انصاف' جمہوریت اور ترقی

انصاف' جمہوریت اور ترقی

پاناما لیکس کی سماعت ایک عرصہ سے جاری ہے۔ عدالت سے باہر جو ''عدالتیں'' لگائی جارہی ہیں ان میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیںجو مغالطے پیدا کر سکتی ہیں۔ کسی کا نام لیے بغیر ، کسی کو الزام دیے بغیر ان پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ میڈیا کے ذریعے جو مغالطے پیدا ہورہے ہیں ان کے مختلف پہلو زیرِ نظرآئیں۔ ایک بات بالعموم یہ کی گئی کہ اگر انصاف کی کارروائی جاری رہی تو جمہوریت پٹڑی سے اُتر جائے گی۔ جمہوری نظام کوئی بھی ہو اس میں اظہارِ رائے کی آزادی اور رائے کااحترام ہو تو جمہوریت انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔ تقریریں کرنے والے تو ایسے اشارے بھی دیتے ہیں کہ جمہوری اداروں کے سوا کوئی اور حکومت پر قابض ہوجائے گا تاہم ان اشاروں سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے اس سوال پر بات کرنا ضروری ہونا چاہیے کہ آیا ایسی تقریروں کامطلب یہ ہے کہ اگر انصاف ہو گا تو جمہوریت نہیں رہے گی اس لیے جمہوریت کو بچانے کے لیے انصاف کی قربانی دے دی جائے تو جمہوریت بچ جائے گی؟ لیکن کیا جمہوریت ہو تو انصاف نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے ساتھ ہی کہ آیا انصاف ہو تو جمہوریت نہیں رہ سکتی۔ حالانکہ انصاف کے بغیر جمہوریت کچھ نہیں ہے۔ جسے جمہوریت کہا جائے اور اس میں انصاف نہ ہو تو کیا یہ جمہوریت ہو گی؟ اس بارے میں بات ہونی چاہیے اور بہ آوازبلند ہونی چاہیے کہ انصاف اور جمہوریت لازم وملزوم ہیں۔ انصاف ہو گا تبھی جمہوریت چلے گی۔ اختلافی رائے کا احترام ہوگا ' رائے کا اظہار ہو گا اور اچھے برے کی تمیز پر بات ہو گی ، اچھائی کی قدر افزائی ہو گی اور برائی کی سرکوبی ہو گی۔انصاف نہیں ہو گا تو کیسے فیصلہ ہوگا کہ کون حق پر ہے اور کون حق پر نہیں۔جرم کی سزا نہیںدی جائے گی تو جرم پنپتا رہے گا اور کوئی نظام خواہ اسے جمہوریت کہہ لیا جائے نہیں چل سکے گا۔ ایک اوربات جوبار بار کہی جا رہی ہے کہ حکومتوںکوعوام کے ووٹ سے پانچ سال کا جومینڈیٹ دیا جاتا ہے اس الیکشن کو عوامی عدالت کہہ دیا جاتا ہے اور اختلافی رائے رکھنے والوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کاانتظار کریں اور عوام کامینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کیا عوامی مینڈیٹ کایہ مطلب ہے کہ انتخابات میں کامیاب ہونے والوں کوسیاہ و سفید کی اجازت مل گئی ۔ وہ کوے کو سفید اور دودھ کو کالا کہہ سکتے ہیں اور ان کے مینڈیٹ کے باعث ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ کوے کو سفید اور دودھ کو کالا تسلیم کرے۔قانون کی بالادستی کے تصور سے انکار کے لیے ''عوامی عدالت'' کے مینڈیٹ کو بالادست تسلیم کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ جمہوری نظام کسی آئین اور قانون کے بغیر وجود میںہی نہیں آ سکتا۔ آئین اور قانون کی بالادستی تسلیم کی جاتی ہے تو اس کے تحت فرد کو ووٹ کاحق حاصل ہوتا ہے اور عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قوانین بنائیں اور اسی کے مقاصد کے مطابق مقررہ مدت کے لیے کاروبارِ حکومت چلائیں۔انتخابات کوعوامی عدالت کہنا آئین، قانون اور عدالت کی توہین سمجھا جاناچاہیے۔ کاش وہ دن جلد آجائے جب ہمارے قائدین قانون کی عدالت کے احترام کے قابل ہوجائیں اور ایک مقررہ مدت کے لیے کاروبارِحکومت چلانے کی کارروائی کو عدالت کہنا ترک کر دیں چاہے اس کے ساتھ ''عوامی'' کا اضافہ ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ پاناما کیس کی کارروائی کے دوران دو قسم کے سیاسی خطابات سامنے آئے ہیں۔ کچھ اہل سیاست کہہ رہے ہیں کہ انصاف ہونا چاہیے اور کچھ اہل سیاست کہہ رہے ہیں کہ ملک میں ترقی ہو رہی ہے اور اس کے مخالف انصاف کے مطالبے پر زور دے کر ترقی کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔ یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر انصاف ہو گا تو کیا ترقی رک جائے گی۔ اس موقف کے مضمرات یہ ہیں کہ ترقی اگر ہو رہی ہے تو جو لوگ حکومت میں ہیں ان کے حکومت میں ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ اور ملک میں انصاف کی جو کارروائی ہو رہی ہے اس میں حکومت میں موجود لوگوں کے بھی نام ہیں۔ وہ اگر انصاف کی کارروائی میں مصروف رہیں گے تو ان کی توجہ ترقیاتی کاموں سے ہٹ جائے گی یا اگر انصاف کی کارروائی کے نتیجے میں وہ حکومت میںنہ رہے تو بھی ترقی رک جائے گی۔ ہمارے ملک میں جمہوری نظام رائج ہے ۔ جمہوریت میں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ملک کے کاروبار کا اور ترقی کا انحصار کسی ایک شخص یا اشخاص یا کسی ایک سیاسی پارٹی پر ہو۔ سیاسی پارٹیوں کی پالیسی ہوتی ہے اور قیادت کے درجات ہوتے ہیں۔ اس پالیسی کے مطابق ایک ذمہ دار کی غیر موجودگی میں دوسرا ذمہ دار فرد اس کام کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ فرض کیجئے انصاف کی کارروائی کے نتیجے میں کوئی ایسی صورت حال برپا ہوجاتی ہے کہ حکمران سیاسی پارٹی کو حکومت کا کاروبار چلانے کی ذمہ داری کسی دوسری سیاسی پارٹی کو سونپنی پڑ جاتی ہے تو اس صورت میں کیاترقی رک جائے گی؟ ہمارے ملک میں آج جو بڑے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہ بالعموم چین کے تعاون سے ہورہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے تعلقات ریاستوں کی سطح پر حکومتوں کی سطح اور عوام کی سطح پر جب سے نیا چین قائم ہوا ہے جاری ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات ' بین الاقوامی حقائق اور باہمی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ چین کے ون بیلٹ ون روڈ وژن کے تحت سی پیک کے منصوبوں پر جو کام ہورہا ہے وہ بین الاقوامی حقائق اور باہمی مفادات پر مبنی ہے۔ اوردونوں ملکوں کے عوام کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ دونوں میں سے کسی ملک میں بھی اندرونی سیاسی تبدیلی کی وجہ سے ان منصوبوں پر کام رکنے کے امکانات نہیں ہیں۔ انصاف ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔انصاف کے نتیجے میں ملک اور معاشرے مضبوط ہوتے ہیں۔مضبوط اور مستحکم ملکوں میں ترقی کی رفتار رک نہیں سکتی کیونکہ اسے عوام کی حمایت اور نگرانی حاصل ہوتی ہے۔ جمہوریت اور ترقی ایسے ہی ممالک میں فروغ پا سکتی ہیں جہاں انصاف کی روایت مضبوط ہو۔

متعلقہ خبریں