ظلم کا نظام زیادہ نہیں چل سکتا

ظلم کا نظام زیادہ نہیں چل سکتا

گزشتہ سال کابل کے ایک مشہور شنواری ریستورنٹ میں رات کا کھانہ کھاتے ہوئے میری اور میرے پاکستانی دوست کی حیرت آسمانی بلندیوں کو چھونے لگی جب ہمیں ایک مقامی افغان شہری نے علامہ اقبال کے لئے اپنی محبت کے بارے میں بتایا۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ وہ اقبال کا بہت بڑا شیدائی ہے اور اس جیسے نہ جانے کتنے افغان، ایرانی اور دوسری زبانیں بولنے والے مسلمان اقبال کو اپنا راہبر اور رہنما مانتے ہیں۔ بظاہر بہت ہی سادہ لوح نظر آنے والا یہ شخص ایک بہترین تعلیم یافتہ سوچ کا مالک نکلا کہ جس کو دنیاوی علوم اور اپنی مادری زبان کے علاوہ اردو، انگریزی، فارسی اور غالباً روسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو دنیائے فانی سے گزرے تقریباً آٹھ دہائیوں کا عرصہ ہو چکاہے لیکن ان کی فکراور ان کے اشعارآج بھی ہر مسلمان کو تدبرو عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ اقبال نے سینے میں درد بھرے دل کی تڑپ کو الفاظ کی ایسی ترتیب دی کہ برصغیر کے فرسودہ حال لوگ شعلہ ایمانی سے منور ہوگئے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں لفظوں کی گہرائی اور عمل کو نیکی کی راہ پر موڑنے جیسی صفات شامل ہیں۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعرہونے کی حیثیت حاصل ہے۔

آپ نے اپنی شاعری میں خودی کی اہمیت پرزوردیا تاکہ مسلمان خودی کے مراحل طے کر کے اپنی حقیقت جان لیں۔ بلاشبہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ اقبال جس نے پاکستان کی بنیاد اور ایران میں انقلاب بپا کردیا۔ ایک ایسا مفکر کہ جس نے نوجوانوں کوغلامی سے نکال کر عشق کے سمندر میں ڈبو کر کْندن بنایا۔ کیا آج اقبال کا وہ پیغام زندہ ہے؟ آج علامہ محمد اقبال کی اناسویں برسی مناتا ہوا پاکستان ان کے بتائے ہوئے افکار سے مطابقت رکھتا ہے؟ آج ہم ان کے بتائے گئے تصوف، سادگی اور احیائے امت اسلام جیسے بنیادی اسباق کی پیروی کررہے ہیں؟ آج کا پاکستانی اپنی تنگ نظری میں یہ بھولتا جا رہا ہے کہ علامہ اقبال جیسے مفکر خداداد صلاحیتوں کیساتھ تربیت، دین اور دنیاکی صحیح تعلیم اور عصری علوم کے مجموعے سے بنتے ہیں۔ علامہ کے تربیتی اور تعلیمی پس منظر کا ذکر کریں تو اس میں با کردار ماں باپ، بہترین دینی معلم، با کمال غیرمسلم اساتذہ، مدرسے، مشنری اسکول، اس وقت کا سخت قانون و انصاف، اور ریاستی سہولتیں قابل ذکر ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ عظیم مفکران کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ان کی والدہ محترمہ امام بی بی ان پڑھ ہونے کے باوجود ایک مدبر، نیک صفت اور معاملہ فہم خاتون تھیں۔ غریب پروری ان کی نمایاں خصوصیت تھی۔ ان کی امانت اور دیانت کی وجہ سے محلے کی خواتین اپنی امانتیں سونا اور نقدی وغیرہ ان کے پاس رکھوایا کرتی تھیں۔آپ کے والد شیخ نور محمد سیالکوٹ میں کشمیری لوئیوں اور دھسوں کی فروخت کا کاروبار کرتے تھے اور اپنی دیانتداری اور بزرگوں سے لگاؤ کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔
علامہ کے والد کا سیالکوٹ کے اکثر مقامی علماء کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اقبال نے تعلیم کی بسم اللہ مولانا غلام حسن کے مکتب سے کی۔ بعدازاں ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے حاصل کی، علامہ اقبال نے شکاچ مشن ہائی سکول سے اینگلو ورٹیکلر مڈل کا امتحان دیااور آرٹس گروپ میں اول پوزیشن حاصل کی۔پنجاب یونیورسٹی کے تحت ہونے والے میٹرک کے امتحانات میں فرسٹ ڈویژن لی اور ریورنڈ جے ڈبلیو نیگسن جیسے اساتذہ اور منتظمین کے زیر نگرانی پڑھے۔ میٹرک کے بعد شکاچ مشن کالج میں داخلہ لیا، آپ کی کلاس میں کل بیس طالب علم تھے جن میں سے صرف چار مسلمان باقی غیر مسلم تھے۔ لاہور گورنمنٹ کالج سے بی اے کیا اور اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلینڈ اور جرمنی کا انتخاب کیا۔ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے علما، سیاسی رہنما ، قا نو نی ما ہر ین کے علا وہ مختلف علوم وفنو ن اور شعبہ ہا ئے زندگی کے افراد کو یکسو متاثر کیا۔ لیکن حالیہ ادوار پر نظر ڈالیں تو ہمارے سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنما اقبالیات کے فلسفے سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ ہر کوئی جاہ طلبی ، خود غرضی اور خرد با زاری میں مبتلا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی اقدار بھلا کر مذہبی اور آزادانہ سوچ کی شدت پسندی سے پاکستانی معاشرے کا قدرتی توازن بگاڑ دیا ہے۔ آج پا کستا ن کا شمار د نیا کے کر پٹ تر ین ممالک میں ہوتا ہے۔ ہما رے معا شرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکا لا زمی نتیجہ تشدد کی صورت میں ظا ہر ہو تا ہے۔ اگر اس وقت کی قابض قوم کے دور میں ایک مکتب کا مولوی، اسکول کا انگریز استاد، ہندو کلاس فیلوز، فرنگی حکومت، یورپ کا ماحول اور اس جیسے بہت سارے اور اسباب مل کر اقبال کو علامہ اقبال بنا سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آج کے اسلامی، فلاحی، مذہبی اور جمہوری پاکستان میں یا تو جنونی جابر اور یا پھر نقلی مفکر تو پیدا ہورہے ہیں لیکن ایک نئی سوچ ایک نیا ولولا اور ایک نئی امنگ دینے والا فرد بری طرح فلاپ ہوجا تا ہے؟ اسکی سادہ سی وجہ ہے، معاشروں کی ترقی ان کی تنظیم اور نظام انصاف پر منحصر ہوتی ہے۔ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ہمیں اپنے مسائل کے دیرپا حل کیلئے اس نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ ناکامی ہمارا مقدر ہوگی۔

متعلقہ خبریں