فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق

فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال توسیع کے سوال پراڑھائی ماہ تک ''میں نہ مانوں'' کی مشق کرنے والے بھی آخر مان گئے ۔ حکمران مسلم لیگ کے وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے اس اتفاق رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے بڑے دل کامظاہرہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی عدالتیں کسی جماعت کی ترجیح نہیں ہیں یہ فیصلہ ملکی وسیع ترمفاد میں کیاگیا ہے۔یہ نتیجہ کہ ملک دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے دو سال تک آپریشن ضرب عضب ' اڑھائی ماہ آپریشن رد الفساد کی کامیابیوں اور اس دوران شدت پسند عناصر کی ملک دشمن کارروائیوں اور دھمکیوں کے مطالعہ کے بعد اخذ کیا گیاہے ۔ بعض مبصرین لکھتے ہیں کہ دو ما ہ پہلے ملک میں پانچ دن کے اندر 8 دہشت گرد حملوں کے ردعمل کے طور پر یہ فیصلہ ہوا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قومی مفاد میں جمہوری فیصلے کیلئے ہم من حیث القوم دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کے مرہون منت ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی یونٹوںسے لیکر مرکزی تنظیموں تک قومی سلامتی کی صورتحال پر بات ہوتی اور اسکے نتیجے میں یہ متفقہ فیصلہ ہوتا۔ اس طرح عوام اپنے مقامی لیڈروںکے توسط سے اس فیصلے میں شامل ہوتے اور ان کی آگاہی میں اضافہ ہوتا۔ پوری قوم ملک کی سلامتی کی صورتحال پر متوجہ ہے اور دہشت گردی کامکمل خاتمہ چاہتی ہے لیکن ان کی سیاسی قیادت اس نتیجے تک پہنچنے میں لیت و لعل اور تحفظات کا شکار ہے۔ فوجی عدالتوں کی دو سال کی آئینی مدت ختم ہوئی تو حکمران مسلم لیگ کے وزراء نے بھی کہہ دیا کہ یہ عدالتیں غیر ضروری ہوچکی ہیں اور کسی دوسری پارٹی نے ایوان میں یہ نہیں کہا کہ ملک میںآپریشن جاری ہے' دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور شدت پسند عناصر دھڑلے سے ان کی ذمہ داری قبول کرنے کے اعلانات کررہے ہیں اس لئے دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ اور اس کے تقاضوں کے مطابق ہنگامی اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ لیکن سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان مسلسل رابطہ اور گفتگو کے ذریعے عوام کی رائے معلوم کرنے کی بجائے سیاسی لیڈروںمیںطلسماتی صلاحیت پر انحصار کا طریقہ کار رائج ہے اگر سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان مسلسل رابطہ ہوتا تو شاید کئی سیاسی پارٹیاں اس نتیجے تک پہنچنے میں تحفظات کا اظہار نہ کرتیں۔ لگتا ہے ٹی وی چینلوں کے چالیس پچاس اینکرز ' انکے مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف جھکائو رکھنے والے سوڈیڑھ سو'' تجزیہ کار '' اخبارات کے اتنے ہی کالم نگار اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہ سارا کاروبار سیاست چلا رہے ہیں جس میں عوام کی رائے حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیںہے۔ اس سونے پر سہاگے کاکام مثالی جمہوریت کے چیمپئن سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی تصنیف کردہ اٹھارہویں ترمیم نے کیا ہے جس کے ذریعے عوام کا ووٹ لیکر اسمبلیوں میں آنے والے ارکان کو انکے لیڈروں کے حکم کا تابع فرماں کر دیا گیا ہے جو خود خواہ منتخب رکن ہوں خواہ نہ ہوں۔فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر سیاسی لیڈروںکے اتفاق رائے کے بعد توقع ہے کہ چندروز میں آئینی ترمیم منظور ہو جائے گی۔ یہ منظوری عوام کی اس رائے کی تصدیق ہوگی کہ ملک دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میںہے اور دہشت گردی کے ختم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات ضروری ہیں ۔ عوام کی اس تصدیق کااندازہ اس حقیقت کی بنیاد پر لگایا جاسکتا ہے کہ عوامی حلقوںنے اس ترمیم سے اختلاف نہیں کیا۔ محض سیاسی لیڈروںنے تحفظات کااظہار کیا جس کی تائید عوام کی طرف سے نہیں آئی۔ پارلیمانی لیڈروں کے اس اتفاق رائے کے اظہارکے بعد کہ ملک دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے محض یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق رائے کے بعد مطمئن ہوکر بیٹھ جائیں۔ فوجی عدالتوںکا قیام یا ان کی مدت میں توسیع اس بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے جسے نیشنل ایکشن پلان کہا جاتا ہے اور جس پر تمام سیاسی پارٹیاںاتفاق کرچکی ہیں۔اب جو فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع پر اتفاق کیاگیا ہے اس کا بھی تقاضا ہے کہ اس دوران نظام انصاف کو بہتر بنایاجاسکے تاکہ مجرم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔

کرمنل جسٹس سسٹم کے چاروںحصے تیز تیز تبد یلیو ں کے متقاضی ہیں۔ پولیسنگ یعنی امن و امان کی حفاظت اور امن وامان میں متوقع خلل ڈالنے والوں کی خبر گیری' آج کے زمانے میں کوئی مشکل کام نہیں ہوناچاہیے۔ انگریز کے زمانے میں ہر تھانے میں ایک رجسٹر ہوا کرتاتھا جس میں اوباشوں کی فہرست ہوتی تھی ۔ آج مشتبہ لوگوں کا ریکارڈ رکھا جاسکتا ہے اوران کی نقل و حرکت کی نگرانی بھی کی جاسکتی ہے۔ مقدمات اندراج جس میں گواہوں اور شہادتوں کاصحیح بندوبست کیاجاسکے۔ موجودہ عدالتی نظام میں ملزم ایف آئی آرکے ناقص اندراج کے باعث بھی بچ جاتے ہیں اس سلسلے میںبہتر تربیت اور مواخذہ بھی ضروری ہے۔ ناقص ایف آئی آر لکھنے والوں کی باز پرس کا نظام ہونا چاہیے۔ مقدمات کی پیروی اور گواہوں اور شہادتوں کی پیش کاری' جو وکیل استغاثہ پیروی میں ناکام ہوجائے اس کی بھی تحقیقات کا انتظام ہونا چاہیے۔ گواہوں اور منصفوں کاتحفظ یقینی بنایا جاناچاہیے تاکہ ملزموں کے ساتھی انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ پھر فیصلہ' جن منصفوںکے فیصلے بڑی عدالتوں میں کالعدم ہو جائیں ان کی کارکردگی کی بھی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔ سزائوںپر عملدرآمد اس حوالے سے جیلوں کے ماحول پر مکمل نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ کام حکومت کے ہیں لیکن پارلیمانی پارٹیوںکا فرض ہوناچاہیے کہ وہ حکومت کو اس حوالے سے فعال رکھیں اورنیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے رہیں۔ فوجی عدالتیں نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہیں جس پر ساری قوم کامتوجہ رہناانتہائی ضروری سمجھا جاناچاہیے۔

متعلقہ خبریں