غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وزیر اعظم کی دعوت

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وزیر اعظم کی دعوت

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے مختلف بین الاقوامی کارپوریشنوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تمام اقتصادی اعشارئیے مثبت ہوئے ہیں۔پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے ایک نئی پرکشش منزل ہے جہاں سیکورٹی اور پرکشش منافع ان کا منتظر ہے۔ ڈیووس میں مختلف بین الاقوامی کارپوریشنز کے نمائندوں نے ملاقات کے دوران وزیر اعظم کو بتایا کہ ترقی پذیر ملکوں میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری نے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع پیدا کئے ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ سی پیک منصوبہ کے تناظر میں پاکستان کے اقتصادی اعشارئیے مثبت پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت میں بہتری لا رہے ہیں۔ اس منصوبے نے دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کی طرف سے نجی سطح کے علاوہ کئی ممالک کو بھی اپنے اپنے طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لینے پر مجبور کردیا ہے۔ اگرچہ راہداری ابھی مکمل طور پر تکمیل پذیر نہیں ہوئی اور ملک کے اندر بھی چھوٹے صوبوں میں اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اس کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارت جیسا پاکستان کا ازلی دشمن اس منصوبے کے خلاف سازشوں کے جال بن رہا ہے جس میں مبینہ طور پر اس کی پشت پناہی امریکہ اور تعاون افغانستان کر رہا ہے۔ مگر پاکستان کی بہادر افواج نے اس کے منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے اسے خاک چاٹنے پر مجبور کردیا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی بحری افواج نے ایک بھارتی آبدوز کو گوادر کے قریب پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اسے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس سے پہلے کلبھوشن یادو کے جاسوسی نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ پاکستان کے کمانڈر ان چیف نے بھارت کو اپنے معاندانہ روئیے کو ترک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ امن سے رہے تو وہ بھی سی پیک منصوبے سے استفادہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب روس اور بعض وسط ایشیائی ریاستوں نے بھی پاک چین اقتصادی راہداری میں شمولیت کا جو عندیہ دیا ہے اس سے نہ صرف اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے بلکہ چین کے بحری بیڑے نے آکر گوادر میں اس منصوبے کے تحفظ کے لئے پاکستانی بحری افواج کے شانہ بشانہ ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس منصوبے کی افادیت اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک نے اس میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ نے بھی ایسی ہی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اسے خطے میں گیم چینجر قرار دے رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہی تاثر ابھر رہا ہے اور دنیا کے مختلف کنسورشیم اور بڑی بڑی کارپوریشنیں اس میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ کیونکہ اس قسم کے اقتصادی اور سرمایہ کاری اداروں کا بنیادی مقصد بہتر شرائط اور سہولیات کی فراہمی کے ساتھ اپنے سرمائے اور منافع کی بہ آسانی واپسی ہوتی ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں یقین دلا دیا ہے کہ اگر وہ راہداری کے ساتھ منسلک اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں گی تو ان کو پرکشش منافع کے ساتھ سرمایہ کاری کی سیکورٹی بھی فراہم کی جائے گی۔ اس ضمن میں علی بابا گروپ کے چیئر مین جیک مانے وزیر اعظم کو کمپنی کے مرکز گوانگ ژو کے دورے کی دعوت دی جس کے جواب میں وزیر اعظم نے بھی انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ جیک مانے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے اور امید ہے کہ پاکستان کے اندر سی پیک روٹ کے ساتھ جہاں جہاں چھوٹی صنعتی بستیاں بسائی جائیں گی وہاں ملکی کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے ایک صنعتی انقلاب برپا ہوگا اور ان علاقوں کے عوام کے لئے روز گار کے دروازے کھلیں گے۔ اس کے علاوہ زندگی کے تقریباً ہرشعبے میں جمود کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا اور غریب عوام کی حالت بدل جائے گی۔ ڈیووس میں وزیر اعظم نواز شریف کی سرگرمیاں انشاء اللہ جلد رنگ لائیں گی اور دنیا بھر سے سرمایہ کار سی پیک کے حوالے سے قائم ہونے والے اقتصادی زونز میں بھاری سرمایہ لگا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم ضروری امر یہ بھی ہے کہ خود حکومت چھوٹے صوبوں کے تحفظات کو دور کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان صوبوں کی سیاسی قیادت کو مطمئن کرے تاکہ جب پورا ملک یک زبان ہو کر اس اقتصادی راہداری کے بارے میں رطب اللسان ہو جائے تو بیرونی سرمایہ کاروں کو کسی بھی قسم کے تحفظات ظاہر کرنے کا موقع نہ ملے اور وہ اطمینان قلب سے اپنا سرمایہ لا کر استعمال کریں اور انہیں نہ اپنے سرمائے کے ڈوبنے کا خدشہ ہو نہ ہی منافع واپس لے جانے میں کوئی مشکل پیش آئے ۔ اگر ملک کے اندر چھوٹے صوبے حرف شکایت زبان پر لاتے رہیں گے تو بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات معدوم ہی رہیں گے۔

متعلقہ خبریں