شہریوں پر مسلط ہونے والا نیا عذاب

شہریوں پر مسلط ہونے والا نیا عذاب

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پانی کی فراہمی کی ذمہ دارڈبلیو ایس ایس پی نے شہر میں پانی کی قیمتوں میں اضافہ کا جو فیصلہ کیا ہے یہ ناقابل قبول اور شہریوں پر مہنگائی کا ایک اور عذاب مسلط کرنے کی کوشش ہے ۔ اس فیصلے کے اطلاق کے بعد حیات آباد اور شہری علاقوں کے رہائشی ماہانہ 350سے لیکر ایک ہزار 365روپے کی ادائیگی کریں گے ، جبکہ یونیورسٹی ٹائون کے رہائشیوں کو 600روپے ماہانہ ادا کرنے پڑیں گے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں میونسپل ادارے جب بھی اپنی سروسز میں اضافہ کرتے تھے تو اخبارات میں اشتہار کے ذریعے عوام الناس سے اس بابت ان کی رائے پوچھنے کے علاوہ عوامی نمائندوں کے ذریعے میونسپل اسمبلی میں بحث وتمحیص کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے تھے ، عوام بھی اپنی رائے دے دیتے تھے اور کونسلر حضرات بھی عوام کے جذبات سے متعلقہ حلقوں کو آگاہ کر کے اگر اس حوالے سے کوئی خدشات ابھرتے تھے تو وہ سامنے لے آتے تھے ، مگر جب سے ٹائون اور ضلعی انتظامیہ نے پانی کے بلوں کا سارا نظام ٹھیکیداری نظام سے وابستہ کر رکھا ہے تب سے اس ضمن میں عوام کی رائے لینے سے احتراز کی پالیسی تو رہی ایک طرف ، کونسلروں کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور ضلعی یا تائون اسمبلیوں میں اس کو زیر بحث لانے کی ضرورت کا کوئی احساس ہی نہیں کیا جاتا ، اور گزشتہ کچھ عرصے سے صفائی ستھرائی اور پانی کی فراہمی کے نظام کو پرائیویٹائز کرنے کے بعد تو جیسے ضلعی اور ٹائون حکومتوں نے اس معاملے کو اپنی ذمہ داریوں کے دائرے سے ہی خارج کر کے رکھ دیا ہے ، اس لیے پرائیویٹ ادارہ جو چاہے ، جب چاہے عوام پر نئی مہنگائی مسلط کرنے کیلئے فیصلہ کر دیتا ہے ۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے ساتھ جس بھی ادارے نے معاہدہ کیا ہے اس کی شرائط و ضوابط کیا ہیں ؟ اور کیا اس ادارے کو یوں کھلی آزادی دی گئی ہے کہ جب چاہے کئی سو گنا قیمت بڑھا کے عوام کو لوٹنے کی کوشش کر ے ، یا پھر معاہدے کو کسی ضابطے کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ یا دس فیصد سالانہ اضافے کا پابند بنا یا جا چکا ہے ، جو بھی یعنی ضلعی یا ٹائون انتظامیہ اس معاہدے میں فریق ہے اسے اس معاہدے کو سامنے لا کر عوام کو مطمئن کرنا چاہیے ، تمام کونسلر حضرات سے بھی یہ درخواست ہے کہ وہ عوام کو لوٹنے کی اس کارروائی کو متعلقہ فورمز پر چیلنج کرکے عوام پر مسلط ہونے والے اس افتا د کو روکنے میں اپنا کردار اد کریں بصورت دیگر عوام احتجاجاً اتنے زیادہ بل ادا کرنے سے انکار کر دیں گے تو اس کی ذمہ داری متعلقہ ناظمین پر عاید ہوگی مقامی سطح پر سیاسی قیادت کی خاموشی بھی حیران کن ہے ۔
خانہ شماری اور مردم شماری پر اٹھتے سوالات
خانہ شماری کی تکمیل کے ''دعوئوں ''کے بعد مردم شماری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے مگر حیرت زاء امر یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے بعض اہم علاقوں میں بھی خانہ شماری کے دوران کسی سرکاری اہلکار نے جھانک کر نہیں دیکھا۔ اس ضمن میں گل بہار جیسے اہم علاقے کے کئی محلوں میں کوئی بھی سرکاری نمائندہ خانہ شماری کیلئے نہیں آیا ۔ ساتھ ہی کئی علاقوں سے متعلقہ فارموں کو پنسلوں سے مکمل کرنے کی شکایات بھی عام ہیں اور اس حوالے سے وزارت شماریات کی جانب سے وضاحت بھی آچکی ہے کہ پنسلوں سے فارم بھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں سے فارم پنسلوں کے ذریعے بھر کر لے جائے گئے ہیں اب اس کا علاج کیا ہے جبکہ خانہ شماری کے حوالے سے تو خیر یہ کہا گیا ہے کہ جہاں یہ کام نہیں ہو سکا وہاں یہ رائے شماری کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا ۔ بہر حال یہ سارا عمل مشکوک دکھائی دے رہا ہے اور جو سیاسی حلقے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ خانہ شماری اور مردم شماری کے دوران چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی روا رکھ کر ان صوبوں کی اصل آبادی کم ظاہر کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے ان کے خدشات درست دکھائی دے رہے ہیں ، اس لیے کہ یا تو پنسلوں سے بھرے ہوئے فارموں کو آسانی سے تبدیل کیا جائے گا ، یا پھر سرے سے ہی غائب کر کے ایک خاص صوبے کی آبادی میں اضافہ دکھا کر آنے والے برسوں میں قومی وسائل کی تقسیم کا سلوک روا رکھا جاسکتا ہے تو چھوٹے شہروں ، قصبات ،دیہات او رعلاقوں کے ساتھ کس قسم کا حشر روا رکھا جا رہا ہوگا ۔ وزارت شماریات کو ان خدشات کو دور کرنے اور اس کا تدارک کرنے کیلئے ضروری اقدام اٹھانے ہوں گے بصورت دیگر یہ سارا عمل مشکوک ہو کر رہ جائے گا اور جب حتمی اعداد وشمار جاری کئے جائیں گے تو کئی حلقوں کی جانب سے اس کو عدالت میں چیلنج کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔

متعلقہ خبریں