پی ایس ایل انتظامیہ کے دو فیصلے

پی ایس ایل انتظامیہ کے دو فیصلے

ایک سال قبل دوبئی میں شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ پر اکثر پاکستانی خوشی کے شادیانے بجاتے دکھائی دے رہے ہیں کہ انڈیا کی آئی پی ایل اور بنگلہ دیش کی بی پی ایل کے مقابلے میں اب پاکستان بھی پیچھے نہیںہے۔ اس سال جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تو افتتاحی تقریب میں یہ اعلان کیا گیا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوگا۔ پی ایس ایل کا ابھی ایک میچ ہی ہوا تھا کہ میں نے ایک دوست کے ساتھ رسمی گفتگو میں کہہ دیا کہ اگر پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی کرانا تھا تو اتنا پہلے اس کا اعلان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوست نے کہا کیوں؟ میرا جواب تھا کہ پاکستان کے حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان دنوں چونکہ حالات اس قدر خراب نہ تھے اس لیے دوست نے میری بات سے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ ہمارے مخالفین کو بھی پتہ چلناچاہیے کہ ہم نہ صرف ٹورنامنٹ کرا سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک میں فائنل بھی کرا سکتے ہیں۔ 

جب دو دن بعد ملک کے مختلف حصوں میں پے در پے خود کش حملے اور دھماکے ہوئے تو دوست نے کہا کہ آپ کا نقطۂ نظر درست تھا، واقعی ہمیں لاہور میں فائنل کرانے کی منصوبہ بندی خفیہ رکھنی چاہیے تھی۔ اگرچہ یہ بات طے ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں خفیہ نہیں رکھی جا سکتیں لیکن جن حالات سے ہم دوچار ہیں یا جن مشکل راہوں سے ہم گزر رہے ہیں اس کا تقاضا تھا کہ قدم انتہائی پھونک پھونک کر رکھے جاتے۔ پی ایس ایل انتظامیہ نے اگر لاہور میں فائنل کھلانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو اس کی اس قدر تشہیر کرنے کی ضرورت ہر گز نہ تھی۔
ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ میڈیا میں اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ جو کچھ بھی ہو جائے فائنل لاہور میں ہی کھیلا جائے گا۔ پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ کی طرف سے اگرچہ یہ سب اس لیے کہاجا رہا ہے کہ شرپسند عناصر ہمیں کمزور نہ سمجھیں لیکن ایک لمحہ کے لیے سوچئے پی ایس ایل انتظامیہ کی حد سے زیادہ بہادری عوام پر بھاری نہیں پڑ رہی؟
پی ایس ایل انتظامیہ کا دوسرا کارنامہ ملاحظہ ہو کہ انہیںا سپاٹ فکسنگ کا پہلے سے علم تھا' وہ مسلسل کھلاڑیوں پر نگاہ رکھے ہوئے تھے ۔ بکیوں کے ساتھ ہونے والی کھلاڑیوں کی ڈیل کا بھی علم تھا،پاکستانی کھلاڑیوں اور بکیوں کی طرف سے ایک دوسرے کو کیے جانے والے واٹس ایپ اور میسجز سے بھی آگاہ تھے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے کی اجازت دی تاکہ ان کے ہاتھ ثبوت آ سکیں۔ جب میچ کھیلنے کے بعد ان کے ہاتھ ثبوت آ گئے تو انہوں نے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل سے نکال کر ملک روانہ کر دیا۔
پی ایس ایل انتظامیہ کی مذکورہ بالا پالیسی بارے غور کیجئے اور اپنا سر دھنئے کہ انہوں نے کھلاڑیوں اور بکیوں کے درمیان ہونے والی ڈیل بارے جانتے ہوئے بھی دانستہ طور پر ان کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے دیا ، میچ کھیلنے کے بعد گو پی ایس ایل کے ہاتھ ٹھوس ثبوت آ گئے جن کی بنیاد پر انہوں نے کھلاڑیوں کے خلا ف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے انہیں نہ صرف پی ایس ایل سے نکال باہر کیا بلکہ دیگر پابندیاںبھی ان پر عائد کر دیں۔
پی ایس ایل انتظامیہ کی اس عقل مندی سے کیا ملک کی بدنامی نہیں ہوئی، کیا پی ایس ایل کو نقصان نہیں پہنچا؟ کیا ایسی صورت نہیں ہو سکتی تھی کہ سانپ بھی مر جاتا اور لاٹھی بھی بچ جاتی؟ پی ایس ایل انتظامیہ اگر تھوڑی سی عقل مندی کا مظاہرہ کرتی تو ایسا کیا جا سکتا تھا کہ کھلاڑیوں کو بلا کر انہیں بتایا جاتا کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں اس سے نہ صرف یہ کہ ان کا کیریئر داؤ پر لگ سکتا ہے بلکہ ملک کی بھی بدنامی ہو گی۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ پی ایس ایل نے ایسا سوچا ہوتا تو بہت کچھ داؤ پر لگنے سے بچ سکتا تھا۔
پی ایس ایل انتظامیہ کے حالیہ فیصلے کو دیکھئے اور چند سال قبل برطانیہ کی ایک عدالت کا فیصلہ دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔برطانیہ کی ایک عدالت نے ٹریفک پولیس کوچھپ کر یاایسی جگہ پر بیٹھ کر ٹریفک کومانیٹرکرنے سے اور اس کے بعد خلاف ورزی پرشہریوں کے چالان کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ ایسا کرنے سے شہریوں کا نقصان ہوتا ہے ،عدالت نے یہ بھی کہاکہ ہمیں شہریوں کا نقصان نہیںبلکہ آگاہی مقصود ہے لہٰذا ٹریفک پولیس چھپ کر شہریوں کا چالان نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب پی ایس ایل کے دو فیصلوں یعنی حالات کا جائزہ لئے بغیر لاہور میں فائنل کا اعلان اورا سپاٹ فکسنگ میںملوث کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار سے اندازہ لگائیں کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ملک وقوم کو کس طرح نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔
وزیر اعظم میاںنواز شریف کو چاہیے کہ جہاںوہ دہشت گردی اور اس سے جڑے دیگر عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوںکے بعد دہشت گردی میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ پی ایس ایل انتظامیہ نے اپنے تئیںپی ایس ایل کو کامیاب بنانے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں لیکن کیا اس سے ملک کی جگ ہنسائی نہیں ہوئی۔ کہیں بکیوں کا مقصد یہی تو نہیں تھا جو پی ایس ایل انتظامیہ نے پورا کردیا ہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات غور طلب ہیں۔

متعلقہ خبریں