خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

لواری ٹنل کی تعمیر میں خدمات انجام دینے والے ہنر مندوں کی ورکشاپ پر تودہ گرنے اور بونی میں تودہ گرنے سے مجموعی طور پر آٹھ افراد کے جاں بحق ہونے اور دس افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ ایک ناگہانی قدرتی حادثات ضرور ہیں اس طرح کے غیر متوقع واقعات اور حادثات بارے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور خطرات کے مقامات کی نشاندہی کرکے لوگوں کو خبر دار کرنے کی ذمہ داری کون نبھائے۔ اس طرح کے اقدامات کا تصور تو کیا جاسکتا ہے مگر عملی طور پر ان کو ہوتے ہوئے دیکھنے کا خواب کھلی آنکھوں خواب دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ لیکن بعد از حادثات صورتحال سے نمٹنے کے لئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے نام پر وفاقی اور صوبائی سطح کے دو نام نہاد ادارے ضرور موجود ہیں جن کی کارکردگی یہ ہے کہ سویلین رضا کار اور ادارے تقریباً ہر واقعے میں ان سے سبقت لے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز کے واقعے میں بھی آرمی' چترال سکائوٹس' لیویز' پولیس کے جوانوں اور رضا کاروں نے تو امدادی کاموں میں حسب معمول حصہ لیا مگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ داروں کے عمال اور کارکنوں کی رسائی اور امدادی کاموں میں حصہ لینے کا کوئی تذکرہ نہیں۔ صرف پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن کے نمبرز جاری کرنے کا تکلف کیا گیا ہے۔ اگر چترال میں پی ڈی ایم اے کا کوئی مرکز ہوتا اور عملہ موجود ہوتا تو ان نمبروں پر عوام کے رابطہ کرنے پر ان کی مدد ممکن تھی مگر چترال میں بار بار کے قدرتی حادثات کے باوجود قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہنوز اس ضرورت کا احساس تک نہیںہوسکا ہے۔ چترال میں ریکارڈ توڑ برفباری کے باعث اس سال برف کے پھسلنے سے بننے والے برفانی تودوں کے سیلاب میں گھروں اور مویشی خانوں کے دب جانے سے قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اورمالی نقصانات کا کافی حد تک خطرہ اور اندیشہ ہے جبکہ گرمیوں میں سیلاب بھی متوقع ہیں۔ اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے چترال میں پی ڈی ایم اے' این ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیموں کے دفاتر قائم کرکے بروقت تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے۔ چترال کے سکولوں' کالجوں' یونیورسٹی کیمپسز اور گائوں کی سطح پر نوجوانوں کو رضا کارانہ ہنگامی امداد کی تربیت کا بندوبست کیاجائے۔ حکومت سکائوٹس' پولیس اور لیویز پر انحصار کرنے کی بجائے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی اور انتظامات کرے۔ چترال کی دو ر افتادگی اور حکومت کی بے حسی پر ''خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک'' کا مصرعہ صادق آتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر بار بار کے حادثات اور آفات کے باوجود ہنوز ٹھوس اقدامات کرنے میں آخر امرمانع کیا ہے؟۔
جگ ہنسائی کا باعث بننے والا واقعہ
پشاور اسلام آباد موٹر وے پر خاتون کی معیت میں دو کار سوار نوجوانوں کی موٹر وے پولیس اور خیبر پختونخوا پولیس سے دھینگا مشتی اور فرار کا واقعہ اس بناء پر مشکوک لگتا ہے کہ جو کہانی پولیس بتا رہی ہے اگر واقعتا ایسا ہی ہوا ہے تو پھر موٹر وے پولیس اور خیبر پختونخوا کے ڈیوٹی پر مامور عملے کو گھر بھیج دینا چاہئے جو دو نوجوانوں کو قابو نہیں کرسکتے۔ یہ عجیب سی کہانی ہے کہ بڑی جدوجہد کے بعد گاڑی کو تو روکنے میں کامیابی ملتی ہے ایک کار سوار نوجوان کو گاڑی سے اتار کر گرفتار بھی کیا جاتا ہے مگر د وسرا نوجوان لڑکی کو لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ وہ لڑکا کون تھا ؟وہ لڑکی کون تھی؟ ان کے پر اسرار فرار سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ لڑکا لڑکی از خود فرار نہیں ہوئے بلکہ پولیس نے ان کوموقع دیا ہے جو بلا وجہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ تحقیقات کے بعد ہی جانی جاسکتی ہے۔کیاموٹر وے اور خیبر پختونخوا پولیس اب اس قدر بھی پیشہ ورانہ تربیت کی حامل نہیں کہ کسی مشکوک گاڑی کو روکنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور گاڑی روکنے کے بعد صورتحال سے کس طرح سے نمٹا جائے؟۔ اگر پستول لہرانے والا نوجوان پولیس کا گھیرا تو ڑ کر نکل سکتا ہے تو پھر خدانخواستہ ان کی سمگلروں اور دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو کیا وہ ان کا بھرکس نہ نکال دیں گے؟ گزشتہ روز دہشت گردی کے واقعے میں ایف سی اہلکاروں کے سامنے سے آنے والے دو چادر پوش دہشت گردوں کا با آسانی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجودراہ فرار اختیار کرنے کامنظر تو ٹی وی سکرین پر ہم دیکھ چکے ہیں جس کے بعد اب اس طرح کے کسی بھی واقعے کے امکانات ناممکن دکھائی نہیں دیتے ۔ آئی جی موٹر وے پولیس اور آئی جی خیبر پختونخوا کو اس واقعے کی جامع تحقیقات کراکے اصل صورتحال کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس واقعے سے پولیس کے حوالے سے پیدا ہونے والے منفی تاثرات کو دور کیا جاسکے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پولیس کی جگ ہنسائی کا باعث بننے والے اس واقعے کے اصل محرکات کو سامنے لایاجائے گا تاکہ اور کچھ نہیں تو ذہنوں کا خلفشار ہی دور ہو۔

متعلقہ خبریں