فیصلہ ہو ا نہیں مئوخر ہوا

فیصلہ ہو ا نہیں مئوخر ہوا

آج سے کچھ عرصہ پہلے عدالت عظمیٰ پاکستان کے پانچ ججوں نے پیپلز پا رٹی دور کے وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی کو منی لا نڈر نگ کیس میں سوئس بینک کو عدالت کے حکم پر خط نہ لکھنے کی بنا ء پر توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کا حکم سنا یا جس کی بنیا د پر وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نا اہل قرا ر پا گئے اوریو ں ان کے اقتدار کا سورج غر وب ہو گیا ۔ ان پانچ ججز میں ایک آصف کھو سہ بھی شامل تھے جنہوں نے پانا ما لیکس کے مقدمے کے فیصلے میں نو از شریف کے بارے میں فیصلہ دیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے معیا ر پر پورا نہیں اتر تے گویا وہ صادق وامین نہیں ہیں ۔ یہ ہی فیصلہ ان کے ساتھی جج جسٹس گلزار نے بھی دیا ہے جس طرح سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلا نی کے مقدمے کی سما عت پانچ رکنی بنچ نے کی تھی اسی طر ح پانا ما کیس کے لیے بھی پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ، اس بنچ میںچیف جسٹس نثار ثاقب غالباًاس لیے شامل نہیں کیو ں کہ جب سابق صدر اسحق خان نے نو از شریف کی حکومت کو بر طرف کیا تھا اس وقت عدالت میں نو از شریف کے دفاع کر نے والے وکلا ء میں نثار ثاقب بھی شامل تھے۔

پا نا مہ لیکس کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے جو فیصلہ سنا یا ہے اس کو حتمی فیصلہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ کہنا زیا دہ درست ہے کہ حتمی فیصلہ مئو خر کر دیا گیا ہے۔ دوججو ں نے تو حتمی فیصلہ دیا ہے کہ نو از شریف صادق وامین نہیں ہیں یہا ں دلچسپ با ت یہ ہے کہ 1993ء میں نو از شریف کے حق میں جس بنچ نے فیصلہ دیا تھا اس کے سربراہ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ تھے جو جسٹس آصف کھو سہ کے خسر بھی ہیں جن کے بارے میں بے نظیر بھٹو مر حومہ نے بہت کچھ کہا تھا ۔ بہر حال جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس کو مسلم لیگ ن والے جشن کے طور پر منا رہے ہیں اور اس کو عمر ان خان اور سراج الحق کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں جب عدالت عظمیٰ کی جانب سے فیصلہ سنا یا گیا اس کے بعد عمر ان خان اور ان کے ساتھی جن میں جہا نگیر ترین بھی شامل تھے عدالت سے منہ لٹکا ئے رخصت ہو ئے اور فوری کوئی رد عمل نہیں دیا ، تاہم عمر ان خان کے لیے یہ مشکل پید ا ہو گئی ہے کہ نہو ں نے بار بار کہا ہے کہ ان کا عدالت پر مکمل اعتما د ہے جو بھی فیصلہ آیا من و عن ما ن لیں گے۔ اس کی بہ نسبت مسلم لیگ والے بڑے شاداں نظر آئے اور اس کو نو از شریف کی جیت قرار دے رہے ہیں اگر فیصلہ کا سنجید گی سے جا ئزہ لیا جا ئے تو اس میںکسی کی ہا ر یا جیت نہیں ہوئی ہے بلکہ تکنیکی طور پر مقدمہ ابھی اپنی جگہ قائم ہے اور جیسا کے تین ججو ںنے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیشن بنا نے کا حکم دیا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ مقدمہ ابھی عدالت ہی کے کو رٹ میں ہے جس کا فیصلہ مشترکہ کمیشن کی رپورٹ آنے پر کیا جا ئے گا ۔ جب سپر یم کو رٹ میں مقدمے کی سما عت شروع ہوئی تھی اسی وقت ججز کے لیے اس میںالجھا ؤمو جو د تھا جس کی بنا ء پر چیف جسٹس نے اس وقت بھی تجو یز پیش کی تھی کہ تحقیقاتی کمیشن بنا دیا جا ئے عمر ان خان جو پہلے تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کر تے تھکتے نہیں تھے انہو ں نے کمیشن کے قیا م سے اتفا ق نہیں کیا ، البتہ یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہو تی ہے پہلے صرف ایف آئی اے تحقیقات کر تی مگر اب سپر یم کو ر ٹ نے اس میںدوسری ایجنسیو ں کو بھی شامل کر دیا ہے اس طر ح یہ کمیشن ایک طاقتور اور مضبوط تحقیقاتی کمیشن کے روپ میں سامنے آئے گا ، کمیشن اپنی پیش رفت کی ہر دو ہفتے بعد رپو رٹ عدالت کو پیش کرے گا ، مطلب یہ کہ کا م لمبا ہو گیا ہے ، جہا ں تک مسلم لیگ ن کے لیڈروں کے جشن کا تعلق ہے تو اپنی جگہ الگ با ت ہے ، تاہم یہ ہے کہ ان کے لیے ایک بڑا خطر ہ ٹل گیا ، یہ خطرہ نو ا ز شریف کی نااہلی کا تھا چنا نچہ عوا م جو بے چینی کے ساتھ عدلیہ کافیصلہ سننے کے منتظر تھے اب ان کو کمیشن کی تحقیقات کی خبر یں بے چین رکھیں گی ، اور اس کے بعد عدلیہ کا اس کمیشن کی رپو رٹ پر متعلقہ فیصلہ بھی بے صبر کر ے گا ۔ گویا نو از شریف کی جان نہیں چھٹی ہے اور اس امر کا امکا ن ہے کہ کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ تیا ر ی میں ایک سال سے زیا دہ عرصہ لگ جا ئے اورجب تک ملک میں عام انتخابات کا انعقاد بھی ہو جا ئے گویا نو از شریف اپنی مدت پو ری کر تے نظر آرہے ہیں ، البتہ سیا ست کو ایک نئی جہت مل گئی ہے اور اب مسلم لیگ ، عمر ان خان اور دیگر سیا سی جما عتوں کے بیچ سیاسی تنور نئے شعلو ں کے ساتھ گرم ہو گا۔ نوا ز شریف کے صاحبزادو ں کو اب کمیشن کے سامنے پیش ہو کر نئی تحقیقات کا سامنا کر نا ہوگا ، دونو ںصاحبزادے بیرون ملک مقیم ہیںکیا وہ بہ نفس نفیس کمیشن کے سامنے پیش ہو ں گے یہ بات اپنی جگہ الگ سوال ہے۔ کیا کمیشن کے پاس یہ اختیا ر ہو گا کہ وہ کسی کو بیر ون ملک سے طلب کر سکے یعنی اگرکوئی کمیشن کے سامنے پیش نہ ہو نا چاہے تو اس کو کس ذریعے سے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے لا یا جا ئے جہا ں تک نو از شریف کا تعلق ہے تو کیا وہ اس کمیشن کے سامنے پیش ہو ں گے یہ بھی حل طلب بات ہے کیو ں کہ ایسا کمیشن اگر وزیر اعظم کو پیش ہو نے کا کہے گا تو اس کو عدالت سے اجا زت طلب کر نا ہو گی ۔ ماہرین آئین و قانو ن کی جا نب سے ابھی تک کوئی حتمی رائے نہیں مل سکی ہے کہ وزیرا عظم کو طلب کرنے کے لیے کہا ں تک اختیار ہیں اور ان کا استعما ل کس طور ممکن ہے۔ سپر یم کو رٹ کا یہ فیصلہ تین دو کے فرق سے منظر عام پر آیا ہے تاہم عدالت کے دوججو ں کے اختلافی نو ٹ یا فیصلے کے بارے میں الگ رائے کو تو فیصلہ قر ار دیا جا سکتا ہے لیکن تین ججز کے فیصلہ کو فیصلہ تو قر ار نہیں دیا جا سکتا کیو ں کہ ان کی رائے سے مقدمہ اپنی جگہ بر قرا ر ہے اور فیصلہ کمیشن کی رپو رٹ پر کیا جا ئے گالہٰذا یہ بھی غور طلب بات ہے کہ کمیشن کی رپو رٹ کا جائزہ مو جودہ بنچ ہی لے گا یا اس کے لیے پھر کوئی نیا بنچ تشکیل دینا ہو گا کیو ں کہ دو ججز کی تو حتمی رائے آچکی ہے ۔جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے کہ عدالت جو اپیلٹ عدالت ہے وہ دستاویز کو سامنے رکھ کر فیصلہ کر سکتی ہے اور آئندہ بھی کمیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلہ ہو گا ۔

متعلقہ خبریں