گدھے کا دوشالہ

گدھے کا دوشالہ

جمہو ریت کے لیے وکلا ء کا کر دار بڑا قابل ذکر رہا ہے خاص طور پر ایو ب خان کی آمریت کے خلا ف اور بعد ازاں بھٹومرحوم کی آمر انہ طر ز حکومت میں وکلا نے جو کر دار اد اکیا وہ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے اس سے بڑھ کر عدلیہ کی آزادی کی جدو جہد میں مشرف دو ر میں جو کر دار رہا وہ سنہری حروف کا متقا ضی ہے ، ایو ب خان اور بھٹو دور میں ملک میں زیادہ تر دفعہ 144ہی رائج رہتا تھا جس کے تحت جلسہ جلو س پر تواتر کے ساتھ پابندیاں عائد کر دی جا تی تھیں ایسے حالت میں وکلا جو قانو ن کے پا سبان ہیں۔ انہو ں نے قانو ن کے دائر ہ میں رہ کر آمر و ںکے خلا ف جد وجہد کی ۔ دفعہ 144جو بنیا دی طو ر پر امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول رکھنے کا قانو ن ہے اور اس کو ایسے مواقع پر استعمال کیاجا نا چاہیے جب امن وامان کو خطرہ لا حق ہو رہا ہو ، چنا نچہ آمر و ں نے اس قانو ں کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کیا اس کے ذریعے عوام کو ان کے حق اظہار رائے سے روکا۔ اس دفعہ کو نافذ کرکے چار یا اس سے زیا دہ افرا د کے ایک جگہ جمع ہو نے پر پابندی لگا دی جا تی تھی جس سے کوئی جلو س یا جلسہ پر از خود پابندی لگ جاتی تھی ۔ لیکن وکلا کر ام نے اس کا تو ڑ یہ نکالا کہ وہ دو دو کی ٹولیو ں میںجلو س نکالتے آپس میں فا صلہ رکھ کر چلتے ، وکلا کی یکجہتی اور اتحاد کو نقصان بھٹومر حوم کے دورمیں ہو ا جب پا رٹی سیا ست ترجیح پاگئی اب بھی ایسا ہو رہا ہے کہ وکلا سے زیا دہ کو ن بہتر جا نتا ہے کہ ایک ایسے شخص سے جس پر کوئی الزام باقاعدہ طورپر نہ لگا ہو اس کو ملزم تک قر ار نہیں دیا جاسکتا چہ جائیکہ اس کومجرم کہا جا نے لگے جبکہ عدالت کے جج بھی اپنے ریمارکس میں کہہ رہے ہیں کہ میا ں نو از شریف پرجے ٹی آئی نے کرپشن کا الزام نہیںلگا یا ہے پھر کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ایسے میں کیا قانون دانو ں کو زیب دیتا ہے کہ وہ استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔ قدم قدم پر یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ تحریک انصاف میں ابھی تک سیا ست کی سمجھ بو جھ کا فقدان موجو د ہے ، وہ ملک میں تبدیلی لا نے کااعادہ کرتی ہے اور کر پٹ عنا صر کا احتساب کا مطالبہ کرتی ہے لیکن وہ معاشرے کو بدلنے کے لیے خود بدلتی جا رہی ہے۔ آج پی پی اور پی ٹی آئی دونو ں ہم رکا ب ہیں تاہم حیرت ہے کہ آصف زرداری اب تک یہ کہتے آئے ہیں کہ عمر ان خان کو اب تک سیا ست کی اے بی سی نہیں آئی ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آصف زرداری نے بطور سیاست دان خود کو ماہر تسلیم کر ایا ہے ، بابائے جمہو ریت نو ابزادہ نصراللہ کے بعد ان کو سیا سی داؤ پیچ کا ماہر تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ سیاست شطرنج کی ما ہرانہ چالوں کا کھیل کہلا تا ہے ، جہا ںچال چلنے سے پہلے صبر وتحمل کی ضرورت ہوتی ہے جہا ںاپنے اور دوسرو ںکے گردے نہ تو چھیلے جا تے ہیں نہ کھجلا ئے جا تے ہیں ۔ جس طر ح اگر کوئی لنگڑا ہو جائے تو لاکھ کو شش کے باوجود وہ لا رڈ بائرن جیسا عظیم روما نی شاعر نہیںبن سکتا ، اسی طر ح گدھے پر دوشالہ ڈال دینے سے گدھا گھوڑا نہیںہو جا یا کرتا'گدھا ہی رہتا ہے ۔ جہاںتک مسلم لیگ کی سیا ست کا تعلق ہے تو میاں نو از شریف بھی چھپے رستم نکلے ہیں ، اب تو انہو ں نے قطری شہزادے کا قطر کی حکومت سے تصدیق شدہ خط بھی منگو ا دیا جو سرکا ری طور پر پاکستان بھیجا گیا ہے اس خط کی تصدیق قطر کی وزارت داخلہ وانصاف نے کی ہے اوروزارت خارجہ نے پاکستان سرکاری دستاویز کے طور پر بھیج دیا ہے ، اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑ ے گا کہ نو از شریف کے دور میں پاکستان جس کو پر ویز مشر ف نے تنہا ئی کا شکا ر کر دیا تھا اس کوعالمی بر ادری کا ایک معز ز ملک دوبارہ بنا نے میںکر دا ر اد ا کیا ہے ، جس کا اس امر سے اندا زہ لگایا جاسکتا ہے کہ قطری شہزادہ نے نو از شریف کے لیے خط ارسال کیا حالانکہ وہ ایسا کرنے کا پابند نہ تھا ، اس نے جے ٹی آئی کو کئی مرتبہ دعوت دی کے وہ دوحہ آکر خط کی تصدیق کرالے ، جے آئی ٹی جو ثبوت لینے دوبئی گئی وہ قطر کیو ں نہیںگئی اس کا جو اب تو کمیٹی ہی دے سکتی ہے ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنی بیٹی کے نکا ح کا گواہ نو از شریف کوبنایا، راحیل شریف کو نہیں بنایاجو اس تقریب میں شریک تھے ۔آصف زرداری نے بھی اس منصوبے کے شروع کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے مگر چین نے کوئی پیش رفت اس وقت تک نہیں کی جب تک اس کے بھر وسے کی حکومت قائم ہو گئی اسی طرح اربو ں ڈالر کی ترکی نے پاکستان میں سرما یہ کا ری کی ہے اور وہ بھی اسی جمہور ی دور حکومت میں کی کیا وہ اپنے سرمایہ کو پا کستان میں ڈوبنے دیں گے ہرگز نہیں ، جب سی پیک دھر نا دیا گیا جی اس کو سی پیک دھر نا ہی کہا جاتا ہے کیو ں کہ اس دھر نے کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد میں بڑا تعطل پید ا ہو ا تھا اوریہ جانتے ہو ئے بھی چین کو اعتما د نہیں دیا گیا کہ کوئی تشویش کی بات نہیں جب دھر نا ختم ہو ا تو معاملا ت کو آگے بڑھنے میں مدد ملی۔ پانا ما بحران سے ملک کی معیشت کس حد پر جا کھڑی ہوئی وہ بھی سامنے ہے ۔ بابر اعوان جنہو ں نے زرداری کے ترجما ن کا خوب کر دارنبھایا تھا ایک ٹی وی شو میںانہو ں نے آصف زرداری کی سیا ست اور حکومت کی خوب خوب وکالت کر تے ہو ئے ٹاک شو میں مو جو د عمر ان خان پر براہ راست الزام لگایا تھاکہ انہو ں نے بنی گالا میں محکمہ جنگلا ت کی زمین پر نا جا ئز قبضہ کیا ہے ، اب وہ خود فیصلہ کر لیں اپنے اپنے رویو ں کے بارے میں ۔

متعلقہ خبریں