رکشہ ڈرائیوروں کا پی ایچ ڈی

رکشہ ڈرائیوروں کا پی ایچ ڈی

اڑن کھٹولے سے ہماری مراد پشاور کی سڑکوں پر دوڑنے بھاگنے والے رکشے ہیں چونکہ ہمارا ان سے چولی دامن کا ساتھ ہے یا خدا واسطے کا بیر ہے اس لیے ہم کچھ عرصے بعد ان پر ایک آدھ کالم بصورت میزائل ضرور داغ دیتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ موٹے موٹے مگر مچھوں کو چھوڑ کر ان بیچاروں پر لکھنے سے کیا فائدہ؟مگر جب ان کی حرکتوں پر نظر پڑتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ ان کا سارا کچا چٹھا آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے ۔یہ آپ کو رکشے میں بٹھا کر ہوا ہو جاتے ہیں اب اگر رکشے کی اچھل کود سے آپ کی ہڈی پسلی ایک ہو جاتی ہے یا ٹوٹتی ہے تو ان کی بلا سے انہوں نے تو آپ کو منزل مقصود تک پہنچانے کا عزم کررکھا ہے اور انہیں اس عظیم کام سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی اگر اس دوران کوئی ٹریفک کانسٹیبل چراغ جن کی طرح اچانک نمودار ہوکر ان کا چالان کرنا چاہے تو آپ بھی اس کی سفارش کرتے ہوئے کانسٹیبل کو درگزر سے کام لینے کی درخواست کرتے ہیں اور اس حوالے سے آپ کی سب سے مضبوط دلیل یہی ہوتی ہے کہ غریب آدمی ہے اسے معاف کردو آئندہ احتیاط کرے گا۔ اس قسم کی سفارشوں نے اسے اتنا دیدہ دلیر بنا رکھا ہے جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو سب کی زبان پر یہی جملہ ہوتا ہے صاحب اس بیچارے سے کیا لیتے ہو غریب آدمی ہے غلطی آپ کی بھی تھی یہ بیچارے غریب رکشہ ڈرائیور حالات کے ستم رسیدہ ہیں ۔یہ ایسے موقعوں پر جھٹ جیب سے چالان کی پرچیاں نکال کر گاڑی والے صاحب کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ جناب آج دو مرتبہ بے گنا ہ چالان کیا گیا ہوں یقین کیجیے آج جو مزدوری کی تھی وہ تو ٹریفک پولیس لے گئی ہے بس معاف کردیں میری جیب میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔ہم نے کل اسی طرح کے ایک اڑن کھٹولے کے ڈرائیور سے کہا جناب ہمارا ارادہ ہے کہ آپ کی عظیم شخصیت پر ایک عدد کالم لکھیں سچی بات یہ ہے کہ ہم آپ کے ہاتھوں بہت زیادہ ستائے ہوئے ہیں گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لیے مجبور ہیں کہ کبھی کبھی آپ کے کنجوس کے دل کی طرح تنگ رکشے کو اپنی تشریف آوری سے سرفراز کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کالم یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے بس آپ ہمیں اپنے مسائل بھی بتا دیجیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے ورنہ بصورت دیگر ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ یوم حشر آپ کا مسلسل کلچ دبانے والا سخت ہاتھ ہمارے گریبان کو تار تار نہ کردے!موصوف مڈل پاس اور میٹرک فیل تھے آپ انہیں رکشہ ڈرائیوروں کا پی ایچ ڈی بھی کہہ سکتے ہیں ہماری طرف بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگے جناب ہمارے بھی بہت سے مسائل ہیں سواری ہمارے ساتھ زیادہ کرایہ لینے پر لڑتی جھگڑتی ہے لیکن کیا کریں ہم بھی مجبور ہیں ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ہم نے بھی بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے ہوتے ہیں گھر کا کرایہ دینا ہوتا ہے دنیا ہمیں ظالم سمجھتی ہے لیکن ہم مجبور ہیں کیا کریں! اب حکومت نے نئے پرمٹ بند کررکھے ہیں اس لیے ایک ملکیتی کاغذ پر چھ چھ رکشے چلائے جارہے ہیں۔یہ ہمارے لیے ایک نیا انکشا ف تھا اس لیے حیران ہو کر کہاکہ اسی لیے تو پشاور کی سڑکوں پر نئے پرمٹوں کی بندش کے باوجود ہزار ہا رکشے دوڑتے نظر آتے ہیںجس مقصد کے لیے نئے پرمٹ نہیں دیے جارہے وہ تو پورا نہیں ہورہا ہر چوراہے پر رکشوں کی طویل قطارنظر آتی ہے اکثر بڑے بڑے ٹریفک جام کی وجہ یہ اڑن کھٹولے ہی بنتے ہیں۔آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ جناب اس کا حل تو بہت سیدھا اور صاف ہے ٹریفک پولیس اچھی طرح جانتی ہے کہ ایک رکشے کے کاغذات پر چھ چھ رکشے بھاگ رہے ہیں بس انہیں ان رکشوں کو بند کردینا چاہیے نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری!لیکن پولیس اس طرح نہیں کرتی رکشہ ڈرائیور ان کی مٹھی گرم کردیتے ہیں اور پھر سڑکوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ہمارا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں پولیس کہتی ہے کہ چلتے پھرتے نظر آئو کسی جگہ رکنا نہیں ہے۔ کسی جگہ ہمیں رکنے نہیں دیا جاتا جب سڑک سے سواری اٹھاتے ہیں تو کم ازکم دو سو روپے کا پرچہ دے دیا جاتا ہے کل کی بات ہے کنٹونمنٹ ہسپتال کے پاس چار رکشے کھڑے تھے میں بھی قطار میں لگ گیا۔وہ سٹینڈ تو نہیں ہے لیکن میں نے سوچا کہ ٹریفک کانسٹیبل نے شاید ان کو یہاں کھڑے ہونے کی اجازت دی ہوگی۔ سامنے نظر پڑی تو کانسٹیبل صاحب دانت نکالے خراماں خراماں ہماری طرف آرہے تھے پہلے دو رکشے تو کھسک گئے انہوں نے کانسٹیبل کو دور سے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ہم چونکہ پیچھے کھڑے تھے اس لیے دھر لیے گئے میں نے کانسٹیبل سے بہت کہا جناب ابھی تک مزدوری بھی نہیں کی ہے بس غلطی ہوگئی ہے اس مرتبہ چھوڑ دیجیے لیکن اس نے ہمیں دوسو دس روپے کا پرچہ دے کر ہی چھوڑا۔ ابھی اس کی داستان غم جاری تھی کہ ہماری منزل مقصود آگئی۔ جب ہم رکشے سے اتر رہے تھے تو ہمیں بڑی بے باکی سے کہنے لگا ہمارا کیس بھی لکھنا کہیں ڈنڈی نہ ماردینا!

متعلقہ خبریں