انسانی باقیات کی حرمت کا مسئلہ

انسانی باقیات کی حرمت کا مسئلہ

آخری دہشت گرد کے خاتمے تک بہر حال ہماری جنگ جاری رہنی ہے۔ قوم بھی سیسہ پلائی دیوار بن کر ایستادہ ہوچکی ہے۔ ہمیں ان سب باتوں سے صد فیصد اتفاق ہے کیونکہ قوم ایک پر امن اور پر سکون زندگی کی خواہش رکھتی ہے۔ گزشتہ دنوں وطن عزیز جس طرح پے در پے خود کش دھماکوں کی لپیٹ میں آیا جن میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کرچکی ہے ۔ وہ مہذب دنیا کے لئے بالیقین ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ویسے تو کراچی' کوئٹہ' پشاور اور لاہور میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر ساری قوم خون کے آنسو بہا رہی ہے۔ لیکن سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر خود کش دھماکے میں جو قیامت برپا ہوئی حالیہ دنوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس سانحے میں بچوں' بوڑھوں اور خواتین کو جس بے دردی سے دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا ہم سمجھتے ہیں اس نے دو سال پہلے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے قتل عام کے زخم سے ایک بار پھر تازہ کردئیے۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں انسانی لاشیں اور پھر ان کی باقیات دیکھ کر شک پڑتا ہے کہ ہم 21ویں صدی کی مہذب سوسائٹی میں رہتے ہیں یا پھر کسی چنگیز خانی دور کا سامنا ہے۔ یہ سیاپا تو ہوتا رہے گا معلوم نہیں پاکستانی قوم کب تک ان اذیت ناک مراحل سے گزرتی رہے گی۔ ایسے خونریز واقعات پر سیاسی راہنما جو بیانات جاری کرتے ہیں ان پر کچھ زیادہ افسوس اس لئے بھی ہوتا ہے کہ وہ تسلی آمیز ہونے کی بجائے زخم پر نمک پاشی کے مترادف ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو راہنما کہتے ہوئے تردد ہی نہیں کچھ شرمساری کا احساس بھی ہوتا ہے۔ ہم نے آج کم و بیش تمام اخبارات کی ورق گردانی کی ' قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے اس لیڈر کا بیان نظر نہیں آیا جو انہوں نے کل سیہون شریف کے سانحے پر سندھ حکومت کی وکالت میں اس کی صفائی کے لئے جاری کیا تھا۔ گزشتہ شب پرائیویٹ چینلز پر ان کے اس بیان کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ نشر کیا گیا تھا۔ یقین جانئے ہمیں تو اس کے ذکر سے بھی انسانیت کی توہین محسوس ہوتی ہے۔ ہم صرف اس وجہ سے یہ بیان قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ قومی راہنمائی کے ان دعویداروں کی اصلیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ خبر یہ تھی کہ سانحہ سیہون شریف کے شہداء کی باقیات نالے کے کنارے اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پائے گئے اور یہ کہ آوارہ جانور اور پرندے ان اعضاء کی بے حرمتی کررہے تھے۔ یہ خبر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے ذوق سلیم پر بار گزری اس لئے نہیں کہ شہداء کی باقیات نالے کے کنارے پائے گئے بلکہ اس لئے کہ اس خبر سے سندھ انتظامیہ کی بدنامی کا خدشہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ نکتہ نکالا کہ خود کش دھماکے کی شدت کے نتیجے میں انسانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔ سیہون شریف کی انتظامیہ کی صفائی میں بیان دینے والے اس لیڈر کو کیمرے کے سامنے بیٹھنے سے پہلے یہ بات نہیں سمجھائی گئی تھی کہ انسانی جسم کے یہ اعضاء مزار کے قرب و جوار میں نہیں اس سے ایک کلو میٹر دور پڑے تھے۔ خود کش دھماکے کی شدت سے انکار نہیں کیاجاسکتا لیکن اس ضمن میں انسانی باقیات کا نالی کے کنارے تک پہنچنے کی جو وجہ بتائی گئی ہے اس کی کوئی منطق نہیں بنتی۔ المناک سانحات پر اپنی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے سیاستدانوں کے بیانات سے ان کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے اس بیان پر ہمیں زیادہ حیرت اس لئے نہیں ہوئی کہ خون خاک شہیداں ہمیشہ رزق خاک ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ موت کے بعد ان کے اعضاء کا کسی نا مناسب جگہ پر پایا جانا زندہ انسانوں کے لئے فکر مندی کی بات بھی نہیں ۔ شہداء کے رتبے پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے لیڈران کرام کو کبھی ان ساٹھ فیصد جیتے جاگتے زندہ لوگوں کی اذیت کا خیال نہیں آیا جو خط غربت پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے ہوئے زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے پاس جسم ڈھانپنے کے لئے کپڑے نہیں ہتے۔ جنہیں پیٹ بھر کر کبھی کھانا نصیب نہیں ہوتا' جہاں معصوم بچوں کو روزانہ غلاظت کے ڈھیر پر زق تلاش کرتے دیکھا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں ہر سال 30لاکھ کی ایک غالب آبادی پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر موت کی وادی میں اتر جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی 24کروڑ آبادی کے لئے کم و بیش ساڑھے بارہ ہزار ڈاکٹر اسی تعداد کے سرکاری ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔ ہسپتال بھی ایسے جہاں مریضوں کو بیڈ تک میسر نہیں۔ خواتین ہسپتال کی سیڑھیوں پر زچگی کے مراحل سے گزر جاتی ہیں اور بوڑھی مریضہ ہسپتال کے یخ بستہ فرش پر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہے۔ معالجین دل کے مریض کو جعلی سٹنٹ لگا کر ان کو موت کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اسمبلی کے اراکین اپنے لئے تنخواہوں میں چار سو فیصد اضافہ چند لمحوں میں منظور کرلیتے ہیں لیکن انہیں کسی مزدور کی 12ہزار ماہانہ بنیادی تنخواہ میں اضافے کا کبھی خیال نہیں آتا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی سیاستدان کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر انسانی اعضاء کی موجودگی کے جواز میں بیان جاری کردے تو یہ کچھ زیادہ حیرت کی بات نہیں۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

متعلقہ خبریں