سیاپا فروشوں کے ذاتی دکھ اور کرپشن کہانی

سیاپا فروشوں کے ذاتی دکھ اور کرپشن کہانی

سیاپا فروشوں کے اپنے دکھ بہت ہیں۔لاریب کرپشن ہوئی اور بے حساب ہوئی۔گنگا میں سب کودے اور خوب اشنان کیا۔رسیدیں رکھنے والے اب استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ملتانی وزیراعظم کے لئے جو حرام تھا لہوری وزیراعظم کے لئے حلال ہو گا۔زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت وصول کرنے کی بڑھکیں ہوا ہوئیں۔اونٹ پہاڑ کے نیچے آ چکا۔ دیکھنا یہ ہے کہ فیصلے اور ،معیار بدلتے ہیں یا حسب سابق معاملات رہتے ہیں۔سوالات بہت ہیں مگر کس سے کئے جائیں۔ ہمارے ایک دوست کو فہمیدہ مرزا سے چڑ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان کی اہلیہ کو آئوٹ آف ٹرن ترقی دینے کی بجائے حق دار کو حق دیا۔ کبھی کسی نے اس سیاپا فروش سے یہ سوال نہیں کیا۔ پرائمری سکول کی معلمہ قومی اسمبلی کے عملے میں تو سید یوسف رضا گیلانی کی مہربانی سے شامل ہوئی تھی۔ گیلانی ان دنوں قومی اسمبلی کے سپیکر تھے ان پر کبھی سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ انہوں نے سرائیکی وسیب کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور اسلام آباد میں ملازمتیں دلوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 

ایک صبح ان کے دفتر میں ہمارا یہ سیاپا فروش بہ نفس نفیس حاضر ہوا۔ سید بادشاہ سے درخواست کی کہ ان کی اہلیہ کو قومی اسمبلی میں ملازمت دے دی جائے' بچے چھوٹے ہیں۔ میں اسلام آباد میں ہوں اور بیگم وہاڑی میں۔ سید بادشاہ تو بادشاہ تھے سرائیکی بھائی کی غریب الوطنی کا مداوا کردیا۔ پھر ایک دن فلیٹ الاٹ کروانے کے لئے سفارش کا کہا' شاہ جی کے در سے سوالی خالی نہ گیا۔ پچھلے 21سال سے میاں بیوی ایک ایسے فلیٹ میں براجمان ہیں جو بیگم کے گریڈ سے بالائی درجہ کا ہے۔ مگر سیاست دان سب چور ہیں۔ گیلانی اور فہمیدہ مرزا تو واجب القتل۔ جب کبھی اس سیاپا فروش کے واویلے سنتا پڑھتا ہوں بے اختیار سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد کانوں میں رس گھولنے لگتا ہے۔ '' جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو''۔
بالادست طبقات کی منہ زوریوں اور بے مہار کرپشن کے قصے بہت ہیں تین چار ہزار روپے سالانہ کا ٹیکس دینے والے کروڑ پتیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ مگر کیا کرپشن فقط دولت لوٹنے کو کہتے ہیں؟۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کرپشن کی ہزاروں اقسام ہیں۔ ناجائز دولت لوٹنا تو بس ان میں سے ایک ہے۔ یہاں فکری کرپشن بھی ہے' سیاسی بھی۔ ادبی بھی ہے اور مقدسات کے نام پر لوگوں کے جذبات ابھارنے کا ہتھیار بھی۔ ایک طرح سے کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ پانامہ کیس میں ہر دن قلا بازیاں لگ رہی ہیں۔ خاندان کو ا حتساب کے لئے پیش کرنے کا تمغہ سینے پر سجائے ہوئے اب استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں بے نظیر بھٹو کا وطن واپسی کے لئے امریکہ کی معرفت پرویز مشرف سے معاہدہ ( این آر او) کرپشن تھا مگر اسی امریکہ کی معرفت نواز شریف کا پرویز مشرف سے 10سال کا معاہدہ زبان بندی و جلا وطنی حب الوطنی شرافت کی سیاست' قربان جائیے اس راگ پر دھمال ڈالتے متوالوں پر اور بالکل قربان جائیے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے اس بیان پر کہ وہ فرماتے ہیں '' عوام میاں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو مسترد کر دیں گے''۔ مطلب گھیرا تنگ ہو رہا ہے ۔
شریف فیملی و ہمنوا یہ جانتے ہیں کہ اسی پانامہ کیس کی سماعت کے دوران قاضی سعید فیملی کے اکائونٹس کے ذریعے ہوئی منی لانڈرنگ کا کٹا کھل سکتا ہے۔ بغور جائزہ لیجئے تو منی لانڈرنگ ہی اصل بنیاد پانامہ ہے۔ جناب اسحاق ڈار کا ایک عدد بیان حلفی اس حوالے سے موجود ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کرپشن نہیں ہوئی اور یہ بھی کہ لندن والی جائیداد 2004ء کے بعد خریدی گئی مگر اس سادہ سے سوال کا جواب کون دے گا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے مالیاتی تنازعہ میں یہی جائیداد شریف فیملی نے 1990ء کی دہائی میں برطانوی بنک کے سامنے سرنڈر کی تھی۔ قرضے کی ادائیگی پر جائیداد واگزار ہوئی۔ اس ادائیگی کے ڈانڈے منی لانڈرنگ سے ملتے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جس کا تشفی بھرا جواب شریف خاندان کے پاس نہیں۔ حالات کیا بننے والے ہیں انہیں سمجھنے کے لئے رانا ثناء اللہ کا بیان کافی و شافی ہے۔ سو اندریں حالات سیاپا فروشوں کی انجمن سے درخواست ہے کہ کرپشن کے خلاف رام لیلائیں سناتے ہوئے ذاتی د کھڑے نہ رویا کیجئے۔ ہو سکے تو غضب کرپشن کی عجب کہانیاں سنانے والے کردار سے سبق سیکھئے جو ایک دن دبئی میں آصف زرداری کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے اور صفائی پیش کرتے ہوئے دو سابق اہم شخصیات کا نام لیا کہ انہوں نے ان کے مالک کے ذریعے انہیں کہانیاں فراہم کی تھیں جو ان کے پروگراموں میں نشر ہوئیں۔'' صحافت کی دنیا کے مکین اور طالب علم دونوں جانتے ہیں کہ بھٹو خاندان سے کسی مرحوم بڑے مالک کا کیا تنازع تھا اور چھوٹے مالک کا میٹرو پول کلب کراچی میں کبھی آصف علی زرداری سے کس بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس مسئلہ پر بات ہو تفصیلات قوم کے سامنے رکھتے وقت ذاتی دکھوں کو شامل نہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ کرپشن ہمہ قسم کی کرپشن کا شافی علاج بہت ضروری ہے۔ اس علاج کا ایک حصہ تو لوگوں کے بس میں ہے وہ کرپشن زدہ سیاستدانوں کو ووٹ نہ دیں۔ دیتے ہیں تو پھر رویا نہ کریں۔

متعلقہ خبریں