''یتیم'' زبانوں کا ''سوتیلا ''دن

''یتیم'' زبانوں کا ''سوتیلا ''دن

یہ ایک آفاقی سوچ اور پیدائشی سمجھ ہے کہ ہر انسان اپنی مادری زبان سے نہ صرف بے پناہ محبت کرتا ہے بلکہ اسے مقدس بھی سمجھتا ہے۔ دیکھا جائے تو دنیا کی ہر قوم اور معاشرے کا ہر فرد یہی بات تسلیم کرتا ہے اور جو اس بات کو نہیں مانتے ان کی یا تو زبان نہیں ہوتی اور یا پھران کو اپنی زباں آتی نہیں۔مادری زبان کاکیا کہیں کہ مادری ہوتی ہے۔ ''گودی'' زباں کے مزے اس سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اور یہ بات تو شائد کوئی بھی رد نہ کرے کیونکہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی کلکاریوں کی مٹھاس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ 

یہ تمہید اگر کسی کو عجیب لگے تو اس کا کوئی قصور نہیں کیونکہ میں خود آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوںکہ آخر مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کا مقصد کیا ہے۔ باقی زبانوں کو چھوڑ کر بات صرف اپنی زبان پشتو کی کرتے ہیں۔ اگر اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو یہ یاد کرانے کی کوشش کریں کہ پشتو ہی ہماری مادری زباں ہے تو میرے خیال میں یہ ضیاعِ وقت کے سِوا کچھ بھی نہیں۔ اور اگر یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زباں پر یا اپنی زباں میں کام کریں گے تو یہ ''نوبال'' پر ''وکٹ لینے'' کے مترادف ہے۔ کیونکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ پشتو میں کتنا کام ہوا ہے اور کتنا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور پھر یہ بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک ''دن''سے کیا ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پشتو بفضلِ باری تعالیٰ کرورڑں زبانوں اور اس کے دگنے کانوں کی مالک زباں ہے۔ آخر ضرورت کیا ہے کہ اس کا ایک دن منایا جائے؟ہمیں تو بجائے دن اور رات منانے کے دوسری قوموں کیلئے مثال بننا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ مادری زباں میں سیکھنا اور پڑھنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ لیکن شومئی قسمت کہ ہمیں اپنی نہیں بلکہ دوسری زبانیں سیکھنے کا غم کھائے جا رہا ہے۔ اگر بچے کو پشتو میں گنتی نہیں آتی تو ''خیر دے'' مطلب کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر بچہ انگریزی یا کسی اور زباں میں تھوڑا سا بھی ٹریک سے اتر جائے تو ماں باپ کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ بچہ کسی کام کا نہیں رہا یا جس طرح پشتو میں کہتے ہیں کہ ''ھلک خو لالے دے''۔ آج کے دن ہر سال ساری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتاہے اور اسی دن کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور مطالبات سامنے آتیہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ ساری چیزیں ایسے ہی گزر جاتی ہیں جیسے کہ یہ ''دن'' گزر جاتا ہے۔ دوسری بات جو شائد کچھ قارئین کو ناگوار بھی گزرے۔ لیکن جس موضوع پر میں نے قلم اٹھایا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اگر میں اس نکتہ کو نظر انداز کروں تو یہ قلم کی حرمت کے ساتھ ساتھ اپنی زباں سے بھی خیانت ہوگی۔ بات یہ ہے کہ بہت سے پشتون لکھاری جب پشتو میں لکھتے ہیں تو کیا لکھتے ہیں۔ کیا اس میں آدھے سے زیادہ الفاظ دوسری زبانوں کے نہیں ہوتے۔اس میں کوئی قباحت نہیں کہ ہم دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنی کسی تخلیق کا حصہ بنائیں۔ لیکن دل دکھانے کا سبب یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لکھاری ان الفاظ کو اس عقیدے کے ساتھ لکھتے ہیںجیسے کہ وہ ہمارے اپنے الفاظ ہوں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرکے ہم اپنی زباں پر احسان کر رہے ہیں یااس کے ساتھ ''سوتیلوں '' جیسا سلوک۔ اور یا خدا نخواستہ اس کا کہیں یہ مطلب تو نہیں کہ ہماری اپنی زباں میں ذخیرہ الفاظ نہیں۔ تھوڑا سا ماضی میں جا کر اس نکتے کو تاریخی بنیادوں پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے تو سنا اور نہ کبھی پڑھا ہے کہ پشتو ادب کے باواآدم خوشحال خان خٹک، پشتو زباں کی شاعری کو میدانِ تصوف میںبامِ عروج تک پہنچانے والے ملنگ اور صوفی شاعر رحمان بابا، کلاسک عبدالحمیدبابا، نازک خیال علی خان، بابائے غزل حمزہ خان شینواری بابا اور فلسفی غنی خان نے کبھی ایسا کوئی دن منایا ہو۔ آپ لوگ ضرور پوچھیں گے کہ ان کے دور میں تو اس دن کا انعقاد ہی نہیں ہوتا تھا۔ تو عرض یہ ہے کہ ان لوگوں کو یہ دن منانے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ وہ کام کرتے تھے۔ اورآج ہم اس دن کو اس لئے زور و شور سے مناتے ہیں کہ ہم نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اوراپنی زباں کو بس صرف دن منانے تک محدود کر دیا ہے۔ دورِ جدید میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کو نہ صرف اپنے حقوق کا ادراک ہو بلکہ ان کے حصول کیلئے جد وجہد کرنا بھی جانتے ہوں۔ یہ تو زیب نہیں دیتا کہ ایک طرف تو ہم بنیادی تعلیم اپنی مادری زباں میں حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی نہ کریں اور دوسری طرف اس دن کو مناتے ہوئے مطالبے کرتے رہیں کہ ہمارے لئے یہ کیا جائے اور وہ کیا جائے۔ اب ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی بھی کسی کیلئے کچھ بھی نہیں کرتا۔ اپنے لئے اور اپنی زباں کیلئے جو بھی کرنا ہے ہمیں خود کرنا ہوگا۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر ہمیں سب سے پہلے اس دن کو منانے سے تب تک کیلئے اجتناب ہی کرلینا چاہئے جب تک پشتو یا دوسری علاقائی زبانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں سکولوں اور مدرسوں میں تدریس کیلئے لازمی قرار نہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زباں میں تحقیقاتی کام بھی شروع کر لینے چاہئیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ پشتو تدریس کی زباں نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں تحقیق نہیں ہو رہی۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زباں میں تحقیق کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مخصوص ادبی اصناف کے ساتھ ساتھ صحافت، سیاحت، ماحول، معیشت، حکمت، طب، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت وغیرہ پر بھی کام کیا جائے اور وہ زبانیں بند کر دیں جو یہ ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں کہ پشتو تدریس اور تحقیق کی زباں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں