چین کا واضح پیغام

چین کا واضح پیغام

چین نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے کشمیر کے تنازعہ کاحل نکالنا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون اینگ نے بیجنگ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دینے کے مصنوبے پر بھارتی اعتراض غلط ہے اور گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ انہی علاقوں کے ذریعے دونوں ممالک کو منسلک کرے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کا آغاز ہوا ہے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں اچاٹ ہو چکی ہیں اور وہ مختلف حیلوں بہانوں سے اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ایک جانب اس نے ایران کے ساتھ مل کر چاہ بہار کی بندر گاہ کو فعال بنانے کے لئے بھاری سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے مگر نہ صرف اسے بلکہ اس بندر گاہ کے ذریعے وہ اپنی تجارت کو افغانستان اور آگے وسط ایشیائی ریاستوں تک بڑھانے کے لئے اس راہداری پر پڑنے والے بھاری اخراجات سے پریشان ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں گوادر کی بندر گاہ چین اور پھر وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مغربی ممالک کی تجارتی سر گرمیوں سے زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوگی جبکہ دوسری جانب چاہ بہار کے علاقے کو بھارتی خفیہ ا داروں کی سر گرمیوں کا مرکز بنا کر بھارت نہ صرف سی پیک کو سبو تاژ کرنا چاہتاہے اور اس سلسلے میں اس کے حاضر سروس بحریہ کے افسر کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے سے بھارت کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں کہ کسی طور وہ ا س جاسوسی نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف اس اہم منصوبے کے خلاف بر سر عمل تھا بلکہ اسی نیٹ ورک کے ذریعے وہ بلوچستان کے اندر شورش برپا کرنے کے لئے علیحدگی پسندوں کی ہر قسم کی سرپرستی کر رہا تھا اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان وطن دشمنوں کو اسلحہ اور گولہ بارود بھی سپلائی کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر موجود اس کے متعدد قونصل خانے بھی پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے والوں کی تربیت کا بھی انتظام کر رہا ہے۔ ان لوگوں کی سر پرستی کا مقصد بھی در اصل دیگر منفی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچانا ہی ہے۔ در اصل جب سے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی افواج کی بربریت کے خلاف آزادی اور حریت کی تازہ لہر اٹھی ہے تب سے بھارتی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی توجہ ان مظالم سے ہٹانے کے لئے پاکستان کے اندر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شورش برپاکرکے الٹا پاکستان کو بد نام کرنے کی سعی میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی وہ سی پیک پر سوال کھڑے کرنے کے لئے اس منصوبے کے رہگزر یعنی گلگت بلتستان کے علاقوں کو متنازعہ اور مقبوضہ کشمیر کاحصہ قرار دینے اور کشمیر پر اپنے نام نہاد دعوے یعنی کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کے ناتے دنیا کی نظروں میں مشکوک بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حال ہی میں پاکستان نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ قرار دینے کاجو عندیہ دیا ہ اسی کے پیش نظر چین نے بھی دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت کے تمام تر دعوئوں کو حقائق کے منافی قرار دے کر بھارتی پروپیگنڈے کو باطل ثابت کردیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی قسم کا واویلا آج سے کئی دہائیاں پہلے شاہراہ ریشم کی تعمیر کے وقت بھی بھارت نے مچا یا تھا مگر پاکستان اور چین نے شاہراہ ریشم تعمیر کرکے بھارتی حکمرانوں کو مسکت جواب دے دیا تھا۔ اب بھارت ایک بار پھر ایک غلط دعوے کے ساتھ سامنے آکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جبکہ چین نے اس کے پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوانکال کر نہ صرف گلگت بلتستان پر پاکستان کی ملکیت تسلیم کرلی ہے بلکہ اسے یہ و اضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ وہ کشمیر کے متنازعہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ پر امن مذاکرات کے لئے آگے بڑھ کر اس مسئلے کا تصفیہ کرائے۔ چین کا موقف در اصل اس دیرینہ لا ینحل مسئلے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قرار دادوں کی روح کے عین مطابق ہے اور حقیقتاً دیکھا جائے تو یہ بھارت ہی تھا جو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ خود لے کر اقوام متحدہ کے پاس گیا تھا اور سلامتی کونسل کے اندر بھارت کے پہلے پردھان منتری شری جواہر لعل نہرو نے واضح طور پر یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام حق خود اختیاری کے تحت ووٹنگ کا موقع فراہم کرے گا۔ مگر بعد میں وہ اپنے اس وعدے سے پھر گیا اور چند کٹھ پتلی افراد کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے ذریعے ( جس میں آزاد کشمیر کے عوام شامل نہیں تھے) بھارت سے الحاق کا ڈرامہ رچایا مگر تب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اس فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور مقبوضہ وادی ابھی تک آگ و خون کے سمندر سے گزر رہی ہے۔ کشمیری عوام بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے آزادی مانگ رہے ہیں اور بھارتی افواج کی بربریت کے باوجود وہ اپنے جمہوری حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس لئے بھارت کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ چین کے مشورے کو مانتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ماحول ساز گار بنائے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آسکیں۔

متعلقہ خبریں