگ ملتے ہیں
اسی طرح سے ہمیں یار لوگ ملتے ہیں
نذیر مجھے اس جنگل سے خوف آنے لگا ہے
کہ اس میں اب تو میرے یار بھی گم ہورہے ہیں
اعتبار رکھتا تھا یہ دوستی کا لفظ
اس لفظ کا تو جیسے حوالہ بدل گیا
کہانی کیا سناؤں اپنے گھر کی
تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

متعلقہ خبریں