دہشت گردوں سے نجات کیسے ممکن ہے

دہشت گردوں سے نجات کیسے ممکن ہے

اپنے معروضی حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی ہم نے خود طے کرنی ہے۔ بہت شور کیا جاتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد نہیںہو رہا۔ میرے خیال میں یہ نیشنل ایکشن پلان تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسا نیشنل ایکشن پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے مسئلہ کو انتظامی نقطئہ نظر کے ساتھ ساتھ سیاسی مسئلے کے لحاظ سے بھی ایڈریس کرے۔ نام نہاد روشن خیالی کے نام پر مغربیت اپنانے کی روش جاری ہے اور بیرونی ایجنڈے پر گامزن بعض دانشور حضرات دانستہ طور پر انتہا پسندی کی بجائے اسلام کو ویسے ٹارگٹ کر رہے ہیں جیسا کہ مغرب چاہتا ہے۔ یہ طرز عمل ردِ عمل پیدا کرتا ہے لہٰذا ہم نے ایک ایسا ایکشن پلان ترتیب دینا ہے جو دہشت گردی کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ سمجھ کر ڈیل کرے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ریڈیکل ازم اوراسلام ازم میں فرق روا رکھنے کی ضرورت ہے۔ قومی ٹی وی کو چند سیکولر نظریات رکھنے والوںکے حوالے کر کے کیا ہم انتہا پسندی کی بیخ کنی کی سوچ رکھتے ہیں۔ اس طرح تو یہ آگ اور بھڑکے گی۔ اسلام اور چیز ہے اور انتہاپسندی (ریڈیکل ازم) دیگر قسم کی چیز ہے۔ ہم ریڈیکل ازم کے مقابلے میں قوم کو یہ ترغیب دینے کی کوشش کریں گے کہ وہ ویلنٹائن ڈے منائے اور کھلے عام اس طرح کے دنوں کو منانے کی تشہیر کریں گے تو یہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ جیتنے کی کیا بہتر حکمت عملی ہوگی؟ بھلا ہو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جس نے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی ورنہ ہم سال گزشتہ ٹی وی چینلز پر جو مناظر دیکھ چکے ہیں اسے دیکھ کر یقین نہ آتا تھا کہ یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ یقینی طور پراسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام ایک مثبت اقدام تھا لیکن میں نے سرکاری ٹی وی پر ایک سرکاری اینکر کو کہتے سنا کہ یہ پابندی عجیب و غریب ہے۔ اینکر صاحب کا استدلال تھا کہ آپ ویلنٹائن ڈے نہیںمنانا چاہتے تو نہ منائیں دوسروں کو آپ ایسا کرنے سے کیوں روکتے ہیں۔ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ریڈیکل ازم کو نشانہ بناتے بناتے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو پاکستانی معاشرہ سے مائنس کرنے کا بیڑہ اُٹھا لیاہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ ایک مسلم معاشرہ اسلام سے کٹ کر آخر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ پاکستانی سوسائٹی تو ویسے بھی وہ معاشرہ ہے جس میں اسلام کو اپنانے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔ ریڈیکل ازم کو ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسلام کو ختم کرنا یا خدا نخواستہ ترک کرنے کا سوچ لیں ۔ ترکی میں اس سوچ کا ایک مظہر ہم دیکھ چکے ہیں۔ ایک عرصہ سیکولرازم کی گمنام اور اجنبی راہوں میں گزار کر ترک معاشرہ بالآخر دوبارہ اسلامی تعلیمات کی طرف لوٹ آیا ہے۔ ہمیں مغرب زدہ بنانے کی خواہش رکھنے والے کیوں بھول جاتے ہیںکہ ترکی نے ترک مذہب کیا تو سوائے رسوائی کے اس کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔ مشہور برطانوی مؤرخ ٹائن بی نے پچاس کی دہائی میں کہا تھا کہ ''ہم ترکی کو کہتے رہے کہ وہ اپنا مذہب ترک کر دے اور جب اس نے ایسا کر دیا تو ہمارے پاس اس کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے ماسوائے توہین کے۔''چنانچہ یہ اہم نکتہ جسے ہم نیشنل ایکشن پلان بناتے ہوئے فراموش کر بیٹھے ہیں اُسے تبدیل شدہ پلان میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس کا اظہار سرکاری سطح پربھی ہو اور قومی میڈیا میں بھی جس کی جھلک دکھائی دے یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی مسئلے کی حیثیت سے ایڈریس کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے معاشرے کو مغرب زدہ بنانے کی ترغیب ملتی ہو اور وہ ردِعمل کی نفسیات کو جنم دینے کا باعث بنے۔ 

جہاںتک انتظامی ہینڈلنگ کی بات ہے تو پے در پے ہونے والے خود کش حملوںنے ہماری کمزوری عیاں کر دی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا بہت ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ آٹھ دس دنوں میں ملک کے چاروں صوبوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے اس کامیابی پرکئی نئے سوالات اُٹھا دیے ہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے خلاف نئی صف بندی کر چکے ہیں اور وہ پوری قوت سے ہم پر حملہ آور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انتظامی کمزوریوں کو بھی دیکھیں اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھیں کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت اور افغانستان میں گٹھ جوڑ کیسے اور کیونکر ختم ہوگا۔ بھارت جب تک افغانستان میں بیٹھا ہے یہ پاکستان دشمن طاقتوںکو طاقت بہم پہنچاتا رہے گا۔
کیسی عجیب صورت حال ہے کہ ہم حافظ سعید جیسے لوگوںکو نظر بند کرکے بھارت کے خلاف کشمیر میںلڑی جانے والی پراکسی وار کو ختم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ جب کہ بھارت پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد عناصر کا پشت پناہ بن کر انہیں پاکستان میں حملوںکے لیے اُکسا رہا ہے۔ یہ دور خارجہ پالیسی کی شدید ناکامی کا دور ہے ورنہ کیا ہماری تاریخ میں کبھی اس طرح بھارت افغانستان کا گٹھ جوڑ بن پایا ہے کہ جس میںایران کا کردار ہے۔ سمجھ نہیںآتا کہ یہ اچھے تعلقات پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے کیوں استعمال نہیں ہورہے؟ دوسری طرف حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کو بھی ہم نے کھو دیا ہے۔ خارجہ سطح پر یہ کیا ہو رہا ہے اورکیوں ہو رہا ہے کی جانب کیا کوئی توجہ دینے والا ہے؟ نیشنل ایکشن پلان کا سب سے اہم نکتہ ملک کے عدالتی نظام کو اس قابل بنانا تھا تاکہ وہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکے۔ مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں بہتری لانے کے لیے اب تک حکومت نے جو پیش رفت کی ہے وہ کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوںلگتا ہے کہ فوج ہی صرف وہ ادارہ ہے جو مکمل تندہی اور توجہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ جہاں تک حکومتِ وقت کا تعلق ہے تو اس نے بہت سے معاملات کو فارگرانٹڈ لے رکھا ہے اسی لیے کامیابیاں ناکامیوں میں ڈھل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں