بھارت کے ساتھ مفاہمت

بھارت کے ساتھ مفاہمت

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔ انہوں نے پاک افغان صورتحال کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی سلامتی افغان امن سے منسلک ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جس طرح آزادی کی تحریک ابھر کر نقطہ عروج پر پہنچی ہے جو خالصتاً کشمیری نوجوانوں کی اپنی تحریک ہے اس کو کچلنے کے لئے بھارتی افواج نے جو بہیمانہ طور طریقے اپنائے ہیں بطور خاص جس طرح پیلٹ گنز سے وہ نہتے نوجوانوں' بچوں' بوڑھوں اور خواتین پر فائرنگ کرکے انہیں شہید' زخمی اور بینائی سے محروم کرنے کی کارروائیاں کر رہی ہیں ان سے بھارتی افواج کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو جیلوں اور گھروں میں نظر بند کرکے بھی بھارتی افواج تحریک کو دبانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ سید علی گیلانی کو پیرانہ سالی میں گھر میں نظر بند کیاگیا۔ میر واعظ عمر فاروق کو بھی ایسی ہی صورتحال سے دو چار کیا گیا جبکہ یاسین ملک کو دوران قید تشدد کرکے ان کے ہاتھ کو ناکارہ کردیاگیا۔ اس صورتحال پر پاکستان کو تشویش ہونا فطری امر ہے اس لئے کہ کشمیر کا تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہوا جبکہ اس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ابھی تک تصفیہ طلب ہے اور اسی کارن پاکستان کشمیریوں کی قانونی' اخلاقی اور سیاسی حمایت کرنے کا پابند ہے۔ اس ضمن میں بھارتی افواج کی حالیہ بہیمانہ کارروائیوں کے خلاف خود بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور سابق وزرائے اعلیٰ مقبوضہ کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے بھی بھارت کو بہ زور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جاری رکھنے سے منع کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے ۔ اس صورتحال کے بعد بھارت کے پاس اس بات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ جلد از جلد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالتے ہوئے وفود کا تبادلہ کرے اور مسئلے کا مناسب حل ڈھونڈ نکالے بصورت دیگر مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والا انسانی طوفان رکنے والا نہیں ہے۔
رشکئی صنعتی زون کی تعمیر کا معاہدہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ بن چکا ے جسے باقاعدہ تحریری شکل بھی دی جا چکی ہے اور منٹس آچکے ہیں۔ گلگت سے شندور' چترال تا چکدرہ سی پیک کا متبادل روٹ ہے اس روٹ کی توسیع پر چینی کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو پر جلد دستخط ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں صنعت کاری کو معیشت کا بنیادی زینہ سمجھتے ہوئے بین الاقوامی خطوط پر کام کر رہی ہے۔ ہمارے پاس بے شمار قدرتی وسائل موجود ہیں جبکہ سی پیک کی وجہ سے صوبے کی جغرافیائی اہمیت کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار صوبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعلیٰ کے حالیہ دورہ چین کے دوران صوبے کے لئے بعض منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کا تعلق ہے نظر بظاہر اس کو خوش آئند اور صوبے کے لئے سود مند قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ تاہم اس ضمن میں خود صوبے میں بر سر اقتدار جماعت تحریک انصاف کے ساتھ تعلق رکھنے والے سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے سی پیک کے اصل روٹ کو منصوبے میں شامل کرنے کے لئے جو رٹ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس کو ابھی تک واپس نہ لینے کے پیچھے کیا حقائق پوشیدہ ہیں اس سے وزیر اعلیٰ کے دعوئوں پرسوال اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ صوبے کی دیگر سیاسی قیادت بھی اس قسم کی ''طفل تسلیوں'' سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی جبکہ صوبے کے ساتھ تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی اور تجزیہ کار نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ چین میں وزیر اعلیٰ کو صرف اپنے حلقہ انتخاب رشکئی منصوبے پر ٹرخا کر اسحاق ڈار نے دستخط کر وا لئے ہیں۔ ان باتوں میں کس حدتک صداقت ہے اس کا تب پتہ چلے گا جب صوبائی حکومت صوبے کی سیاسی قیادت پر مشتمل اے پی سی بلوا کر وہ تمام حقائق اس کے سامنے رکھ دے جن کا دعویٰ وزیر اعلیٰ نے منٹس آنے کے حوالے سے کیا ہے اور ایم او یوز کی مکمل تفصیل بھی فراہم کی جائے۔ مخالف سیاسی عناصر کی باتوں کو اگر حزب اختلاف کا پروپیگنڈہ بھی قرار دیا جائے تو خود صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے روئیے کو کیا نام دیا جائے جن کا نام گزشتہ روز ہونے والی بریفنگ میں شرکت کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید دال میں ابھی بھی کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

متعلقہ خبریں