پاناما کیس مکمل ہونے جا رہا ہے، سپریم کورٹ

پاناما کیس مکمل ہونے جا رہا ہے، سپریم کورٹ

ویب ڈیسک: پاناما کیس کی سماعت کے موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ مقدمہ تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے، اٹارنی جنرل کل صبح گیارہ بجے تک دلائل مکمل کر لیں۔عدالت میں کہا گیا کہ ایک ارب بیس کروڑ روپے کی بدعنوانی کا معاملہ بغیر حساب کتاب جانے دیں جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا عدالت فیصلہ دیتی ہے تو یہ ایک بری مثال بن جائے گی۔ سپریم کورٹ نے چئیرمین نیب اور چئیرمین ایف بی آر کے موقف پر عدم اطمینان کا اظہارکر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ چئیرمین نیب اور چئیرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔  چئیرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ پانامہ ٹیکس ہیون ہے، رابطے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایف بی آر کو وزارت خارجہ سے رابطہ کرنے میں 6 ماہ لگ گئے، 200 گز کا فاصلہ 6 ماہ میں طے کرنے پر آپ کو مبارک ہو، اس طرح تو ریکارڈ کی تصدیق کے لئے 30 سال کا وقت درکار ہوگا۔

چئیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایف بی آر کے نوٹس کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ کسی آف شور کمپنی یا جائیداد کی مالک نہیں ہیں، انہوں نے اپنے جواب میں ٹرسٹی ہونے کا  ذکر نہیں کیا جبکہ حسین نواز نے بتایا کہ وہ سن 2000 سے سعودیہ میں مقیم ہیں۔ عدالت کے روبرو ایف بی آر کے وکیل نے تسلیم کیا کہ ایف بی آر نے اس کیس میں فوری اقدامات نہیں کیے، سپریم کورٹ میں چئیرمین نیب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اگر کوئی ریگولیٹر رابطہ کرے تو کارروائی کرتے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا یہ نیب کا موقف ہے کہ ریگولیٹر نہیں آیا اسی لیے آف شور کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا اختیار نہیں۔

جسٹس گلزار نے پوچھا کہ کیا نیب کو کوئی اور ریگولیٹ کرتا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین نیب ریگولیٹر کی بات کرتے ہیں، نیب کا ریگولیٹر کون ہے یہ نہیں جانتے، یہی باتیں قطری خط میں کہیں گئی ہیں۔ کیا ریگولیٹر وہ ہے جو چیئرمین نیب کو تعینات کرے۔

چئیرمین نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس سے متعلق اپیل دائر نہ کرنے کے موقف پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ پھر سنگین نتایج بھگتنے کے لئے بھی تیار ہوجائیں۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل وفاق کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات کی سماعت عدالت کا دائرہ اختیار نہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت کو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت عوامی مفاد کی درخواستیں سننے کا اختیار ہے، عدالت نے اٹارنی جرنل کو کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں