مشرقیات

مشرقیات

حضرت سیدنا حماد بن سلمہ اور حماد بن زید سے روایت ہے کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مبارک گندم کی تجارت کیا کرتے تھے آپفرمایا کرتے کہ اگر پانچ بزرگ نہ ہوتے تو میں تجارت نہ کرتا۔ پوچھا گیا کہ وہ پانچ بزرگ کون سے ہیں؟ فرمایا: حضرت سیدنا سفیان ثوری، حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ ،حضرت سیدنا فضیل بن عیاض ،حضرت سیدنا محمد بن سمّاک اورحضرت سیدناابن علیہ۔
آپ تجارت کی غرض سیخراسان کی طرف جاتے ، جو نفع حاصل ہوتا اس سے اہل وعیال کاخرچہ اور حج کے لئے زادِ راہ وغیرہ نکال کر بقیہ ساری رقم ان پانچ دوستوں کی طرف بھجوادیتے۔ ایک سال آپ کو خبر ملی کہ ابن علیہ نے عہدہ قضا قبول کرلیا ہے۔ اس اطلاع کے بعدآپ نہ توابن علیہ سے ملنے گئے اور نہ ہی انہیں رقم بھجوائی۔ جب ابن علیہ کو خبر ملی کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مبارک ہمارے شہر میں آئے ہو ئے ہیں تو فوراً آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ نے نہ تو ان کی طرف دیکھا نہ ہی کلام فرمایا۔چنانچہ حضرت سیدنا ابن علیہ واپس چلے گئے ، اور دوسرے دن آپ کو ایک رقعہ لکھا جس کی عبارت کچھ اس طر ح تھی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی اطاعت وفرمانبرداری میں رکھے اور سعادت مند ی عطا فرمائے ، میں تو آپ کے احسان اور صلہ رحمی کا کب سے منتظر تھا ، کل میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو الیکن آپ نے مجھ سے کلام تک نہ فرمایا۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ شاید آپ مجھ سیخفا ہیں۔میں آپ کی عنایتوں سے محروم ہورہا ہوں۔خدارا! مجھے بتائیے کہ میری کونسی بات آپ کو ناپسند ہے تا کہ میں اپنی اصلاح کروں اور آپ سے معافی مانگو ں۔ ''
جب حضرت عبداللہ بن مبارک کو ابن علیہ کا رقعہ ملا توآپ نے جواباً چنداشعار لکھ کر بھیجے۔ جن کا ترجمہ یہ ہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اے دین کو باز بنا کر مساکین کا مال شکار کرنے والے ! تونے فانی دنیا اور اس کی لذتوں کو ایسے حیلے کے ذریعے اپنے لیے جائز قرار دیا جس کی وجہ سے دین چلا گیا۔، تو تو بے وقوفوں کا علاج کرنے والا تھا لیکن اب خود مجنون ہوگیا۔ کہاں ہیں تیری وہ روایتیں اور باتیں جو سلاطینِ دنیا کے دروازوں کو چھوڑ نے کے بارے میں تھیں ؟ اگر تو یہ کہے کہ مجھے تو مجبوراًقاضی بنا یاگیا ہے تو یہ باطل ہے۔ ''ابن علیہ کو یہ رقعہ ملا تو آپ مجلس قضاء سے اْٹھ کرہارون الرشید کے پاس آئے او رکہا: ''اے امیر المؤمنین! میرے بڑھاپے پر رحم فرمائیں ، اب میں عہدہ قضاء کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا ، برائے کرم مجھ سے یہ ذمہ داری واپس لے لیں۔'' خلیفہ ہارون الرشید نے کہا :''شایدحضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک نے تجھے اس بات پر اْبھاراہے اور تیرے دل میں کھلبلی مچادی ہے۔ آپ نے فرمایا :خدا کی قسم ! انہوں نے مجھے بچا لیا ، انہوں نے مجھے بچالیا ،اللہ آپ کو بھی ہر مصیبت سے نجات عطا فرمائے۔ چنانچہ خلیفہ ہارون الرشیدنے آپ کا استعفیٰ قبول کرلیا۔

متعلقہ خبریں