دشمنوں کو یاد رکھیں

دشمنوں کو یاد رکھیں

چین ہمارا ہمسایہ ہی نہیں دوست بھی ہے تبھی تو پاک فوج کے سربراہ کی بیجنگ میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات میں بھی کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا گیا ۔ وانگ ژی کاکہنا تھا کہ چین پاکستان کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور پاکستان کی ہر طرح سے مدد کر ے گا ۔ چین اور پاکستان کی یہ دوستی تو بہت پرانی ہے چین کے دنیا میں بڑھتے ہوئے قد کے باوجود چین پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے میں کبھی بھی جھجھک محسوس نہیں کرتا ۔ یہ درست ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان بھی چین کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے لیکن۔ پاک چین دوستی کے کئی محرکات اور بھی ہیں۔ چین سے ہم بخوبی واقف ہیں ۔ میں آپ سے کئی بار پہلے بھی ذکر کر چکی ہوں کہ پاکستان اور چین کی اس دوستی کے فوائد میں اب ایک نئی صورتحال جنم لینے جارہی ہے جس کے آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ امریکہ بے شک آج بھی اس دنیا کی واحد سپر پاور ہے لیکن اب اسکے دن گنے جا چکے ہیں ۔ اگرچہ امریکہ اس حیثیت سے با آسانی دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوگا لیکن دنیا جس طور بد ل رہی ہے ، ان حقیقتوں سے بھی مفر ممکن نہیں ہے۔ دنیا میں چین کی معیشت نے ایک عجب حیرانی کو جنم دے رکھا ہے ۔ کئی سال پہلے کئی امریکی معاشیات دانوں نے چین کی معیشت کی بڑھتی ہوئی رفتار کو دیکھ کر یہ پیش گوئیاں کی تھیں کہ چین کی معیشت اس رفتار کے باعث ایسی حرارت کو جنم دے گی کہ پھر اس حرارت سے خود اپنے آپ ہی جل جائے گی ۔ ان معیشت دانوں کا خیال یہ بھی تھا کہ کسی بھی معیشت کا ایک طویل عرصے تک ایسی رفتار اور حرارت کو بر قرار رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا لیکن چین کی مثال ہمارے سامنے ہے اور یہ بھی طے ہے کہ چین کی معیشت اب بھی اپنی ایک مخصوص رفتار اور بڑھوتری برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ مختلف لوگوں کے پاس اس سب کی مختلف توجیہات بھی موجود ہیں۔ ایک جانب اگر لوگ یہ کہتے ہیں کہ چین کی معیشت کی یہ رفتار اس لیے حیران کن محسوس ہوتی ہے کیونکہ انسانی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تو دوسری جانب لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چین نے گزشتہ کچھ دہائیوں میں قریباً 4.04ملین لوگ امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے بھیجے ۔ یہ سب تو واپس نہ لوٹے لیکن ان کی ایک بڑی تعداد یعنی 2.8ملین لوگ جب لوٹ آئے ۔ جدید تعلیم سے آراستہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ چین کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ ان میں معیشت دانوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے ۔ انہوں نے چین کے لیے ایسی پالیسیاں ترتیب دی ہیں جس کی اس ترقی نے دنیا کے بڑے لوگوں کو حیرت کا شکار کر رکھا ہے ۔ بات صرف چین کی معیشت تک ہی محدود نہیں ۔ اس خطے میں ایک نیا گٹھ جوڑ بھی سامنے آرہا ہے ۔ چین اور روس کے تعلقات تو پہلے ہی سے بہت اچھے ہیں اور اس کی معیشت اپنے مشکل دور سے نکل چکی ہے اوراب اس مضبوطی کی جانب رواں دواں ہے جو اسے امریکہ کے مد مقابل کھڑے ہونے میں مددگار ثابت ہوگی ۔ روس اور چین کے اچھے تعلقات انہیں انکے مشترکہ حریف کے مقابلے میں اور بھی متحد ہو جانے میں مدد کرینگے ۔ اس صورتحال میں ایک اور مضبوط حلیف کی دھیرے دھیرے شمولیت ہور ہی ہے ۔ترکی اس وقت معاشی اعتبار سے خاصا مضبوط ہو چکا ہے ۔ طیب اردگان کی حکومت اُلٹا نے کی امریکی سازش بہت بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ اور اس کوشش کو خود ترکی نے ایسے آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ اب ایک طویل عرصے تک امریکہ دوبارہ اس طور کی کوئی کوشش نہ کرسکے گا کیونکہ ترکی کے اندر اسے اپنے مفادات کا ساتھ دینے والے لوگ ہی نہ مل سکیں گے ۔ میں جب بھی یہ سوچتی ہوں اور دنیا میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ترکی کو یوں آگے نکل جانے والی معیشت کے طور پر محسوس کرتی ہوں دل میں ایک پریشانی جنم لیتی ہے ۔ امریکہ اور امریکہ کے حواری مسلمانوں سے دشمنی میں بہت آگے نکل جایا کرتے ہیں ۔ انکے لیے مسلمان کو پستی اور زوال کے گڑھے میں محدود رکھنا ، ہر ایک شے سے زیادہ اہم ہے ۔ چین کی معیشت سے خوفزدگی تو انکے لہجوں میں مسلسل سُنائی دیتی ہے لیکن وہ جس حد تک مسلمانوں کی دشمنی میں جانے کا سوچ سکتے ہیں ایسی کسی بات کا تصور بھی وہ چین روس کے حوالے سے نہیں کر سکتے ۔ کئی بار دل میں ایک خوف جنم لیتا ہے کہ کہیں طیب اردگان کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو ۔ کیونکہ اکثر ابھر تے مضبوط ہوتے مسلمان ملکوں میں لیڈروں کو اسی طرح جان سے ماردیا گیا ہے تاکہ ایک طویل عرصے تک وہ معیشت کی دوڑ سے ہی باہر ہو جائیں ۔ پاکستان جیسے ملکوںمیں تو امریکہ ، نواز شریف اور آصف زرداری جیسے لوگوں کو حکومتوں پر قابض رکھ کر صورتحال کو اپنے حق میں رکھتا ہے لیکن اب جب پاکستان کا جھکائو بھی امریکہ کی نسبت چین اور روس کی جانب ہو رہا ہے ۔ وہ نیا بلاک جس کے وجود میں آنے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں اس میں ترکی بھی شامل ہے ۔ افغانستان کی اہمیت بھی پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین اور پاکستان ، ترکی اور روس میں اس حوالے سے کوئی آگاہی ہے وہ صرف اپنے حوالے سے ہی سوچ رہے ہیں ، انکے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے بھی پوری طرح آگاہ رہیں ۔ اس سارے منظر میں سب سے آسان نشانہ مجھے ترکی ہی دکھائی دیتا ہے ۔ دعا یہ ہے کہ ترکی کو اپنے دشمنوں کا اندازہ بھر پور طور سے ہواور وہ ان کے مقابلے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہو۔

متعلقہ خبریں