صرف مسلمان ہی بن جائیں

صرف مسلمان ہی بن جائیں

تفریق اور تخریب کی باتیں سنتے ایک عرصہ ہوگیا۔ اس عرصے میں کبھی کسی کی جانب سے کوئی بات سنائی دی' کبھی کہیں سے نفرت کا علم بلند ہوا۔ ہم نے بچپن میں یہی سنا تھا کہ کسی کے کافر ہونے کا فتویٰ جاری کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں۔ ہر کوئی جس طور سے چاہتا ہے مذہب کا اتباع کرتا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دوسرے لوگوں کے بارے میں فتوے دیتے ہوئے سنا ہے۔ وہ فتوے جن کے بارے میں کئی بار سوچنا بھی گناہ محسوس ہوتا ہے۔ کئی بار سوچ میں یہ پریشانی بھی رہی کہ آخر وہ کیا باتیں تھیں جنہوں نے معاملات کو اتنا آسان رکھا۔ میں زندگی میں کئی ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جنہوں نے دیگر فرقوں کے حوالے سے ہمیشہ بہت سخت رویہ رکھا۔ جن کے الفاظ میں وہ شدت تھی کہ مجھے گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی تھی۔ پھر میں نے اپنے دادا سید اسعد گیلانی کی کتاب سفر نامہ ایران کا مطالعہ شروع کیا اور ایک عرصے کی ذہن کی الجھنیں اور گرہیں کھلنے لگیں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے جہاں اور باتیں سمجھ آئیں وہیں اس جذبے کو لفظ بھی مل گئے جو دل و جاں میں تو موجود ہے لیکن اس کا کوئی سرا نہ ملتا تھا۔ جب جذبوں کی شدت سے جھنجھلائے ہوئے لوگ اپنے ہی جیسے مسلمانوں کو کافر کہہ رہے ہوتے تھے تو مجھے وہ غلط کیوں لگتے تھے یہ آج معلوم ہوا۔ وہ لکھتے ہیں۔

''ہمیں مولانا مودودی نے بتایا کہ دین کی بنیادیں قرآن و سنت ہیں۔ قرآن و سنت کے ترازو میں افراد کو تولو اور جسے کھرا پائو اسے بلا تعصب قبول کرو۔ افراد کے پیمانے سے قرآن و سنت کو نہ ناپو۔ فرقے اسلام میں کوئی چیز نہیں ہیں۔ ان سے جھگڑنے کی ضرورت نہیں ان سے بالا تر رہ کر صرف مسلمانوں ہوتے ہوئے دین کا کام کرو۔
مسلمانوں کے زوال کا سبب اور اسلام کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ ہوتا ہے۔ اس لئے فرقہ بندی سے بچو۔ فرقہ بننے سے بچو' مناظرہ اور مسائل پر شدت اختیار کرنے سے بچو۔ اسلام چند اصولوں کا نام ہے۔توحید' رسالت' عقیدہ آخرت بس یہی دین کی اصولی بنیادیں ہیں۔ باقی سب فروعات اور تعبیرات ہیں۔ فروعات اور تعبیرات میں اختلاف کے باوجود دین کی خدمت ہوسکتی ہے۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ جو لوگ ان اصولوں سے منحرف ہیں وہ اسلام سے باہر ہیں اور جو لوگ ان اصولوں کے اندر ہیں وہ سب مسلمان ہیں اور سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ چنانچہ ہم نے فرقہ وارانہ مسائل سے ہمیشہ دامن بچایا اور ان سے بالا تر رہ کر ہمیشہ دین اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور پھر اسی مسلک پر قائم رہ کر عمر گزار دی۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ '' مسلمانوں کے ہر مرض کا علاج ان کا باہمی اتحاد ہے۔ رسول اکرمۖ اور صحابہ کرام نے جو دین اسلام ہم تک پہنچایا تھا وہ صرف قرآن و سنت پر مبنی دین تھا اور ان بنیادوں کو ماننے والے سب مسلمان تھے۔ اختلاف رائے تو خاصہ فطرت انسانی ہے۔ علمی اختلاف تو دین میں ترقی کا زینہ ہے۔ ظاہرہے کہ اسے دین کی ترقی کازینہ ہی رہنا چاہئے تھا تاکہ مسائل کی تحقیق و جستجو اور فکر و اجتہاد کا علمی راستہ کھلا رہتا۔ لیکن بد قسمتی سے ملوکانہ ماحول نے ایک طرف اجتہاد کا دروازہ بند کردیا اور دوسری طرف اختلاف و انتشار کا پھاٹک چوپٹ کھول دیا۔
یہ بات کہ اختلاف و افتراق میں مسلمانوں کی تباہی ہے۔ اس کا احساس اب مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے چنانچہ جب کہیں اور کبھی مسلمانوں میں کسی نوعیت کے اتحاد کا مظاہرہ ہوتا ہے اور علماء کرام مل بیٹھتے ہیں تو مسلمان عوام خوشی سے پھولے نہیں سماتے لیکن جب یہی علماء اور رہنما باہمی جھگڑے اور جنگ آزما ہوتے ہیں تو یہی مسلمان بادل نخواستہ ان کے چھوٹے چھوٹے لشکر بن کر ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوتے اور جنگ آزمائی کرتے ہیں۔ لیکن اس حالت میں بھی ان کی سب سے بڑی آرزو یہی ہوتی ہے کہ علماء کرام اور رہنمایان عظام کو باہمی متحد ہونا اور مسلمانوں کو باہمی بھائی بھائی بن کر رہنا چاہئے۔ ان میں یہ احساس شدت سے پایا جاتا ہے کہ اگر مسلمانوں میں باہمی افتراق موجود رہا تو مسلمانوں نے عالم کفر کی چند صدیوں کی غلامی کے بعد جو آزادی حاصل کی ہے وہ اس کا بھی تحفظ نہ کرسکیں گے۔ اسلام کی سربلندی کا راز عالم اسلام کے اتحاد میں پوشیدہ ہے جبکہ عالم کفر مسلمانوں اور ان کے دین میں مقابلے میں پہلے سے زیادہ متحدہ جارحیت پر آمادہ نظر آتا ہے۔ اگر مسلمان دشمنوں کو اپنے اور اسلام کے خلاف متحد دیکھ کر واقعی اور حقیقی اتحاد چاہتے ہیں توانہیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے بھی ہمارے اندر فرقوں کے لحاظ سے کوئی امتیاز یا رعایت نہیں کرتے ہیں۔ وہ تو صرف ہمارے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہی ہمارے ساتھ معاملہ کرتے اور ہمیں اسلام قبول کرنے کی سزا دیتے ہیں۔
اس لئے لازم ہے کہ ہم بھی صرف مسلمان ہی بن کر رہیں۔ اسی صورت میں ہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں۔ فرقہ کو اختلاف' قیادت اور معیشت کا ذریعہ نہ بنائیں اور فرقہ بندی سے بچنے کی موثر تدابیر اختیار کریں۔ اس لئے کہ اتحاد ملت میں ہی فلاح ملت مضمر ہے۔
اسی حوالے سے چند باتیں مزید قابل غور ہیں جن کا ذکر میں اگلے کالم میں کروں گی۔ کیونکہ اگر ہم اپنے اختلافات پر قابو پالیں تو شاید ہمیں شکست دینا ممکن ہی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں