شاہی کٹھہ کی صفائی اور متعلقین کی ذمہ داریاں

شاہی کٹھہ کی صفائی اور متعلقین کی ذمہ داریاں

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کی اعلیٰ سطحی ٹیم نے شاہی کٹھہ کے جائزے کے بعد مسائل و مشکلات کی درست نشاندہی کی ہے۔ ان مشکلات سے کسی کو انکار نہیں اگر ان مشکلات کی بروقت نشاندہی کی جاتی اور ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے بروقت صوبائی حکومت کی سرپرستی میں شاہی کٹھہ سے تجاوزات ہٹانے اور ممکنہ صفائی کا بندوبست کیاجاتا تو نہ تو ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں آتی اور نہ ہی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ بعد از خرابی بسیار جب مسئلے کی تفصیل کے ساتھ نشاندہی ہوچکی اب یہ صوبائی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ تجاوزات ہٹانے کی ذمہ داری کیسے پوری کرتے ہیں اور اس امر کو کیسے یقینی بنایا جاتاہے کہ شاہی کٹھہ کی صفائی کی ممکنہ کوششیں کی جاسکیں۔ اگر یہ توقع کی جائے کہ شاہی کٹھہ کی مکمل صفائی کی جاسکے گی تو شاید حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ برسوں سے جمع شدہ مواد کو پوری طرح سے ہٹانا ممکن نہ ہوگا البتہ اگر شاہی کٹھہ سے تجاوزات کا مکمل طور پر خاتمہ کرکے پانی کا بہائو تیز کردیا جائے تو تیز بارشوں کے نتیجے میں ملبہ آگے بہہ جائے گا اس کے لئے نالے کے ان مقامات پر جہاں فوری طور پر صفائی اور ملبہ نکالنا ممکن ہے اس کا فوری اہتمام ہونا چاہئے جہاں نالے کو چوڑا کرکے ملبے کے لئے راستہ بنانا ممکن ہو اس پر توجہ دی جائے۔ شاہی کٹھہ پر قائم دکانوں' کیبن اور دیگر قسم کے جو بھی تجاوزات ہوں ان کے خلاف سخت گیر مہم کسی آزمائش سے کم نہ ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اور ڈبلیو ایس ایس پی فی الوقت ممکنہ اقدامات اٹھائیں تاہم یہ عارضی اور وقتی ہوگا۔ تجاوزات ہٹانے کے بعد ہی شاہی کٹھہ کی صفائی ممکن ہوگی اور نکاسی آب کا مسئلہ حل ہوگا۔ شاہی کٹھہ محدود آبادی کی ضروریات کے مطابق بنا یا گیا تھا اب جہاں ایک طرف آباد ی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے وہاں نکاسی آب کی گزر گاہ تجاوزات کی بھی زد میں ہے اور ستم بالائے ستم شہریوں کو نکاسی آب کے نالے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے میدان کی تمیز نہیں ایسے میں اس جیسے مسئلے کے شہری علاقوں کا سنگین مسئلہ بن جانا تعجب کی بات نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت' نکاسی آب کی ذمہ دار کمپنی اور عوام سبھی کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس ہوگا اور اس مسئلہ کا کوئی ممکنہ حل تلاش کرنے میں مزید وقت کا ضیاع نہ ہوگا۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
صوبے کے سب سے بڑے اور قدیم تدریسی ہسپتال ایل آر ایچ میں آپریشن تھیٹر کی چھت کے ٹپکنے کی ویڈیو معاشرتی میڈیا پر آنے کے بعد بجائے اس کے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی اعلیٰ انتظامیہ اس کی تعجیل کے ساتھ مرمت کراکے مسئلہ حل ہونے کی اطلاع دیتی الٹا آپریشن تھیٹر کے سات ملازمین کو معطل کرکے ایک اور غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے اخبارات میں نمایاں طور پر اشاعت کے بعد شاید ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہو۔ آپریشن تھیٹر کی چھت کی مرمت اور اسے درست حالت میں رکھنا کسی طور عملے کی ذمہ داری نہیں۔ ویڈیو میں جو منظر دیکھا جاسکتا ہے اس کے لئے چھت ٹپکنے کے الفاظ کسی طور مناسب نہیں بلکہ اسے چھت سے فوارہ پھوٹنے یا چھت سے پانی بہنے یا چھت کا پر نالہ بنا ہونا قرار دینا موزوں اور قریب ترین الفاظ میں صورتحال کا بیان ہوگا۔ چھت ٹپکنا اور پانی کا معمولی رسائو کسی بھی وجہ سے ممکن اور قابل فہم ہے چھت سے پانی کا فوارہ پھوٹنے کی مانند گرنا اس امر پر دال ہے کہ یہ اچانک کا کوئی حادثہ نہیں بلکہ چھت میں کوئی ایسی دراڑ آگئی تھی جس کی مرمت نہ کی گئی غالباً قبل ازیں بھی آپریشن تھیٹر کی چھت ٹپکنے کی خبریں آئی تھیں اگر انتظامیہ بروقت توجہ دیتی تو آج نہ خود خجالت سے دوچار ہوتی اور نہ ہی ملازمین کو معطل کرنے کی نوبت آتی۔ ہمارے تئیں اس ساری صورتحال میں معطل شدہ ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی حد سے تجاوز اور خفت مٹانے کا باعث اقدام ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انتظامیہ کے خلاف اس معاملے پر پوچھ گچھ ہوتی اور ان کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ بہتر ہوگا کہ ایل آر ایچ کی انتظامیہ ملازمین کے خلاف کارروائی کے نا مناسب اور غیر قانونی اقدام فوری طور پر واپس لے اور چھت کی مرمت کرانے کی ذمہ داری نبھائے۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کو حکومت کی کارکردگی پر خندہ استہزاء کے اس طرح کے مواقع کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور سرکاری اداروں کو محتاط رہنے اور سامنے آنے والے مسائل کو فوری طور پر دور کرنے کی سختی سے ہدایت کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں