پریشانی کا ہے کی؟؟

پریشانی کا ہے کی؟؟

ایک ایسا معاشرہ جس کی جڑیں گل سڑ رہی ہیں' جس کے پتے پیلے ہو کر جھڑ رہے ہیں۔ جسے دیکھ کر خزاں اور تباہی مجسم صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس معاشرے میں تباہی پر حیرت کیسی۔ اس تباہی پر سوال کیسا؟ جس معاشرے کے حکمران بدعنوان ہوں ان کی بدعنوانی سب کو معلوم ہواور اسے کوئی برا نہ سمجھتا ہو۔ اس برائی پر سوال کرنے والوں پر آوازیں کسی جاتی ہوں' جہاں برائی کے احتساب کے جواب میں تاویل دی جاتی ہو کہ یہاں کون بدعنوان نہیں ہے۔ جہاں عدالتوں کے باہر ٹھٹھوں کی محفلیں لگائی جاتی ہوں' اس ملک میں سی ایس ایس کے پرچے آئوٹ ہونے پر اتنا شور کیوں ہے کہ اس کی خبریں لگ رہی ہیں۔ اس کے بارے میں حیرت اور پریشانی کااظہار کیا جا رہاہے۔ لوگ باقاعدہ سوال جواب کر رہے ہیں۔ کونسی قیامت آگئی اگر سی ایس ایس کے پرچے آئوٹ ہونے لگے۔ میٹرک ' ایف ایس سی' ایف اے ' بی ایس سی' بی اے کے پرچے آئوٹ ہوتے تو ایک عرصہ ہوگیا۔ لوگوں کو اپنے نالائق بچوں کے پرچوں کا تعاقب کرتے بھی کئی سال ہوگئے۔ ایگزامینیشن ہال بکتے بھی ایک زمانہ ہوا' نقل کرنے کے کتنے نت نئے طریقے ایجاد ہوئے۔ کب پرچے چیک کرنے والے نہیں بکے۔ کب لوگوں نے جعلی ڈگریوں کے لئے جستجو نہیں کی۔ ایک عرصے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ہم سب دیکھتے ہیں' جانتے ہیں۔ ہم کبھی تاسف سے سر ہلاتے ہیں' کبھی تمسخر اڑاتے ہیں۔ لیکن یہ سب کا سب اپنی جگہ موجود رہا۔ اس کا قد اور حجم دونوں ہی بڑھتے رہے اور پھیلتے پھیلتے یہ کینسر سارے جسم میں پھیل گیا ۔ ایک بد عنوان معاشرے سے اور کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ بد عنوانی پسند قوم سے کیا توقعات ہوسکتی ہیں۔ میں تو حیران ہوں کہ یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہوا؟ یہ تو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ سی ایس ایس ایسا کونسا مقدس امتحان ہے جس کے بارے میں ہم ایسی حیرت اور پریشانی کاشکار ہو رہے ہیں کہ بھلا اس امتحان کے پرچے کیسے آئوٹ ہوسکتے ہیں۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں دیدوں کا پانی ایسا ڈھل چکا کہ جہاں وزیراعظم پر بدعنوانی کے الزمات ہیں جہاں سابقہ صدرکو مسٹر ٹین پرسنٹ اور مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ کے طور پر مشہور ہوں۔ جہاں سندھ کے ایک سابق گورنر پر قتل کے کئی مقدمات رہے ہیں اور پی سی او کے تحت انہیں معاف کردیاگیا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم سے وابستہ کتنی کہانیاں ہیں۔ ایس آر اوز کے جاری کرنے اور معطل کئے جانے میں کیاکیا کمالات دکھائے جاتے رہے ہیں۔ موٹر وے بنانے میں کتنا کمیشن حاصل کیاگیا۔ یلو کیب سکیم میں کیا کمایاگیا۔ اب اورنج لائن میں کیا کمالات دکھائے جا رہے ہیں۔ نندی پور کیسے قطر کے حوالے کیاگیا۔ ساہیوال پاور پراجیکٹ کس کا ہے؟ یہ فہرست تو ختم ہی نہیں ہوتی۔ ان جیسے لوگوں کے احکامات مان لینے کے ان کے لئے راستے تلاش کرنے کے لئے جو بیوروکریسی استعمال ہوتی ہے اس کے انتخاب میں میرٹ پر زور دینے کی ضرورت کیا ہے؟ چاپلوسی کرانے والوں کو اعلیٰ عہدوں پر لگایا جاتا ہے۔ کمیشن کے راستے تلاش کرنے والوں کو نوازا جاتا ہے۔ منہ بند رکھنے والوں کو پسند کیاجاتا ہے۔ جن کی گردنوں میں ضعف میرٹ سے رعشہ آگیا ہو اور ان کی گردنیں بس اقرار میں ہی ہلتی ہوں ان کو بہترین افسر گردانا جاتا ہے۔ ان بیورو کریٹس کو منتخب کرنے کے لئے ایسا شفاف نظام رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان کو تو ان کے عہدوںکے لئے منتخب کرنے کے لئے ترازو رکھے جانے چاہئیں جن میں چاپلوسی اور خوشامد کے باٹ رکھے جائیں۔ یہ کونسا مقابلے کا امتحان ہے۔ اب اس امتحان کے اصول درست کئے جانے چاہئیں۔ پرچہ آئوٹ ہونے پر پریشان ہونے کا فائدہ نہیں۔ اس امتحان کے طریقہ کار کی درستگی پر بات چیت ہونی چاہئے۔ مقابلہ قابلیت کانہیں چاپلوسی کا ہے ' خوشامد کا ہے' بدعنوانی کاہے۔ یہ سمجھ سکنے کا ہے کہ حکمرانوں کے لئے راستے کہاں سے اورکیسے تلاش کرنے چاہئیں۔ اب کتابوں کی بات نہیں' سمجھنے پرکھنے کی بات نہیں' اب باٹ اور ہیں اور ان کادرست کرلیا جانا ضروری ہے۔ یہ طریقہ کار متروک کیجئے اور ایک نیا امتحان ترتیب دیجئے' تلاش کیجئے کہ بے ضمیری کیسے ناپی جاسکتی ہے۔ یہ معلوم کیجئے کہ کمزور لوگوں کو کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے جو اپنی مجبوریوں کے دبائو تلے ہر ایک اصول کا چہرہ بدل سکتے ہوں۔ بری جگہ پوسٹنگ کے خوف سے ہر دائرہ توڑ سکتے ہوں۔ میرٹ کی پامالی کے ایسے راستے تلاش کریں جس کی مثال نہ ملے۔ یہ خبریں ' یہ باتیں' یہ تشویش یہ تو سب مذاق کی باتیں ہیں۔ ہمیں کہاں قابلیت کی ضرورت ہے۔ اور جس قابلیت کی تلاش ان جمہوری حکمرانوں کو رہتی ہے اس کا خرد سے کیا رابطہ اپنے جیسے جی حضوری کرنے والے' میرٹ کے پرخچے اڑانے والے' جھوٹ کی تاویل تلاش کرنے والے بدعنوانی کے گند کے ڈھیر سے مستقبل کے ٹکڑے چننے والے لوگ' انہیں اپنے درباروں کے دونوں جانب کھڑے چائیں۔ ایسے ہی لوگ ان کے وزیر اور مشیر بھی ہیں۔اب یہ ڈرامہ بھی بند ہونا چاہئے جسے ہم مقابلے کا امتحان کہتے ہیں۔ مقابلہ تو ہے مگر ترجیحات اور ہیں لیکن اب یہ بات کھل کر سامنے بھی آنی چاہئے۔ ہم گل سڑ تو گئے ہیں ہمیں دیمک تو چاٹ ہی گئی ہے بس ایک دھکا ہی تو چاہئے وہ کوئی خدا ترس دے دے تاکہ یہ بکھیڑا تو ختم ہو۔ جھوٹ کا یہ جسم تو گر جائے تاکہ ہماری اصلیت خود ہم پر عیاں ہو اور پھر ہم آگے چلیں۔ کاٹھ کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔ اب مطمئن ہوجائیں۔