پاکستان کو کتنے ہنر مندوں کی ضرورت ہے؟

پاکستان کو کتنے ہنر مندوں کی ضرورت ہے؟

پاناما کیس کے علاوہ ہم آج کل صرف ایک اور بات کرتے ہیں اور وہ سی پیک کے حوالے سے ہے۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ سی پیک پاکستان میں آگیا تو ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ زندگی میں ایسی کمال تبدیلی آئے گی کہ پھر پاکستان جنت نظیر ہوگا۔ امریکہ اور یورپ سے لوگ پاکستان آیا کریں گے۔ ہمارے کمالات پر دنیا دنگ رہ جائے گی۔ دنیا کی سب سے گہری بندر گاہ ہمارے پاس ہوگی۔ ہم اس کی باتیں کر کرکے اپنی رالیں ٹپکاتے رہتے ہیں۔ کبھی ہم نقشے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ چین اپنا سارا تیل جو وہ مشرق وسطیٰ سے منگواتا ہے ہمارے راستے منگوانے لگے گا۔ کبھی کوئی دور کی کوڑی لاتا ہے کہ چین سی پیک راہداری میں صرف تیل کی وجہ سے ہی دلچسپی نہیں رکھتا ۔ اس کی وجوہات اور بھی ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو یہ بھی ہے کہ چین کی افریقہ میں بے شمار سرمایہ کاری ہے۔ چین اس سرمایہ کاری کے ثمرات سے مستفید ہونے اور اس کی نگہداشت میں بھی تو دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کے لئے بھی یہ راستہ بہت چھوٹا ہے۔ چین کی افریقہ میں اس دلچسپی کے علاوہ چین سمندر میں آسٹریلیا سے ذرا اوپر موجود امریکی بحری بیڑے کا بھی سدباب کر سکے گا۔ اگر معاملات بگڑنے لگیں اور چین جو امریکہ کے دوستوں سے گھرا ہوا ہو اس کا راستہ اب سمندر میں امریکہ بند نہیں کرسکتا۔ سی پیک کے ذریعے چین کو یہ فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ اگرچہ چین جنگ کسی طور نہیں چاہتا اور اس کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں چین نے کسی ہمسایہ ملک کو اپنی کالونی بنانے یا اس پر قبضہ جمانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اپنے مفاد کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں وہ کسی کو نیچا نہیں دکھانا چاہتے۔ حالانکہ چینی معاشرہ اب خاصا ماڈرن ہوگیا ہے۔ مغرب سے بہت سی باتیں انہوں نے مستعار لی ہیں لیکن اب بھی اس قوم کا مجموعی کردار کنفیوشس کی تعلیمات پر ہی مبنی ہے۔ وہ اچھے لوگ ہیں۔

سی پیک کے حوالے سے ایک مخصوص طبقہ فکر کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کچھ عرصے بعد چین کی کالونی دکھائی دے گا۔ میں خود بھی سی پی کے حوالے سے پریشانی کاشکار ہوں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے حکمران کبھی پاکستانیوں کے مفادات کے ضامن نہیں رہے۔ وہ اپنے مفادات کے لئے یا کسی بیرونی دبائو میں فیصلے کرتے ہیں اور کبھی ذرا بھی احساس ندامت کا شکار نہیں ہوتے۔ سی پیک راہداری کا منصوبہ بہت اچھا ہے لیکن ہمارے حکمران' ہمارے پالیسی بنانے والے اس سے پاکستان کو کس حد تک فائدہ پہنچانے کو تیار ہیں یا کوشش کر رہے ہیں اس کے بارے میں فکر رہتی ہے۔ پاکستان میں لوگ بے روز گار ہیں اور سی پیک منصوبے سے ملک میں بے شمار ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا۔ اس سے روز گار کے مواقع بڑھیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے لوگ روز گار کے ان مواقع سے پوری طرح فیض یاب ہونے کو تیار ہیں؟ پاکستان میں غیر ہنر مند لوگ بہتات میں ہیں۔ تعلیم کی شرح کم ہے اور لوگوں میں کام کرنے کارجحان اس سے بھی کم۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نتیجے میں لوگوں کے جو وظیفے لگائے گئے اس نے عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں بھیک کے رجحان کو بہت بڑھا دیا ہے۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی سروے نہیں کئے گئے۔ اگر کوئی تحقیق کی جاتی تو ہمیں معلوم ہوتا کہ بھیک کے رجحان میں سڑکوں کے کناروں پر موجود فقیروں کی تعداد سے لے کر کام کرنے کی خواہش تک یہ منفی رجحانات بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بعد دکھائی دینے لگے ہیں۔ اب ہمارے ملک میں کام کرنے والے لوگ کم ہو رہے ہیں اس کی وجوہات قطعی یہ نہیں کہ ملک میں ہنر مند' کاریگروں کی تعداد بڑھ گئی ہے بلکہ اس کی وجوہات میں لوگوں کے مزاج کی یہ تبدیلی بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سی پیک منصوبے کے ملک میں قدم جمانے کے بعد گوادر سے لے کر خنجراب تک مزدور طبقے کی بھی ضرورت ہوگی۔ نیم پیشہ ور افراد کی ضرورت بھی محسوس ہوگی۔ اور ہنر مندوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی تحقیق پاکستان میں ہو ہی نہیں رہی کہ سی پیک کے نتیجے میں روز گار کے کیا مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ کون کونسی صنعتیں یا علاقے ترقی کریں گے' کس قسم کے ہنر مند چاہئے ہوں گے۔ پاکستان سی پیک سے بھرپور طریقے سے کیسے مستفید ہوسکتا ہے۔ حال یہ ہے کہ کئی جگہوں پر جہاں اس وقت پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے کام جاری ہے چینی قیدی کام کرنے کے لئے لائے گئے ہیں۔ کیا پاکستان میں سی پیک کاخواب دیکھتے ہی ایسی امارت نے جنم لیا ہے کہ اب کام کرنے والے لوگ ہی نہیں ملتے اور چین کے قیدیوں سے کام کروانا پڑ رہا ہے۔ جیلوں سے نکل کر جو لوگ ہمارے ملک میں آئے ہیں وہ ہمارے معاشرے کی بنت پر کیسے اثرات مرتب کریں گے۔ ہمارا حال اس افیمی سے قطعی مختلف نہیں جوسیب کے نیچے لیٹنے کے باوجود اس انتظار میں ہے کہ کوئی سیب اٹھا کر اس کے منہ میں ڈالے۔ جو کام پاکستان نے اپنے لئے کرنے ہیں وہ کوئی اور بھلا ہمارے لئے کیوں کرے گا۔ ہمارے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ سی پیک کے نتیجے میں انہیں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانے لگانے کا خیال تو آگیا لیکن یہ خیال نہ آیا کہ کسی کو شاہی فرمان جاری کرتے کہ تحقیق کرو ملک میں کس قدر ہنر مندوں کی ضرورت ہوگی اور کسی ادارے کے ذمے کام لگا دیتے کہ محکموں میں آگہی ہی پیدا کرے۔ ایسے ہی کتنے دکھ ہیں جن کے سدباب کی کوئی امید نہیں لیکن ہم ووٹ تو انہی کو دیں گے۔

متعلقہ خبریں