افغانستا ن میں طالبان کے ٹھکانے

افغانستا ن میں طالبان کے ٹھکانے

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ پاکستان افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کی بحالی میں تعاون کیلئے تیار ہے ، جنگ سے تباہ حال افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ مشرقی سرحدوں پر حملوں اور کشیدگی کے باوجود پاکستان نے بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کا مقصد افغانستان میں سلامتی اور ترقی کیلئے اپنے عزم کی تجدید کرنا ہے مگر بد قسمتی سے آئندہ کانفرنس کے میزبان ملک کی پالیسیوں کی وجہ سے ایشیا ء کا دل لہو لہو ہے ، پاکستان نے دنیا کے سب سے بڑے اور مئوثر آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں کے خلاف گھیر ا تنگ کر دیا ہے ۔ تاہم انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کو بیرونی عوامل کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں سے جس طرح دہشتگردی کی عفریت کو ختم کرنے میںکامیابی حاصل کی ہے اس کا سہرا پاکستان کی بہادر اور جری افواج کے سر ہے مگر افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ دہشتگردی کی کارروائیاں اب بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں اور اس کی بنیادی وجہ دہشتگردوں کی پشت پناہی میں افغانستان کی سرزمین پر موجود بھارتی قونصل خانے ہیں جوا ن فرارشد ہ انتہا پسندوں کو ہر قسم کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ عسکری تربیت اور اسلحہ و گولہ بارود کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ دہشت گرد افغان سرزمین پر بیٹھ کر اپنے مربیو ں کی خواہشات کے مطابق پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے اور ان پر عمل درآمد کرتے ہیں ، اس ضمن میں پاکستان نے بار ہا افغان حکومت سے دہشتگردی کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے حوالے سے شواہد بھی دیئے ہیں اور دہشتگردانہ حملوں کے دوران جس طرح افغان سرزمین سے ہدایات موصول ہوتی ہیں اس حوالے سے پیغامات کو بھی ٹریس کیا جاتا ہے پاکستان نے افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین روابط کی پیشکش کی ہے مگر افغان حکمرانوں پر جس طرح بھارتی اثر ورسوخ ہے اس کی وجہ سے ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہور ہی ہے ۔ افغان حکمرانوں کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں اوراگر انہیں اپنے وطن میں امن و آشتی درکا ر ہے تو وہ افغان طالبان کے ستاتھ مذاکرات کے حوالے سے نہ صرف پاکستان کی پیشکش سے فائدہ اٹھائیں اور طویل عرصے سے افغان سرزمین پر بہنے والے لہو کو بند کرنے کی سبیل کریں ، بلکہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کی سازشوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار اد ا کریں ۔ امیدہے حکمران ہوش کے ناخن لیںگے اور بے گنا ہ خون کے بہنے کی را ہیں مسدود کرنے کیلئے ضروری اقدام کریں گے ۔
ڈھائی لاکھ پاکستانی ڈیپورٹ
حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2012ء سے 2015ء تک کے تین سال کے دوران تقریباً اڑھائی لاکھ پاکستانی سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، اور ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے نکالنے جانے کے بعد وطن عزیز واپس پہنچے ، سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسو سی ائیڈ پریس نے لیبر مائیگریشن فرام پاکستان سٹیٹس رپورٹ 2015ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، اور ایران کے علاوہ عمان ، یونان ، برطانیہ اور ملائشیا ء سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ۔ ان میں اکثریت مزدوروں کی تھی جبکہ ایران سے واپس بھیجے گئے افراد میں وہ لوگ شامل تھے جو غیر قانونی طو ر پر یونان اور اس سے آگے یورپ جانے کیلئے پاکستان سے نکلے تھے ، خلیج تعاون کونسل میں شامل ملکوں سے زیادہ تر سیکورٹی خدشات کی بناء پر پاکستانیوں کو نکالا گیا ، آنے والے برسوں میں اس رجحان میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سرکاری رپورٹ میں تو ان افراد کا ذکر ہے جو پکڑ ے گئے اور واپس پاکستان بھیج دیئے گئے ۔ جبکہ وہ بد قسمت افراد ان میں شامل نہیں ہیں جو راستے کی صعو بتوں کی نذر ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ خصوصاًجولوگ کسی نہ کسی طور پر ایران سے بھی آگے ترکی اور یونان پہنچ کر لا نچوں اور کشتیوں کے ذریعے آگے جانے کیلئے روانہ ہوئے اور یا تو کشتیوں کے الٹ جانے سے سمند ر میں ڈوب گئے یا پھر ساحلوں پر ان ملکوں کے سیکورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے ، یہ سارا سلسلہ دراصل انسانی سمگلنگ کے زمرے میں آتا ہے اور بہتر مستقبل کی تلاش میں لوگ انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ اس صورتحال کی وجہ سے بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں انتہائی منفی تاثرات قائم ہوتے ہیں ۔ بہر حال اس صورتحال کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیکر مسئلے کے تدارک کیلئے اقدام کرنا ناگزیر ہے ۔

متعلقہ خبریں