پاک افغان تعلقات

پاک افغان تعلقات

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑاچیلنج افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا وسیع تجربہ ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج تک افغانستان کی جانب ہماری پالیسی واضح نہیں ہے۔ افغان جہاد سے لے کر آج تک افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کا تعین بھارت کو مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا رہا ہے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے ہم نے افغانستان میں بہت سے عسکریت پسند گروہوں کی معاونت کی جس کی وجہ سے کابل کے ساتھ ساتھ واشنگٹن سے بھی ہمارے تعلقات کشیدگی کا شکار رہتے ہیں۔اگر اب بھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی نہ لائی تو امریکہ اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید خراب ہوں گے اور بھارت میں بھی پاکستان مخالف سیاست کو فروغ ملے گا۔ افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی نزدیکیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے طالبان کی حمایت کرنے کی ہماری پالیسی بالکل غلط ہے۔ ہمیں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ریاستوں کے درمیان تعلقات کی روایات کی پیروی کرنی چاہیے۔ ہم حقانی نیٹ ورک کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان اس وقت تک مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک ان کو عسکری لحاظ سے شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔طالبان یا کسی بھی عسکری گروپ کو اپنے خفیہ ٹھکانوں، بھرتی اور منصوبہ بندی کے لئے پاکستان کی سرزمین کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ صرف مذاکرات کے مقصد کے لئے ان گروہوں کو پاکستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بھی ہمیں ایک واضح اور شفاف پالیسی اپنانی ہوگی اور امریکہ کو یہ بتانا ہوگا طالبان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور ہم کس حد تک طالبان سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہیں۔ہمیں امریکہ کو صاف صاف بتا دینا چاہیے کہ ہم کس حد تک افغانستان میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پوری دنیا آج اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں نکل سکتا اس لئے جتنا جلدی امریکہ، افغان حکومت اور طالبان اس حقیقت کا ادراک کرلیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تینوں سٹیک ہولڈرز اس حقیقت کا ادراک کریں گے اور اگر کریں گے تو مزید کتنا وقت لگے گا ؟ چین کے ساتھ ساتھ روس بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کر سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک اپنی جغرافیائی حدود میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے پریشان ہیں اور طالبا ن کو داعش کے خلاف بفر کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی تک افغانستان کے حوالے سے چین کی پالیسی محتاط رہی ہے اور چین افغانستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوا ہے۔اگر علاقائی ممالک مختلف گروہوں اور تنظیموں کے ذریعے افغانستان میںدخل اندازی بند کردیں تو افغانستان کے مسئلے کا حل جلد نکلنے کی امید کی جاسکتی ہے لیکن علاقے میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ ایران کے متصادم مفادات کسی بھی پُرامن حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اس حوالے سے امریکہ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کے معاملات میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی حمایت کررہا ہے جس کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا رہتا ہے۔پاکستان نے اس حوالے سے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بھارتی دخل اندازی کو روکنے کے ساتھ ساتھ دیگر عسکری گروہوں کی کارروائیوں پر بھی قابو پایا جاسکے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ افغان حکومت باڑ لگانے کے منصوبے کی مخالفت کررہی ہے۔ افغان حکومت کے مطابق باڑ لگانے سے ڈیورنڈ لائن انٹرنیشنل بارڈر میں تبدیل ہو جائے گی۔ پاک۔افغان بارڈر پر صورتحال کی بہتری کے لئے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ فاٹا کے لوگوں کو ہمیشہ سے ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے میں شدت پسندی کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے ۔اسی طرح پاکستان کو افغان مہاجرین کی واپسی کے مسئلے کو بھی انسانی حقوق کی بنیاد پر حل کرنا ہوگا کیونکہ اگرا یسا نہ کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ افغان مہاجرین کے کیمپوں کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔ روس کے خلاف افغانستان کی مدد کرنے اور لاکھوں افغان مہاجرین کو کئی سالوں تک پناہ دینے کے باوجود پاکستان افغانیوں کا پسندیدہ ملک نہیں ہے جس کی وجہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی مدد اور حمایت ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغان سیکورٹی فورسز کی مدد کے لئے مزید 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے موڈ میں نہیں ہے جس سے طالبان پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے دبائو بڑھے گا لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوں گے ۔ 

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں