احتیاط علاج سے بہتر

احتیاط علاج سے بہتر

  1. یہ بنی نو ع انسانوں کی خو ش قسمتی ہے کہ میڈیکل سائنس میں تحقیق اورترقی کی وجہ سے پو ری دنیا میں سال 1990ء سے سال 2013 ء تک یعنی 23 سالوں میں عام لوگوں کی متوقع یعنی اوسط عمر میں سات سال کا اضافہ ہوا۔ 1990ء میں عام لوگوں کی متوقع یعنی اوسط عمر 65 سال ہوا کرتی تھی اور اب میڈیکل سائنس میں ترقی کی وجہ سے اوسط زندگی 72 سال تک پہنچ گئی۔عالمی سطح پر مر دوں کی عمر میں5.8سال اور عورتوں کی عمر میں6.6سال اضافہ ہوا۔بر طانیہ کے ہیلتھ میگزین کے مطابق اس دوران کینسر سے شرح اموات میں 15 فی صد، اور دل کے امراض میں 22 فی صد کمی واقع ہوئی۔جبکہ اسکے بر عکس اسی تحقیقی جرنل کے مطا بق سال 1990ء سے 2013ء تک جگرکے کینسر میں 125 فی صد، گر دوں کی وجہ سے شرح اموات میں 37 فی صد ، شوگر کی وجہ سے شرح اموات میں 9 فی صد اور لبلبے کے کینسر کی وجہ سے 7 فی صد اضا فہ ہوا۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ دنیا میں جہاں دل کے امراض میں کمی واقع ہو رہی ہے پاکستان میں شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض میں حدسے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پنڈی میں میرے محلے میں دونوجوان لڑکے اور ایک نوجوان لڑکی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔ ان کی عمریں 25 اور 35 سال کے درمیان تھیں۔ ایک زمانہ تھا جب شوگر اور امراض قلب کو مالدار اور صا حب ثروت لوگوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا مگر اب اس بیماری میں بچے اور نوجوان بھی مبتلا ہیں۔ گزشتہ روز ملک کے مایہ ناز میڈیکل سپیشلسٹ ، جنیاتی انجینئرنگ اور امراض قلب کے ماہر سید علی رضاکا ظمی سے ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر کاظمی کا کہنا ہے کہ ا گرہم چینی، نمک کا استعمال کم سے کم کردیں وزن کو قابو رکھیں اورچہل قدمی کو معمول بنائیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وطن عزیز میں ہائی بلڈ پریشراور شوگرسے شرح اموات میں کمی واقع نہ ہو۔ہائی بلڈ پریشر کی بُہت ساری وجوہات ہیں جن میں تمباکو نو شی، شوگر کا مرض، کاہلی سستی اور آرام طلبی، جسمانی مشقت کی کمی،پو ٹا شیم، کیلشیم، میگنیشیم اور وٹا من ڈی کی کمی،شراب نو شی اورا لکو حل کا استعمال،ذہنی تنائو اور ڈیپریشن،عمر کا تقاضا، اسقاط حمل اور مانع حمل ادویات کا استعمال،وراثتی بلڈ پریشر ، گر دوں کی کوئی پیچیدہ بیماری، تھارائیڈ کے مسائل اور جسم میں رسولی کی موجو دگی، وزن کا بڑھ جانا، ورزش کی کمی وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ نُقصان دہ نمک ،فا سٹ فوڈ' تلی ہوئی اشیائاوراسکے علاوہ مختلف قسم کے غیر معیاری چپس کا بے تحا شا اور غیر ضروری استعمال ہے۔ بلڈ پریشر کی علامات میں شدید سر درد، تھکان ، بے چینی کی کیفیات کا شکار ہونا،چکر آنا، متلی، بصارت اور دیکھنے کے مسائل، سینے میں تکلیف، نیند کی کمی ، سانس میں مسائل، دل کی بے ترتیب دھڑکن اور چھوٹے پیشاب میں خون آنا اور عمر کے آخری حصے میں پہچاننے کی صلا حیت میں کمی واقع ہونا شامل ہے۔بچوں میں دل کے امراض کی وجوہات میں سب سے اہم کردار نمک ، بچوں کے پاپڑ اور حد سے زیادہ دوسری نمکین چیزوں کا استعمال ہے۔ پوری دنیاکی 6ارب آبادی میں ڈیڑھ ارب لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ یہاں بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ دنیا میں 50 فی صد لوگوں کواپنے ہا ئی بلڈ پریشر کا پتہ نہیں ہو تا ۔ امریکہ میں سال 2000 سے سال 2009 تک مو ٹاپے میں 53 فی صد تک اور پاکستان میں اس میں 30 فی صد تک اضا فہ ہوا۔ ایک محتا ط اندازے کے مطابق زیادہ نمک کے استعمال کی وجہ سے اور اس سے پیدا شدہ بیماریوں کی وجہ سے امریکہ میں 24 ارب ڈا لرسالانہ ، پاکستان میں 20ارب ڈالر اور پوری دنیا میں1200ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں ۔ سکول اور کالج کے 63فی صد سے لیکر 73فی صد تک بچوں میں مو ٹاپے کا رجحان ہے۔طبی نکتہ نظر میں120/ 80 منا سب بلڈ پریشر جبکہ 140/ 90کو ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ایک بڑے یعنی با لغ انسان کو 6 گرام یعنی چائے کا چھوٹا در میانہ چمچہ نمک دن میں استعمال کرنا چاہئے جبکہ نا بالغ بچوں کو دن میں تین گرام نمک ستعمال کرنا چاہئے ۔ اگر ہم خوراک میں نمک نہ بھی استعمال کریں تو کوئی قباحت نہیں کیونکہ خوراک میں پہلے سے نمک قدرتی طور پر پایا جاتا ہے وہ انسانی جسم کے لئے کافی ہوتی ہے ۔اگر ہم رو زانہ 1.8گرام تک نمک کا استعمال کریں تو اس سے اوپر والے بلڈ پریشر میں 5mmاور نیچے والے بلڈ پریشر میں 2.7 mmتک کمی ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں اگر کوئی اپنے جسم کے وزن کے حساب سے یعنی ایک کلوگرام کے حساب سے ایک گرام نمک کا استعمال کرے تو اس سے اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔با الفا ظ دیگر اگر کسی کا وزن 50کلو گرام ہے اور وہ 50 گرام نمک ایک دن میں استعمال کرے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ بلڈ پریشر اور وزن کو کنٹرول کرنے کے لئے دن میں کم ازکم 45 منٹ تیز واک،چینی کاکم سے کم استعمال،اپنی طر ز زندگی میں مُثبت تبدیلی لانا،ٹینشن ڈیپریشن اورپریشانی کو اسلامی اصولوں صبر، شکر ،نماز و ذکر سے کنٹرول کرنے کی سعی کرنا ، ما دی معا ملات میں اپنے سے بڑوں کے بجائے چھوٹوں کو دیکھنا اور اللہ کا شکر کا بجا لانا سب سے اہم اور قابل ذکر باتیں ہیں۔ہمیں اپنی خواراک میں کیلشیم کا بھی استعمال کرنا چاہئے کیونکہ کیلشیم سے وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔ جب ہمارا وزن اعتدال پر ہو گا تو ہمارا بلڈ پریشر قابو ہو گا۔

متعلقہ خبریں