انسان بدلتا نہیں

انسان بدلتا نہیں

حضرت علی نے فرما یا ہے کہ دولت ، رتبہ ، اور اختیا ر ملنے سے انسان بدلتا نہیں بلکہ اس کا اصلی چہر ہ سامنے آجا تا ہے ،منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا میڈیا نے ایک ایسا ہوا کھڑ ا کر دیا ہے کہ پو ری دنیا میں بونچھال سا آگیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزر تا کہ نئے امر یکی صدر کے بارے میں اندیشو ں اور خدشات کے لمبے چوڑے فرفرے منظر عا م نہ ہوتے ہو ں۔ ہلچل مچ گئی ہے ، گو کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد ہ سنبھالنے کے بعد اپنی انتظامی پا لیسیوں کی وضاحت کر نی ہے جس کے بعد ہی ٹرمپ انتظامیہ کے خدو خا ل واضح ہو سکیںگے مگر کیا کیا جا ئے کہ پاکستانی رہنماؤں کا وتیرہ بن چکا ہے کہ وہ آقاسے زیادہ آقا کے وفادار بن کر رہنا چاہتے ہیں۔جب فوجی آمر پر ویز مشرف نے جمہو ری حکومت پر ڈاکا ڈالا تو امریکا نے اپنے مفاد کے لیے اس نا م نہا د حکومت سے اپنے اغراض ومقاصد پو رے کرنے کے لیے ایک امریکی قانو ن کا سہارا لیا کہ اس قانو ن کے تحت امریکا کسی غیر جمہوری اور غاصب حکومت کے ساتھ تعاون ومدد نہیں کر سکتا چنانچہ شروع میں پرویز مشرف کو یہ آئینہ دکھاگیا چنا نچہ پر ویز مشرف نے اپنی غیر مشروط وفاداری کے لیے اپنے ایک نمائندے سابق جنرل محمو د کو امریکا بھیجا ، جنہو ں نے اعلیٰ امریکی حکا م کے گرد پھیر ے لگا ئے مگر دال نہیں گلی۔ بات بن ہی نہیں پا رہی تھی کہ ان کے اسی دورے کے دوران نا ئن الیون کا واقعہ ہو گیا۔ بقول جنرل (ر) محمود چند گھنٹے پہلے جو امر یکا گھاس ڈالنے کو تیا ر نہ تھا اس نے یکا یک پاکستان کے سامنے ہا تھ پھیلا دئیے ، اور پھر فوجی آمر نے بھی اپنے اقتدار کے دوام کے لیے حاتم طائی کی قبر پر بھی لا ت ما ردی۔ وہ کچھ امریکا کو پیش کر دیا جس کا امر یکا نے مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔ میاں صاحب بھی اپنے منظور نظر کے نقش قدم پر ہیں منظور نظر اس لیے کہ آرمی چیف کے طورپر پرویز مشرف کی تقرری منظور نظر ہو نے کی بنیادپر ہی کی گئی تھی۔ چنانچہ گزشتہ دنوں ماہر خارجہ امور اور معاون خصوصی امور خارجہ طارق فاطمی کو انہو ں نے اپنے سفیر کے طور پر بھیجا تاکہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ یقین دہا نی کرادیں جیسی پر ویز مشر ف نے بش کو کر ائی تھی۔ وائے قسمت کہ امر یکی حلقو ں نے فاطمی صاحب کو لفٹ ہی نہیں کر ائی جس پر حز ب اختلا ف کے رہنماؤں نے پھبتی کسی اور اس کو پا کستان کی بے عزتی قرار دیا ، تاہم جب دال گلنے کا نا م ہی نہ آیا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق آخری حربے کے طورپر فاطمی صاحب نے ایک اعلیٰ امریکی افسر سے رابطہ کر کے بتایا کہ ان کو اگر چہ ڈونلڈ سمیت کسی امریکی حکام نے ملاقات کا وقت نہ دیا تاہم وہ امر یکا غدار پا کستان شکیل آفریدی کی رہا ئی کے بارے میں پیش کش پر بھی تبادلہ خیال کا ایجنڈا لے کر آئے تھے۔ ان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا بھی ان کو روکھا سا جو ا ب ملا ، اس طرح نو از شریف کی حکو مت نے پا کستان کی بیٹی جس کے بارے میں پو ری دنیا جا نتی ہے کہ وہ بے قصور ہے اور اپنی حکومت کی نااہلی اور خود غرض حکمر انی کی و جہ سے قید و بند کی صعو بتیں برداشت کر رہی ہے اس کی رہا ئی کی جو کر ن جگ مگائی تھی وہ بھی مدہم پڑ گئی ۔

اگرحکو مت یہ سنگین غفلت نہ کرتی تو پا کستانی قوم کو اپنی بیٹی مل جا تی کیو ں کہ صدر اوباما نے قیدیو ں کو معافی دینے کا جو فیصلہ کیا تھا اس میں ڈاکٹر عافیہ کا کیس بھی شامل تھا لیکن رکاوٹ نو از شریف حکو مت کی طر ف سے ہوئی۔جنو ری اٹھا رہ تک پا کستان کے صدر یا وزیر اعظم کی جانب سے عافیہ کی رہا ئی کے لیے کوئی خط نہیں لکھا گیا ، امریکا میں ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کی جانب سے اطلا ع دی گئی تھی کہ امر یکی حکومت چاہتی ہے کہ قانو نی طورپر تما م معاملات طے ہو ں چنا نچہ چند سطور پر مشتمل پا کستان کے وزیر اعظم کی جانب سے خط آئے تو رہا ئی مل جا ئے گی جیسا کہ فاطمی نے امریکی حکام کے ذریعے منتخب صدر ٹرمپ کو پیغام دیا کہ وہ شکیل آفرید ی کو امر یکا کو دینے کے امور پر بات چیت کے لیے بھی ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کو ڈاکٹرعافیہ کی پر واہ نہیں ہے۔ فاطمی کے دور ے کے بعد امریکی حکا م نا راض ہو ئے کہ فاطمی اوباما سے ڈاکٹر عافیہ کی رہا ئی کا مطالبہ یا درخواست کر نے کی بجا ئے ٹرمپ کا انتظار کر رہے ہیں اور شکیل آفرید ی کو ٹرمپ کے حوالے کر کے اس کو نو ا زنا چاہتے ہیں۔ آفرید ی کی حوالگی کا فائدہ اوباما کو دینے سے کیوں ہچکچائے ہیں ، میاں نو از شریف کی نظریں دراصل اوباما یا ٹرمپ پر مہر بانی کے لیے نہیں بلکہ اپنے الیکشن کی طر ف لگی ہوئی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کے ایا م میں شکیل آفریدی کو ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے کر دیا جا ئے اور اس کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کو رہا ئی دلا دی جائے گویا اقتدار کے حصول کی سودا بازی ہے ۔ اسلا م اور پا کستانی معاشرے میں خاتو ن کی کتنی اعلیٰ قدر ومنزلت ہے سبھی جا نتے ہیں ، اس پر بحث کی ضرور ت بھی نہیں ہے۔ مگر تاریخ سبق سکھا تی ہے کہ امریکا جس کا ایک شہر ی ریمنڈ ڈیوس جس کے بارے میں امر یکی صدر بھی جا نتا تھا کہ وہ مجر م ہے لیکن وہ امریکی شہر ی کو باعزت طورپر رہا کر ا لے گیا ، اسی طرح امر یکا شکیل آفریدی کے لیے کا وش کر رہا ہے امر یکا میں اس کو امریکی ہیر و قر ار دیا جاچکا ہے اور امریکا کسی صورت میں کسی سودے بازی کے نتیجے میں شکیل آفریدی کی رہائی کا متمنی نہیںہے۔ اس کا دباؤ یہ ہے کہ اعزاز کے ساتھ شکیل آفرید ی کو رہا کر دیا جائے۔ اب یہ میا ں نو از شریف کی سو چ ہے ان کا فیصلہ کیا ہو تا ہے ویسے لو گ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسی سال انتخابات ہو نے کے امکا نات موجود ہیں صرف سپر یم کو رٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے ۔

متعلقہ خبریں