اٹھ رہاہے دھواں مرے گھر سے

اٹھ رہاہے دھواں مرے گھر سے

بھارتی ڈراموں پر پابندی ختم' لاہور ہائی کورٹ نے پاکستانی چینلز پر بھارتی ڈرامے دکھانے پر پابندی کے حوالے سے پیمرا کا جاری کردہ سرکلر کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان میں بھارتی ڈرامے اور آڈیو ویڈیو مواد دکھانے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں تو پیمرا الگ ڈگر پر کیوں چل رہاہے۔ فاضل عدالت نے یہ جو فرمایا ہے کہ '' اگر بھارتی فلموں سے ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں اس کاتذکرہ کیوں نہیں کیا؟ تو گزارش ہے کہ وہ جو اثرات مرتب ہونا تھے ان کے حوالے سے تو پانی کب کا سر سے گزر چکا ہے اس لئے بے چاری پیمرا کیا جواب دے اور وہ جو پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ (ترجمہ) بھیگے ہوئے کا کیا بھیگ جائے گا' عرصہ ہوا اندرا گاندھی کو بہو سونیا گاندھی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ہمیں پاکستان پر حملہ کرنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ ہم انہیں ثقافتی طور پر شکست دے کر ان کے اقدار کو تہس نہس کر دیں گے اور آج جب ہم اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو سونیا گاندھی کے دعوے کو درست پاتے ہیں۔ بھارت نے ثقافتی یلغار کے ذریعے ہمارے مذہبی اقدار کو اس قدر نقصان پہنچا دیا ہے کہ بھارتی فلمیں اور ڈرامے تو ایک طرف جب ہم ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں تو صرف ایک چینل پی ٹی وی ہوتا تھا جس کی انائونسرز' نیوز کاسٹرز جب اپنے جسم کو دوپٹے سے ڈھانپتی تھیں تو ایک تفاخر کا احساس ہوتا تھا ایک پاکیزگی اور نورانیت ان کے چہروں کو معصوم بنا کر دنیا پر واضح کردیتی تھی کہ یہ پاکستان جیسے ملک کے سرکاری ٹی وی سے وابستہ خواتین ہیں۔ اس پاکستان کی جو اسلام کے نام پر بنا تھا۔ مگر اب جبکہ چینلز کا ایک کہکشاں سج چکا ہے ان میں خواتین نیوز کاسٹرز اور اینکرز کے مابین بے پردگی اور جسمانی نمائش کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اس لئے ان چینلز پر ریٹنگ کے حوالے سے نوجوان نسل پر منفی اثرات پڑنے کے حوالے سے فاضل عدالت کا اٹھایا جانے والا سوال کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ رہ گئی بھارتی فلموں اور ڈراموں پر پابندیوں کا سوال تو پیمرا سے فاضل عدالت کا استفسار قانونی طور پر تو درست ہے کہ اگر بھارتی حکومت کی جانب سے بھارت کے اندر پاکستانی فلموں اور ڈراموں پر پابندی کا کوئی سرکاری حکمنامہ موجود ہو تو پیش کیاجائے اور چونکہ (دستیاب معلومات کے مطابق) بھارت سرکار کی جانب سے ایسا کوئی حکمنامہ موجود نہیں اس لئے یقیناً پیمرا دستاویزی ثبوت تو عدالت میں پیش نہیں کرسکے گا البتہ یہ بات تو دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے اندر پاکستانی فلموں اور ڈراموں پر پابندی تو در اصل شیوسینا اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی وجہ سے ہے اور کوئی بھی چینل اس قسم کی انتہا پسندی کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں کرسکتا اس لئے وہاں پاکستانی فلموں' ڈراموں پر ڈر اور خوف کے مارے پابندی لگائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہاں کی فلموں میں کام کرنے والے فلمی ستاروں کو بھی ڈرا دھمکا کر نکال دیا جاتا ہے جبکہ کئی ایک مزاحیہ ڈرامہ فنکاروں کو جو وہا ں کے پروڈکشن ہائوسز درخواست کرکے اور معاہدوں کے تحت پاکستان سے منگواتے ہیں ان کو آر ایس ایس اور شیو سینا کے غنڈوں نے زد وکوب کرکے بھارت سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اسی طرح موسیقی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑے فنکاروں کے ساتھ بھی زیادتی روا رکھی جاتی رہی ہے۔ شاید اسی لئے پیمرا نے بھارتی ڈراموں پر پابندی لگا کر حساب برابر کرنے کی کوشش کی ہے تاہم درخواست دہندہ کی وکیل کی یہ بات درست ہے کہ جب بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دی جاتی ہے تو پھر ڈراموں پر پابندی کیوں ہے؟ مگر اس مسئلے کے ایک انتہائی خطرناک پہلو کے بارے میں کسی نے بھی غور نہیں کیا کہ بھارتی فلموں اور ڈراموں میں بت پرستی اور بھارتی ثقافت کا جو پرچار کیاجاتا ہے جیسا کہ شادی بیاہ کے مواقع پر آگ کے شعلوں کے گرد سات پھیرے ' دیوالی اور ہولی کے تہواروں پر ہونے والی سرگرمیاں' جیسے کہ ایک د وسرے پر رنگ پھینکنا وغیرہ۔ اس قسم کی سر گرمیوں کے اب ہمارے ہاں بھی بھونڈی نقل کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عمارتی رنگ فروخت کرنے والی کمپنی کے ایک اشتہار میں ہولی کے تہوار کی جس طرح نقل کی گئی ان سے ہمارے مذہبی اقدار کو جو خطرات لاحق ہو رہے ہیں پھر یہ دیکھ لیجئے کہ پاکستان میں فلمی ایوارڈز ایک عرصے سے منعقد ہوتے تھے مگر ان میں بھارتی ایوارڈز کی طرز پر بے ہودہ ڈانسز شامل نہیں ہوتے تھے البتہ میل اور فی میل سنگرز نغمے ضرور گا لیتے تھے مگر گزشتہ تین چار برس سے ان شوز پر بھی بھارتی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے جبکہ اب پاکستانی ڈراموں میں بھی بہت حد تک مغربی لباس کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں اور عشق و محبت کے جو مناظر ملتے ہیں ان پر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اس لئے یہ سوال کہ ان سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو ان کو سنسر کیا جاسکتا ہے بڑا عجیب نظر آتا ہے اور اگر بھارتی ڈراموں کو سنسر کرنے پر بات آگئی ہے تو پہلے پاکستانی ڈراموں کو تو کسی اخلاقی قدغنوں میں لا کر کنٹرول کیجئے کیونکہ پاکستانی ڈرامے بھی ریٹنگ کے چکر میں پڑ کر پاکستانی اخلاقیات' ثقافت اور مذہبی اقدار کو کھوکھلا کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے کو شکست دینے میں مصروف ہیں۔ بقول اعجاز رحمانی

چین سے سو رہے ہیں ہمسائے
اٹھ رہا ہے دھواں مرے گھر سے

متعلقہ خبریں