طارق فاطمی بھی

طارق فاطمی بھی

روزنامہ ڈان کی گزشتہ 6اکتوبر کی اشاعت نے سارے پاکستان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ اس میں شہ سرخی کے ساتھ وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم نواز شریف کے زیرصدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی خبر شائع ہوئی تھی ۔ قصہ طویل ہے جو یقینا قارئین کی یادداشتوں میں محفوظ ہے بنیادی سوال یہ تھے کہ آیا اخبار میں اجلاس کی جو گفتگو شائع ہوئی ہے وہ ہوئی بھی تھی یا نہیں۔ دوسرا سوال یہ تھا اگر گفتگو ہوئی تھی تو اخبار تک کس طرح پہنچی روزنامہ ڈان نے اس خبر کی تردید شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اس سارے معاملے میں حقیقت تک پہنچنے کیلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے ۔ ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں یہ کمیٹی قائم کر دی گئی اس میں تین سویلین افسروں کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹر سروسز انویسٹی گیشن کا بھی ایک ایک افسر بطور رکن شامل کیا گیا تھا ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اعلان کیا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ 6سے آٹھ دن میں آجائے گی ۔ جسے و ہ وزیر اعظم کے سامنے پیش کرینگے۔ اس رپورٹ کے مرتب ہونے میں کافی دیر ہوگئی۔ اس دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس خبر کی اشاعت کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے ان کا قلمندان واپس لے لیا گیا ۔ کئی دن وہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہی رہے۔ جب رپورٹ کافی عرصے تک نہ آئی تو ایک بار پھر ایک پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا رپورٹ تو تیار ہے لیکن انکوائری کمیشن کے سربراہ جج کا اصرار ہے کہ وہ اس پر اس صورت میں دستخط کرینگے جب یہ رپورٹ متفقہ ہوگی ۔ تاہم اس سلسلے میں ایک اور چونکا دینے والی خبر اس وقت آگئی ہے جب ساری قوم کو پاناما انکشافات سے متعلق مقدمے کے فیصلے کا انتظار ہے۔ یہ خبر آئی ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے میں وزیر اعظم کے امور خارجہ کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیایا گیا ہے ۔ اور وہ آئندہ سات روز تک وزارت خارجہ میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے ۔ خبر جاری کرنے والی نیوز ایجنسی نے بتایا ہے طارق فاطمی پر الزام ہے کہ انہوں نے روزنامہ ڈان کی 6اکتوبر کی اشاعت میں شائع ہونے والی خبر بغیر کسی اجاز ت کے لکھوائی تھی اس خبر کی اشاعت نے بہت سے سوال پیدا کر لیے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ کہ خبر جاری کرنے والی نیوز ایجنسی کو عین اس وقت جب ساری قوم کو پاناما انکشافات کے مقدمے کے فیصلے کا انتظار تھا یہ خبر کس نے دی کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ پاناما کے ہنگامے میں طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹائے جانے کی خبر پر لوگوں کی توجہ نہیں جائے گی ۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ تو ابھی آئی ہی نہیں خبر رساں ایجنسی کو کیسے لیک ہوگئی ۔ لیکن جیسے سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ انکوائری کمیشن نے متفقہ رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے جہاں سے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے قول کے مطابق انہوں نے خود یہ رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کرنی تھی۔ طارق فاطمی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ طارق فاطمی کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی اس بناء پر کی گئی ہے کہ انہوں نے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی خبر بغیر اجازت لکھوائی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کس کے اجازت کے بغیر۔اور اس کے علاوہ دوسرا سوال یہ ہے کہ کس کی اجازت سے اور کس کے ایماء پر یہ خبر لکھوائی۔ اگر یہ خبر طارق فاطمی نے لکھوائی تو لکھی کس نے تھی اور یہ کہ یہ خبر کس کو لکھوائی۔ کیا ڈان کے سرل المیڈا کولکھوائی؟ لیکن سرل المیڈا کی خبر میں تو کہیں اس بات کا ذکر نہیںہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ تو پھر سرل المیڈا نے طارق فاطمی کی سٹوری پر کیسے یقین کرلیا۔ بہر حال جب تک انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آجاتی یہ محض مفروضے ہیں۔ رپورٹ آئی بھی نہیں ہے اور طارق فاطمی پر خبر لکھوانے کا الزام بھی نہ صرف لگ گیا ہے بلکہ اس الزام کے تحت سبکدوشی کا پروانہ بھی مل گیا ہے۔ اس سے پہلے انکوائری کمیشن قائم کئے جانے سے پہلے ہی سینیٹر پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا۔ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے البتہ سوال یہ ہے کہ آیا وزیر ا عظم کے زیر صدارت وزیر اعظم ہائوس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وہ گفتگو ہوئی تھی کہ جس کی تفصیل روزنامہ ڈان نے شائع کی یا کوئی ایسی گفتگو ہوئی نہیں تھی بلکہ سرل المیڈا نے خود ہی ایسی کہانی بنا لی تھی یا لکھی لکھائی کہانی پر یقین کرتے ہوئے (بلکہ گردش کرنے والی خیال آرائی کے مطابق توثیق کے بعد ) کہانی شائع کردی تھی۔اور روزنامہ ڈان نے سرل المیڈا کی کہانی پر یقین کرتے ہوئے خبر کی تردید شائع کرنے سے انکار کردیا تھا۔یہ معلوم نہیں کہ آیا انکوائری کمیشن کو یہ دریافت کرنے پر مامور کیاگیا کہ اس خبر کی اشاعت قومی سلامتی کے منافی ہے یا نہیں۔ تاہم یہ فیصلہ کرنا کسی عدالت کا کام ہونا چاہئے۔ یہ کارروائی تب شروع ہوگی جب انکوائری رپورٹ وزارت داخلہ کوموصول ہوجائے گی اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اسے وزیر اعظم کے سامنے پیش کردیں گے۔ لیکن طارق فاطمی کو رپورٹ آنے سے پہلے ہی وزارت خارجہ میں ان کے عہدے سے سبکدوش کردیاگیا ہے۔ ان کے بارے میں شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بغیر اجازت کے خبر لگوائی تھی۔ اس طرح قومی سلامتی کے منافی خبر شائع ہونے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوجاتی ہے۔ تبھی ان کو اس الزام کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا جائے گا یا نہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں