صدر اشرف غنی افغان امن کی طرف توجہ دیں

صدر اشرف غنی افغان امن کی طرف توجہ دیں

مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے کی بجائے اپنے ملک کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے گزشتہ روز پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ٹیلفونی گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد حملے کرنے والے پاکستان میں آزادانہ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے ان سے کہا تھا کہ پاک افغان سرحدی انتظام کے لیے پاکستان جو کوششیں کر رہا ہے ان میں افغانستان کا تعاون دونوں ملکوں کے درمیان غیر قانونی آمدورفت اور ناپسندیدہ اور مشتبہ افراد کے سرحد پارکرنے کو روک سکے گا۔ جنرل باجوہ نے صدر اشرف غنی کو ایک بار پھر دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے کا نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ کچھ عرصہ پہلے جب ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے امکان روشن ہوئے تھے لیکن عین معاہدہ کا وقت قریب آنے پر افغان خفیہ کار ایجنسی نیشنل ڈیفنس سروس نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی سے معلومات کے تبادلہ کی تجویز ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان میں جو بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے افغان حکمران اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں۔ اس رویہ سے خود افغان حکمرانوں کے لیے افغان تنازعہ کے حل کی راہ میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اگر افغانستان واقعی سمجھتا ہے کہ پاکستان سے شرپسندعناصر جا کر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو اسے انٹیلی جنس کے تبادلہ اور سرحد کے انتظام کی تجویز پر فوری طور پر آمادہ ہو جانا چاہیے۔ لیکن ان موضوعات پر افغان حکومت کی خاموشی سے یہ تاثرابھرتا ہے کہ افغان حکمران خود افغانستان کے مسئلہ کے افغان حل کی بجائے یہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی اور ان کے لیے قوت کے ذریعے مسائل حل کر دے گا۔ یہ توقع سالہا سال سے پوری نہیں ہوئی۔ امریکہ کے افغانستان پر تسلط کے عشرہ کے دوران اور اس کے بعد افغانستان میں کرزئی اور اشرف غنی کی حکومت کے دوران امریکہ کی فوجی قوت بھارت کے تعاون کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس لیے افغانستان کے حکمرانوں کو افغان تنازعہ کے برقراررہنے کی وجوہ پر نئے سرے سے غور کرنا چاہیے۔ جب امریکی افواج افغانستان میں تھیں تب بھی پاکستان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ یہاں سے انتہا پسند افغانستان جا کر حملہ آور ہو تے ہیں۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور حکومت میں بھی یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ جب کہ پاکستان ان ادوار میں خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ پاکستان میں 2014ء میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا۔ دو سال کے عرصہ میں پاکستان سے انتہا پسندوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ بیشتر انتہا پسند عناصر فرار ہو کر افغانستان گئے جنہیں افغان حکومت نے نہیں روکا اور نہ امریکی افواج نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ 

آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے بھی افغانستان کی طرف سے الزامات لگتے تھے اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد بھی افغانستان کی طرف سے الزامات لگتے رہتے تھے کہ انتہا پسند پاکستان سے جا کر افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔ یہ رویہ افغان حکمرانوں کااپنے ملک کے حقائق سے نظریں چرانے اور بہانے تلاش کرنے کا ہے جو مسائل کا حل نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان تنازعہ کے پرامن حل کی کوئی ایسی کوشش نظرنہیں آتی جس کے ذریعے افغان حکومت اپنے مقاصد یعنی افغانستان میں امن کے امکانات کو آگے بڑھانے پر متوجہ ہو۔ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے ۔ ان میں بہتری آتی ہے یا ابتری ۔ افغانستان میں حقیقت یہ ہے کہ تیس فیصد سے زیادہ علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔وہ وہاںعدالتیں لگاتے ہیں اور انتظام چلاتے ہیں یعنی اس علاقے میں وہ مقبول عوام ہیں ۔ اس کے علاوہ گزشتہ دوسال کے دوران پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے عناصر افغانستان ہی میں ہیں۔ القاعدہ کے عناصر وہاں پہلے سے موجود ہیں اور اب کچھ عرصے سے داعش نے بھی وہاں اثر ونفوذ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان انتہاپسند تنظیموں کے وہاں جگہ پانے کی وجہ یہی ہے کہ وہ عدم استحکام کے شکار افغانستان میں پنپ سکتی ہیں جہاں مرکزی حکومت کا پورے ملک پر کنٹرول نہیں ہے۔ افغان حکومت اور اس کی حامی افواج اس علاقے پر اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے کچھ کر بھی نہیں رہی ہیں۔ البتہ محض طالبان کو ملک کے مزید علاقے پر قابض ہونے سے روکے جانے پر متوجہ ہے۔ خود افغان حکومت صدر اشرف اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ میں تقسیم نظر آتی ہے۔ طالبان سے مذاکرات کی کوئی کوشش دونوں کے اتفاق رائے ہی کی بدولت آگے بڑھ سکتی ہے۔ لیکن واضح حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا انحصار ایک متحدہ 'پرامن اور مستحکم افغانستان کی صورت ہی میںممکن ہے۔ اس کے لیے صدر اشرف غنی کواپنی حامی بین الاقوامی قوتوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ طالبان سے مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایسے قومی اتفاق رائے کے لیے راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے جس میں طالبان بھی مستقبل اور امید دیکھ سکیں۔ افغانستان میں خود افغانوںکا تشکیل کردہ حل ہی دیر پا امن قائم کر سکتا ہے۔ افغانستان میں حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی طرف پیش رفت ہو گی تو لامحالہ انتہا پسند کارروائیاں رک جائیں گی۔ اور افغان عوام کو دہشت گردی کے واقعات کی بنا پراپنا رویہ منضبط کرنے کی بجائے پرامن افغانستان کی امیدکی بنیاد پر اپنا رویہ اختیار کرنے کا موقع ملے گا۔ یہی افغانستان کے مستقبل کی ضمانت ہوگا۔

متعلقہ خبریں