نہ ہوا ختم پانامہ کا ہنگامہ

نہ ہوا ختم پانامہ کا ہنگامہ

عدالت عظمیٰ نے پانامہ پیپر ز کے مقدمے کی 126روز سماعت اور تقریباًپچاس روز فیصلے کا انتظار کروا کر معاملے کی تحقیقات جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ دیا جو رقم کیسے منتقل ہوئی کے سوال کی تحقیقات کرے گا ۔ اسے اگر جہاں سے چلے تھے وہیں پر واپس آکر پڑائو ڈالنے سے تعبیر کیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا ۔ عدالت کو اس عمل کا تحقیقات کے بعد جواب چاہئے کہ جدہ میں سٹیل ملز سیٹ اپ کیسے لگا کیسے فروخت ہوئی؟کیس میں قانونی پہلوئوں سے زیادہ اس سے جڑی سیاست نے اسے اہم اور پیچیدہ بنا دیا تھا۔ظاہر ہے کہ جج صاحبان نے کیس کا فیصلہ سیاسی تناظر میں نہیں بلکہ اس کے قانونی پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کیا ہے۔ زیادہ تر شریف خاندان آف شور کمپنیوں کے منی ٹریل اور لندن میں جائیداد کی اپنی ملکیت کو ثابت کرنے میں ناکام ضرور ہے مگر کیا وزیر اعظم کو غلط کام کرنے پر مجرم قرار دینے کے لیے اتنا کافی ہے؟ اس کا فیصلہ کرتے ہوئے جج صاحبان اختلاف رائے کا شکار ہوئے۔اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف کو ذاتی طور پر ذمہ دار نہیں بھی ٹھہرایا گیا مگر پھر بھی ان کے لیے منظر نامہ کچھ بہتر محسوس نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کو اگر سزا نہیں ہوئی تو انہیں کلین چٹ بھی نہیں ملی۔اس فیصلے سے اگر کسی کو کلیئرنس ملی ہے تو وہ وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز ہیں جن پر عدالت کی طرف سے کوئی بار نہیں ڈالا گیا۔ عدالت کی جانب سے ان پر الزامات کو وقعت نہ دینے کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ مریم نواز کا راستہ صاف اور آسان ہوگیا ہے۔جہاں تک جے آئی ٹی کی تحقیقات کا سوال ہے اس بارے اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ نیب اور ایف آئی اے کا کردار پہلے ہی سامنے ہے جبکہ جے آئی ٹی کے دیگر ممبروں کے سامنے بھی جس قسم کی دستاویزات آئیں گی یا لائی جائیں گی اس کے مطابق ہی وہ آگے بڑھیں گے۔ سب سے بڑی مشکل یہ نہیں کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں ان کے خلاف شفاف تحقیقات مشکل امر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل امر یہ ہے کہ منی ٹریل کی تلاش بیرون ملک بھی کرنی پڑے گی۔ اس ضمن میں دائرہ اختیار اور قوانین کا سوال بھی اٹھے گا۔ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وکلاء کی جانب سے جن سوالات کا جواب نہیں دیاگیا انہی سوالات ہی کے جوابات کے حصول کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل کا عدالت نے حکم دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی باقی نہیں بچتا تھا کیونکہ الزام لگانے والے الزام ثابت نہ کرسکے اور صفائی پیش کرنے والوں کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ٹھوس شواہد نہیں تھے۔ عدالت جو سوالات پوچھتی رہی وہ جواب ہی تشنہ رہے۔ عدالت میں ججوں کی جانب سے دوران سماعت جو سوالات پوچھے گئے اور جو آبزرویشنز دی گئیں فیصلے میں انہی نکات کی مزید تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ عدالت نے دوران سماعت فریقین کو کئی مرتبہ اس امر کی جانب متوجہ کیا کہ وہ ٹھوس ثبوت پیش کریں مگر ہر فریق اپنی الاپتا رہا۔ ایک جانب وزیراعظم کے خاندان کی جانب سے عدالت میں قطری شیخ کا خط سامنے آیا تو دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے سینکڑوں دستاویزات عدالت میں جمع کرائی گئیں جس پر عدالت نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کے تراشے شواہد نہیں ہوتے۔ سماعت نے ایک نیا موڑ اس وقت لیا جب وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے قطر کے شاہی خاندان کے رکن حمد جاسم کی جانب سے پانچ نومبر کو تحریر کردہ ایک خط عدالت میں پیش کیا جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980ء میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی بعد میں اس سے لندن میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔ججوں نے اس پر سوال کہ آیا قطر کی یہ شخصیت بطور گواہ عدالت میں پیش ہو سکے گی؟ اس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خط پڑھتے ہی پوچھا کہ اس میں تو ساری سنی سنائی باتیں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس کیا کچھ نہیں؟ آپ کا منی ٹریل کہاں ہے؟نومبر میں ہونے والی ابتدائی سماعتوں میں ایک بار جب بنچ نے وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ سے پوچھا کہ ان کے موکل کے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں تو انہوں نے کہا کہ مجوزہ کمیشن میں تمام دستاویزات فراہم کرائی جا سکتی ہیں۔ اس پر جسٹس آصف نے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ خدانخواستہ ایسا نہیں کر سکے تو مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔پانامہ کیس کے عدالتی کوکھ سے برآمد ہونے والے نتیجے نے پیپلز پارٹی کا موقف درست ثابت کردیا۔ پیپلز پارٹی نے پانامہ پیپرز پر ایوان میں تو خوب شور مچا یا مگر نہ صرف عدالتی عمل سے لا تعلق رہی بلکہ اس کا جو جواز وہ پیش کرتی رہی وہ درست بھی ثابت ہوا۔فیصلہ سننے کے بعد مسلم لیگی وزراء کا میڈیا پر آکر اس فیصلے کو اپنی کامیابی سے تعبیر کرنا فطری امر تھا ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں ایسی ججمنٹ کبھی نہیں آئی اور وزیراعظم فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج قوم کے سامنے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جو ثبوت جمع کیے گئے وہ غلط ہیں۔دوججوں نے کہا ہے کہ ان کو گھر بھیج دو یہ جج ملک کے معزز جج ہیں۔ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف 60 دن کی بات ہے اس کے بعد جشن منائیں گے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے محتاط گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سب کے ساتھ انصاف ہو اور سب کا احتساب ہو۔امیر جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس فیصلے کے آنے کے بعد سیاست میں بھی گرمی ضرورآئے گی لیکن میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو عدل ہو یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ احتساب ہو سب کا ہو۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے پانامہ پیپرز کیس کے فیصلے کا سیاسی و عوامی سطح پر تو انتظار تھا ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فوج بھی اس فیصلے کی منتظر تھی۔ وزیر اعظم نے پانامہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد اپریل 2016ء کو قوم سے خطاب اور خصوصی خط کے ذریعے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ وہ اس کا فیصلہ کرے مگر عدالت عظمیٰ نے بال پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی۔ مگر سیاستدان باہم اختلافات کے باعث ٹی او آر طے نہ کرسکے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان' ممبر قومی اسمبلی شیخ رشید احمد اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی درخواستوں کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے' شیخ رشید احمد آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت ساتھ ہی سراج الحق نے بھی صادق اور امین کے معیار پر پورا نہ اترنے پر وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔ کیس میں وزیر اعظم نواز شریف' وزیر خزانہ اسحاق ڈار ' ممبر قومی اسمبلی کیپٹن صفدر کی اہلیت جبکہ مسئول علیہان مریم نواز' حسن نواز اور حسین نواز کو فریق بنایاگیا تھا۔ اگرچہ یہ ایک عدالتی معاملہ تھا لیکن اس کی سیاسی اہمیت وزیر اعظم کے بچوں پر الزامات اور وزیر اعظم کے خاندانی کاروبار و آمدن اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ذریعہ اور رقم کے سوال سے معاملے کی اہمیت دو چند تھی۔ سیاسی حلقوں میں اس کیس کو اہمیت دینا فطری امر تھا۔ گو کہ عدالتی معاملات کو عدالتی معاملات تک ہی محدود رکھنا ہی مناسب ہوتاہے لیکن اس کیس پر کمرہ عدالت کے باہر بھی عدالتیں لگتی رہیں جس کے باعث عوام کی اس کیس اور اس کے نتیجے میں دلچسپی پیدا ہونا فطری امر تھا۔ مقدمے کے عدالت میں فریقوں کے علاوہ عوام اور کسی حد تک میڈیا اگر فریق نہیں تو دو نوعیت کی رائے ضرور رکھتی تھی اور اپنے اپنے مزاج ' مفادات اور دلچسپی کی حد تک تائید و حمایت اور مخالفت بھرپور انداز میں دیکھی گئی۔ پانامہ لیکس کے عدالتی فیصلے سے قطع نظر اس سے وطن عزیز میں ایسے ایسے سوالات اور نکات سامنے آئے جو عوام اور خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے کے زاویہ نگاہ اور سوچ میں تبدیلی کا باعث ضرور بنا ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کا حافظہ کمزور بھی ہے اور وہ شعوری تدبر کے ساتھ نہیں بلکہ موڈ مرضی اور جذبات سے فیصلے کرنے کی عادی ہے وگرنہ اس مقدمے کے دوران عدالت اور میڈیا پر بحث کے دوران جو سوالات سامنے آئے اس سے جہاں من حیث المجموع سیاستدانوںکے چہروں سے نقاب الٹ گیا وہاں یہ بات کھل کر عوام کے سامنے آگئی کہ کس طرح ان سے ہر جانب سے کھلواڑ ہوتا رہا جو اب بھی جاری اور آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ الایہ کہ عوام کوئی ٹھوس اور مثبت طرز عمل اختیار کرکے اسے ناممکن بنا دیں۔عدالتی فیصلے کے مضمرات کے طور پر اگر دیکھا جائے تو قبل از وقت کے جن انتخابات کا عندیہ دیا جا رہا تھا یا اس کے امکانات کے طور پر سیاسی جماعتوں نے جو سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں وہ سارے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔ اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف کو اس وقت کسی فوری مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن وزیراعظم ابھی اپنے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کو مکمل طور پر غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوئے۔اگرچہ یہ سوال پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے پوچھا ہے مگر اس سوال کی عوامی اہمیت اور عوام کے ذہنوں میں ہونے کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگر ججوں نے یہ فیصلہ دینا تھا تو قوم کا وقت ضائع کیوں کیاگیا۔عدالت سے سوال پوچھنے والوں اور عوام کو عدالتی او رقانونی پیچیدگیوں سے مکمل واقفیت کا نہ ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوال بھی اسی تناظر میں اٹھایاگیا ہے لیکن بہر حال یہ سوال اس قدر بے معنی اور معصومیت پر مبنی نہیں بلکہ اپنی جگہ وزن ضرور رکھتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے اس معاملے کو ابتداء ہی میں جو اعتراض لگا کر واپس کردیاگیا تھا بات گھوم پھر کر اسی جگہ واپس آگئی ۔ اگر اسی وقت صحیح راہ کا انتخاب کیاجاتا تو جس مشق کے اختتام پر جو نتیجہ سامنے آیا ہے ایسا نہ ہوتا بلکہ اس سے بہتر اور نتیجہ خیز صورت کا سامنے آنا نا ممکن نہ تھا۔ بہر حال قوم اب ایک مرتبہ پھر اس امید کے ساتھ تحقیقات کے نتائج کی منتظر رہے گی کہ یہ بے نتیجہ ثابت نہیں ہوں گے بلکہ دودھ کادودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں