پشاور کی خبر گیری کی ضرورت

پشاور کی خبر گیری کی ضرورت

گھر سے نکلیے تو پشاور کی سڑکوں پر دھول اڑاتی گاڑیوں اور رکشوں سے پالا پڑتا ہے۔ ہمارا پیارا پشاور آج اپنی تاریخ کے بدترین مسائل سے دوچار ہے ان مسائل کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے بڑھتی ہوئی آبادی سے ہے ۔ پشاور کی آبادی جس تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے وہ پشاور کے باسیوںکے لیے باعث تشویش ہے۔ یہ صوبے کا صدر مقام بھی ہے اور ایک اہم تجارتی مرکز بھی اس نے اپنے ظرف سے بڑھ کر لوگوں کو اپنے دامن میں پناہ دے رکھی ہے لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جس رفتار سے لوگ نقل مکانی کرکے پشاور کی آبادی کا حصہ بن رہے ہیں وہ باعث پریشانی ہے کوئی خوشی سے اپنا گھر بار نہیں چھوڑتا حالات ہی ایسے ہیں کہ لوگ مجبور ہو کر پشاور کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اب اس بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل حل کرنے کے لیے جن اداروں نے اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں وہ اپنا فرض ادا نہیں کر پارہے ۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا عدم تعاون تربیت کا فقدان اور متعلقہ اداروں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔پشاور کی سڑکوں پر نظر ڈالیے تو کسی عاشق نامراد کے دل کی طرح ٹوٹ چکی ہیں جو ادارے ان سڑکوں کی حفاظت پر مامور ہیں وہ بے وفا محبوب کی طرح ان سے نظریں چرائے اپنے حلوے مانڈے اڑا رہے ہیں۔ کسی کو احساس تک نہیں کہ رکشے میں سفر کرنے والی سواری کن مسائل سے دوچار ہے۔ رکشوں کی تعداد پر نظر پڑتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کوئی گلی کوئی کوچہ کوئی بازار ایسا نہیں ہے جہاں آپ کو یہ دھول اڑاتے اڑن کھٹولے نظر نہ آئیں ان کی ڈرائیونگ سیٹ پر جو ہستی براجمان ہوتی ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے حضرت ساری عمر موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلاتے رہے ہیں۔ آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالیں کہ کسی بھی کونے کھدرے سے یہ کسی بھی وقت نمودار ہوسکتے ہیں اور نہ صرف نمودار ہوسکتے ہیں بلکہ آپ کے ساتھ ہلکا پھلکا مذاق بھی کرسکتے ہیں ان غیر قانونی رکشوں کی تعداد کا اندازہ لگاناجوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پشاور کی سڑکوں پر آپ کو ہر طرف دھول اڑاتے اور شور مچاتے رکشے ہی نظر آئیں گے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا ڈرائیور تیرہ سال سے لیکر اسی سال تک ہوسکتا ہے یہ واحد پیشہ ہے جو عمر کے کسی بھی حصے میں شروع کیا جاسکتا ہے اور تادم مرگ رکشے کی سیٹ کو رونق بخشی جاسکتی ہے۔ وہ بچے جو رکشہ ہوا میں اڑاتے ہیں اور جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوتا اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ تیرہ سال کے بچے کو لائسنس کیسے دیا جاسکتا ہے لیکن پھر سو سوالوں کا ایک یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ پشاور کی سڑکوں پر ٹریفک کے عملے کی موجودگی کے باوجود یہ چھوٹے چھوٹے ڈرائیوربچے یہ اڑن کھٹولے کیسے لیے پھرتے ہیں۔ کیا ان بچوں کو روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے؟ پشاور کے ہر چوک پر ٹریفک اہلکاروں کی موجودگی میں یہ بچے رکشے کیسے دوڑاتے پھرتے ہیں؟ یہ سوالات ہم نے ایک جہاندیدہ رکشہ ڈرائیور سے بھی پوچھ ڈالے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب دام بنائے کام ۔ دایاں ہاتھ آگے کیجیے اور ٹریفک اہل کار کی مٹھی گرم کیجیے بس پھر آپ کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں جہاں جی چاہے رکشہ دوڑائیے۔ اس کے دل میں قانون کا خوف نہ احترام ۔پشاور کی سڑکوں پر دوڑتے بھاگتے رکشوں میں لگے ہوئے آئینے بھی ڈرائیور سواری اور رکشے کے لیے خطرناک ہیںجو اب ہر رکشے میں لگے نظر آتے ہیں۔یہ شیشے اس وقت انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلیتے ہیں جب ان میں صنف نازک بطور سواری جلوہ افروز ہوں اور منچلا ڈرائیور اڑن کھٹولے کو اس طرح اڑا رہا ہو جیسے موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل کے کرتب دکھائے جاتے ہیں۔پشاور کی سڑکوں پر بہت سے تاریخی قسم کے ٹریفک جام بھی انہی رکشوں کے مرہون منت ہیں اور سونے پر سہاگہ تو اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مقتدر شخصیت پشاور کے دورے پر آتی ہے تو پھر بہت سے راستے بند کردیے جاتے ہیں۔ اب گاڑیوں اور رکشوں میں موجود سواریوں کی جان پر بن جاتی ہے چھوٹے چھوٹے روتے بلکتے بچے وہ مریض جنہیں ہسپتال پہنچانا ضروری ہوتا ہے کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔ ارباب اقتدار کو ان مسائل کا ادراک ہوسکتا ہے نہ پریشانی اس لیے کہ یہ ان کا تجربہ ہی نہیں ہے۔ وہ کبھی رکشے میں بیٹھے ہی نہیں وہ ٹریفک جام کو جانتے ہی نہیں وہ جب اپنی شاہی سواریوں میں سڑکوں پر سے گزرتے ہیں تو انہیں ایک ہلکی سے طمانیت کا احساس اس وقت ضرور ہوتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی خاطر بڑی بڑی شاہراہوں پر دوڑنے والی ٹریفک کو روکا گیا ہے اور ان کی شاہی سواری بلا روک ٹوک اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔چونکہ ہماری عمر عزیز کا ایک بہت بڑا حصہ انہی سڑکوں پر روڈ ماسٹری کرتے ہوئے گزرا ہے اس لیے ان مسائل کے حوالے سے ہمارا کہا ہوا ہی مستند ہے۔ پشاور کوپھولوں کا شہر بنانے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں اسے سجانے سنوارنے کی باتیں بھی بڑھ چڑھ کر کی جاتی ہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ پشاور کی سڑکوں پر دوڑتے بھاگتے غیر قانونی رکشوں سے پشاور کے باسیوں کو نجات دلادیں تویہ پشاور کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ 

متعلقہ خبریں