مشترکہ حکمت عملی اختیار کیوں نہیں کی جاتی؟

مشترکہ حکمت عملی اختیار کیوں نہیں کی جاتی؟

افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے پاکستان میں داخلے کی مسلسل کوشش میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد تیزی دیکھنے میں آئی ہے جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدیں پہلے ہی بند ہیں گزشتہ روز بھی دراندازی کے ارتکاب کی کوشش کرنے والے گیارہ غیر ملکی دہشت گردوں کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا۔ اس کے باوجود افغانستان کی حکومت بجائے اس کے کہ دہشت گردوں کی پاکستان کی طرف مراجعت کے راستے مسدود کرنے کی ذمہ داری نبھائے الٹا افغان حکومت نے دھمکی دی ہے کہ مبینہ پاکستانی اقدامات کے جواب میں اندرونی' علاقائی اور عالمی طاقت کا استعمال کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان نے خیبر ایجنسی کے بعض سرحدی علااقوں سے مقامی آبادی کا انخلاء کرکے دہشت گردوں کو مسکت جواب دینے کے لئے سرحد پر تازہ دم دستے پہنچا دئیے ہیں جس سے خطرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس ساری فضا کے باوجود میونخ میں سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کو مطعون کرنے کا موقع حسب عادت اور حسب روایت جانے نہیں دیا۔ بجائے اس کے کہ اشرف غنی افغان طالبان کی مزاحمت اور مذاکرات سے انکار پر پاکستان سمیت کانفرنس میں شریک دیگر ممالک سے اپنی مشکلات بیان کرتے اور اعانت طلب کرتے ان کا کہنا تھا کہ جو ملک دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں عالمی برادری کو ان کو تنہا کرنا چاہئے۔ بجائے اس کے کہ اشرف غنی داخلی خانہ جنگی کے اصل اسباب اور فریق کا تذکرہ کرتے یہاں پر بھی ان کا خیال تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ریاستوں کے مابین غیر اعلانیہ جنگ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک افغان حکام اس طرح کی غلط فہمی کا شکار رہیں گے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرکے اس سے نمٹنے کی ٹھوس کوشش نہیں کریں گے طنز کے تیر برسانے اور اشارے کنایوں میں پڑوسی ممالک کو مطعون کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ خود اشرف غنی کو اس کانفرنس میں اس امر کا اعتراف تھا کہ طالبان افغان حکومت سے مذاکرات سے انکاری ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک افغانستان کی حکومت داخلی طور پر افغان طالبان جو افغان آبادی کاحصہ اور اثرات کی حامل ہیں جن کی یہاں تک کہ عالمی میڈیا بھی اس امر کا معترف ہے کہ افغانستان میں طالبان کابل کے اطراف سے لے کر سرحدی صوبوں میں پوری قوت رکھتے ہیں اور یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ امریکہ اور نیٹو کے کیل کانٹوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس لاکھوں کی فوج افغان طالبان کو زیر کرنے میں ناکامی کاشکار رہی۔ اس حقیقت کو تسلیم کرکے اپنے اندرونی عناصر سے معاملات طے کرنے کی سعی کی بجائے افغان صدر اور افغان وزارت خارجہ پاکستان کو اپنے اندرونی حالات کا ذمہ دار ٹھہرانے کی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں۔ دوسری جانب افغان فوج کے سربراہ از خود اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود جن دہشت گردوں کی فہرست دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے یہ فہرست دوسرے ذرائع سے بھی موصول ہوئی ہے جو از خود اس امر کا اعتراف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ایسے میں بجائے اس کے کہ افغانستان کی حکومت ان مشترکہ دشمن عناصر کی سرگرمی سے سرکوبی کے لئے پاکستان سے ممکنہ اعانت حاصل کرے الٹا پاکستان کو مطعون کیاجا رہا ہے اور پاکستان کو اپنے داخلی معاملات کا ذمہ دار گرداننے کی غلطی بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قرار دینا کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ایک کھلی حقیقت سے جان بوجھ کر انکار ہے اور یہی خرابی کا وہ نکتہ ہے جس کے باعث افغانستان میں حالات بہتر ہونے کی بجائے بگڑ رہے ہیں۔ بعض صوبوں میں غیر اعلانیہ طور پر افغان طالبان کی متوازی انتظامیہ حکومتی عمال پر برتری رکھتی ہے اور افغان حکومت ان کے خلاف کارروائی کی سکت نہیں رکھتی ۔ اس طرح کی صورتحال میں بجائے اس کے کہ معاملات کے حوالے سے اندرونی گروہوں کی شرائط کو زیر غور لاکر ان کے لئے گنجائش پیدا کی جائے افغان حکام پاکستان کو اپنے مسائل کا ذمہ دار گردانتے ہیںجو خلاف حقیقت ہی نہیں مسائل کا باعث بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جب تک حکومتی سطح پر ہم آہنگی اور مسائل کے مشترکہ حل پر اتفاق نہیں ہوگا پاکستان کو افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد اور خود افغانستان کو داخلی مشکلات کا مسلسل سامنارہے گا جس کا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہونا فطری امر ہوگا۔ دونوں ممالک کی قیادت کو اپنے اپنے داخلی معاملات پر معروضی انداز میں نظر ڈالنے اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ا س کے تناظر میں پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام اس مشکل سے نکل آئیں۔

متعلقہ خبریں