ٹی وی تماشے

ٹی وی تماشے

نجی ٹی وی چینلز پر ہم روزانہ ٹاک شوزکے نام سے تماشے دیکھتے ہیں۔ ان کی ایک بنیادی خصوصیت تو یہ ہے کہ ان کے شرکاء کو کبھی ہم نے ایک نکتے پر متفق ہوتے نہیں دیکھا۔ اگر موضوع زیر بحث یہ ہو کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے تو اس میں آپ کچھ لوگ اس کی مخالفت میں بھی دلائل دیتے نظر آئیں گے۔ ہم جیسے سادہ لوح ناظرین کو بھی ایک بار یہ یقین ہو نے لگے گا کہ ہم آج تک جسے مشرق سمجھتے رہے ہیں در اصل وہ مغرب ہے۔ سچ پوچھئے اس نوع کے پروگراموں میں یہ میزبان لوگ بھی بی جمالو سے کم نہیں ہوتے۔ وہ بھی کبھی ایک شریک گفتگو کے موقف کو درست قرار دیتے ہیں تو کبھی دوسرے کی رائے کو صحیح ہونے کی سند عطافرماتے ہیں۔

بعض اوقات تو یہ ٹاک شو میدان جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور شریک گفتگو گھونسوں اور تھپڑوں کا آزادانہ استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پانی کے گلاس ایک دوسرے پر پھینکتے نظر آتے ہیں اورچائے کی پیالیاں اچھالی جاتی ہیں۔ یہ گفتگو ہمیشہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہے اور ناظرین سوچتے ہیں کہ ٹاک شوز میں اس لا یعنی گفتگو کی ہمیں کتنی نفلوں کا ثواب ملا۔ بعض اوقات اس نوع کے ٹاک شوز میں گفتگو اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتی ہے جب کوئی ایک شخص کچھ عرصہ پہلے کسی ایک سیاسی جماعت کی پالیسیوں کے حق میں بولتا نظر آتا ہے اور اب کسی دوسرے کیمپ کا نمائندہ بن کر اپنی پرانی جماعت کی مخالفت میں پیش پیش ہوتا ہے۔ جب اس سے کسی پرانے پروگرام کے کلپس دکھا کر وضاحت مانگی جاتی ہے تو وہ کچھ ایسے دلائل دینا شروع کردیتا ہے جن کے سامنے روایتی گرگٹ بھی اپنا رنگ بدلنا بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور یہ کہ سیاسی معاملات میں کوئی رائے آخری ' قطعی اور حتمی نہیں ہوتی۔ چلئے مان لیتے ہیں لیکن ان سے کوئی یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا کہ آپ کی اس سیاسی قلا بازی کا ملک و قوم کو کتنا فائدہ ملا مثلاً کچھ عرصہ پہلے ہم نے دیکھا کہ ایک اینکر پرسن پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑا سامنے آنے والے رکن اسمبلی سے انگریزی میں کچھ جملے کہنے کی فرمائش کرتا جواب میں یا تو معذرت کردی جاتی یا پھر کچھ ایسی انگریزی سننے کو ملتی جس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے کسی ڈکشنری کی ورق گردانی ضروری ہوجاتی ہے۔ ایک دفعہ یوم پاکستان کے موقع پر وہاں کراچی کی صوبائی اسمبلی کے سامنے معزز ارکان اسمبلی سے قومی ترانہ سنانے کی فرمائش کی گئی۔ بیشتر لوگوں نے معذرت کردی یا پھر دو ایک مصرعوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ خیر یہ تو اب ضروری بھی نہیں کہ قومی ترانہ ہر پاکستانی کو یاد ہو۔ اور یہ پاکستانیت کے لئے کوئی آئینی شرط بھی نہیں۔ ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب گزشتہ 23مارچ کو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے کچھ سیاسی نمائندوں سے اس دن کی اہمیت پر دو ایک جملے کہنے کی درخواست کی۔ یاد رہے کہ ضیاء الحق کے دور میں مطالعہ پاکستان کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کرایاگیا تھا۔ کالجز میں اس مضمون کی تدریس کے لئے ایک علیحدہ شعبہ قائم ہوا جیسے کہ نام سے ظاہر ہے۔ گزشتہ 23مارچ کو جب کچھ سیاسی نمائندوں سے پوچھا گیا کہ قرار داد پاکستان کب اور کس نے پیش کی اور اس میں کیا بنیادی مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس روداد کی ایک دلچسپ تفصیل وسعت اللہ خان نے اپنی ایک تحریر انجام گلستان کیا ہوگا میں پیش کی ہے۔ ہم قارئین کی دلچسپی کے لئے اس کے کچھ حصے یہاں پیش کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے شعیب صدیقی نے فرمایا مجھے ٹھیک طور سے تو یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ سر سید احمد خان نے پیش کی تھی۔ مسلم لیگ کے کنول نعمان کا جواب تھا 23مارچ کو یہ قرارداد چوہدری رحمت علی نے پیش کی تھی اور سال تھا انیس سو چھیالیس۔ فرزانہ بٹ صاحبہ جو مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتی ہیں ان کی معلومات کے مطابق یہ قائد اعظم نے انیس سو تینتالیس یا بیالیس میں پیش کی تھی۔ انہوں نے یہ شکایت بھی کی مجھے پتہ ہوتا تو تیاری کرکے آتی۔ ایسے نہ پوچھا کریں'یہ سوال۔ اسلام آباد کے سینیٹرز سے بھی پوچھا گیا۔ خیبر پختونخوا کے ایک سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی کا جواب تھا اتنی تفصیل آپ کو کیسے بتائوں ہم ہسٹری کے طالب علم ہیں لیکن آپ بہت چھوٹے ہیں اور سوال بہت بڑا ہے۔ ایم کیو ایم کے صلاح الدین کا جواب قدرے تفصیل سے تھا' ملاحظہ کیجئے۔ دیکھئے قرار داد پاکستان یہ تھا کہ یہ جو ہمارے لاہور کا مینار بنا ہوا ہے مینار پاکستان ' یہ ایک جگہ ہے جو ہم نے بنائی ہے جن میں قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر لوگ تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کراچی یونیورسٹی سے سینیٹر رحمان ملک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی گئی ہے۔ ان کا جواب تھا میں پوری ہسٹری تو نہیں جانتا لیکن مجھے یاد ہے کہ قرارداد پاکستان پیش کرنے والے پاکستان میں نہیں ہیں۔ ہمیں نیشنل ہیروز پر توجہ دینا چاہئے۔ ان کا خیال رکھنا چاہئے۔ وہ آج یو کے میں دفن ہیں۔ اگر ہم ان کو لے آتے تو 23مارچ دوبالا ہو جاتا۔ رحمان ملک کا اشارہ چوہدری رحمت علی کی جانب تھا جو کیمبرج میں دفن ہیں جبکہ قرارداد پاکستان پیش کرنے والے مولوی فضل حق ڈھاکے میں محو آرام ہیں۔ واقعی کیا قسمت پائی ہے' 23مارچ کی قرارداد سے پیدا ہونے والے پاکستان نے۔ یہ کچھ تماشے پرائیویٹ چینلز پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں آپ بھی دیکھئے ہم بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔