آپریشن فور۔دہشت گردوں کے خلاف حتمی آپریشن

آپریشن فور۔دہشت گردوں کے خلاف حتمی آپریشن

ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں منتخب وزیر اعظم کے خلاف عدالت عظمیٰ میں مقدمہ زیر سماعت ہے جس کے ممکنہ سیاسی مضمرات کے پیش نظر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی ساری توجہ اس معاملے پر ہے یہاں تک کہ عوام اور میڈیاکے اعصاب پر بھی یہی مقدمہ سوار ہے۔ اس صورتحال میں اس امر کی جانب نظر ہی نہیں جاتی کہ پاک فوج کی قیادت ایک مشکل علاقے میں مشکلات سے بھرپور آپریشن خیبر فور کی کامیابی کے لئے کوشاں ہے جس کا ممکنہ ردعمل شہری علاقے میں گزشتہ روز ہی سامنے نہیں آیا بلکہ اس کے موجود خطرات کا بھی احساس ہوتا ہے۔ آپریشن خیبر فور کی خاص طور پر اہمیت یہ ہے کہ یہ آپریشن تورہ بورہ کے پہاڑی سلسلے کوہ سفید راجگال کے ناقابل رسائی اور دشوار گزار علاقے میں داعش' لشکر اسلام اور ان دہشت گردوں کیخلاف لڑی جا رہی ہے جن کو زیر اور خاتمہ کئے بغیر قیام امن اور استحکام امن کی مساعی ادھوری رہنے کاخدشہ ہے۔ اس مشکل اور دشوار گزار علاقے میں کٹھن زمینی آپریشن میں پاک فضائیہ کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ بچے کھچے دشمنوں کا مکمل طور پر صفایا کیا جاسکے۔ اس علاقے کی کلیرنس اس لئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ پہاڑ کی چوٹیوں سے دہشت گردوں کی آمد و رفت کو مانیٹر کیا جاسکے اور دروں سے دہشت گردوں کے سرحد کے آر پار جانے کو نا ممکن بنایا جاسکے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی فوجی قیادت کو ایک مشکل آپریشن کی کامیابی کی فکر دامن گیر ہے پاک فوج کو ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی اپنے جوانوں کاعزم و حوصلہ بڑھانے کے لئے عوام کی نیک خواہشات اور دعائوں کا متمنی ہونا فطری امر ہوگا۔ قوم کو اندرون ملک جاری صورتحال سے قطع نظر اس مشکل آپریشن کی کامیابی کے لئے دعا گو ہونے اور اپنے اندر اتحاد و یگانگت کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی زیادہ ضرورت اس لئے بھی ہے کہ پاک فوج اپنے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ بجائے اس کے کہ پڑوسی ممالک اپنی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتی الٹا پاکستان کو مطعون کیاجا رہاہے۔ اس ضمن میں افغانستان کے وزیر دفاع کا بیان حیران کن اور ناقابل قبول ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری اور استحکام امن کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ افغان وزیر دفاع کو سخت جواب دینے کی ضرورت تھی مگر اس کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری اعلامیہ میں افغانستان کے وزیر دفاع کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپریشن خیبر4کا ردعمل غلط بیانی اور پاک افغان تعلقات او تعاون میں پاک فوج کی کوششوں کی منافی ہے ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آپریشن خیبر4کے حوالے سے معلومات تحریری اور زبانی طور پر افغان فورسز کو دی گئی تھیں اور امریکی اتحادی فوج کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فوج اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف باہمی اعتماد، رابطے اور تعاون کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے۔آئی ایس پی آر نے افغان وزیر کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور ان سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ خطے میں امن واستحکام کے لیے لڑنے کے خلاف ایجنڈا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کو کسی قسم کے تردد کے بغیر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرکارروائی جاری رکھنی چاہئے اور اہمیت کے حامل مقامات تک رسائی حاصل کرکے وہاں پر مستحکم پوزیشنیں قائم کرکے ملکی سرحدوں کو محفوظ اور مضبوط بنانے کی قومی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہئے۔ دفاع وطن اور سرحدی استحکام کی مساعی میں پاک فوج کی قیادت کو پوری قوم کی تائید و حمایت کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ قوم فوج کے پیشہ وارانہ مہارت اور کردار کی معترف ہے اور فوج کی قیادت سے بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ جب تک سرحدی علاقوں میں دفاعی پوزیشنوں کو مستحکم کرکے دہشت گردوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر مسدود نہیں کیا جائے گا قبائلی علاقوں میں یکسوئی کے ساتھ تعمیر و ترقی کے کاموں کی انجام دہی کے مواقع سامنے نہیں آئیں گے۔ دہشت گردوں کی آمد و رفت کی مکمل روک تھام اور ان کی آمد و رفت کو نا ممکن بنانے کی ترجیح اول کے حصول کے بعد ہی اس امر کی توقع کی جاسکے گی کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم' صحت' مواصلات اور عوام کی فلاح و بہبود اور سہولتوں کی فراہمی پر پوری طرح توجہ دی جاسکے گی۔بچے کھچے دشمنوں کا صفایا اور قبائلی علاقوں سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی محدود تعداد کی واپسی و بحالی کا حتمی مرحلہ جتنا جلد اور اہتمام کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا اتنا ہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ پندرہ جولائی سے شروع آپریشن خیبر فور کی کامیابی سے اختتام پذیر ہونے کے بجا طور پر اس امر کی توقع کی جاسکتی ہے کہ خیبر ایجنسی کے اس دشوار گزار علاقے سے دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا ہوگا اور نہ صرف دہشت گردوں کی آمد و رفت اور دراندازی کی سعی مکمل طور پر نا ممکن بنا دی جائے گی بلکہ اس علاقے میں قیام امن کی ایسی بنیاد پڑے گی جس کے بعد یکسوئی کے ساتھ تعمیر و ترقی اور بحالی کے کاموں پر توجہ دی جاسکے گی جس کے نتیجے میں یہاں کی بنیادی اساس ہی مضبوط نہ ہوگی بلکہ علاقے کے عوام کو صحت' تعلیم اور مواصلات کے ساتھ ساتھ صحت مند تفریح کے بھی مواقع میسر آسکیں گے اور علاقے میں قیام امن کے بعد ملک بھر سے سیاح اس جنت نظیر وادی کی سیاحت کے لئے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں