نکی کی حکمرانی

نکی کی حکمرانی

تقسیم ہند کی وجہ سے خاند انو ں کابٹوارہ بھی ہو ا تاہم اس سلسلے میں پنجا ب سے تعلق رکھنے والے خاندانوںپر کو ئی زیا دہ فر ق نہیں پڑ ا کیوں کہ پنجا ب کی تقسیم بھی ہو ئی جس میں ان کا یہ فائد ہ ہو ا کہ مشرقی پنجاب کے مسلمان مغربی پنجا ب میں آکرآبا د ہوگئے ، ان کو رسم رواج اور تمدنی تبدیلی کا احساس نہ ہو ا جبکہ دیگر صوبو ں سے آنے والو ں خاص طور پر یو پی ، بہا ر ، سی پی اور بھارت کی جنوبی ریا ستو ں حید رآباد ، پو نا ، مدراس وغیر ہ کے باسیو ں کو تبدیلی کے مر حلے سے گزرنا پڑا۔ اسی طر ح مغربی پنجا ب سے جا نے والے غیر مسلمو ں کو بھی ثقافتی طو ر پر کوئی جھٹکا نہیں لگا ، تاہم یہ ہوا کہ خاند انوں کا ہر مقام پربٹوارہ ہو گیا ، چنا نچہ پنجاب میںغالباًجا ٹ قوم کی ایک گو ت ہے جو رندھا وا کہلا تی ہے ، ایک بہت بڑی برادری ہے ، آزادی ہند سے قبل یہ برادری لا ہو ر ، گردونو اح اور امر تسر میں اکثریت سے آبا د تھی ، ان میں مسلما ن ، ہند و اور سکھ مذہب کے پیر و کا ر بھی ہیں ، تقسیم ہند کے بعد غیر مسلم رند ھا وا بھارت نقل مکا نی کر گئے جبکہ امر تسر وغیر ہ سے مسلما ن رند ھا وا پاکستان ہجرت کر کے آئے گئے ، یہ لوگ زراعت کے ما ہر ہیں ان کو بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کے لیے مختلف علا قو ں میں بسایا گیا اور حقیقت ہے کہ بنجر بے آب وگیا ہ زمینو ں کو لہلا تے کھیتوں اور سرسبز باغات میںانہوں نے تبد یل کیا ، پا کستان کے صوبہ سند ھ میں بھی زرعی ترقی میں اس برادری کا اہم کردار ہے ، سندھ میں ان کو پنجا بی آباد کا ر کہا گیا ، بھٹو نے جب ایو ب خان کے خلا ف تحریک چلا ئی تھی اس وقت سندھ کے قوم پر ستوں نے آباد کا ر و ں کے خلا ف بھی تحریک چلا ئی جنہوں نے سندھ کو سرسبز کر نے میں اہم کر دارادا کیاتھا حالا نکہ پاکستان کے قیا م سے قبل سند ھ میں صر ف جلا نے کی لکڑی ہی ہو تی تھی آج یہ صوبہ زرعی شعبے میں پنجا ب کے برابر ہے ۔اسی برادری کے سکھ خاند ان کا ایک فرد جو تقسیم کے بعد امر تسر میں آباد ہوگیا تھا ، پی ایچ ڈی کی غر ض سے امر یکا گیا ،اور وہا ں کا ہی ہو کر رہ گیا ، کیو ں کہ اس کو ساؤتھ کیر ولینا ریا ست کی یو نی ورسٹی میں پر وفیسر ی مل گئی تھی ، ان کے چا ر بچے تھے جن میں سب سے چھو ٹی لڑکی تھی جس کو سب ہی نکی کے نا م سے پکا رتے تھے ، جو آگے چل کر اس کا مستقل نا م پڑ گیا ۔ نیکا ہند کو اور پنجا بی میں چھو ٹے کو کہتے ہیں پشاور کے روایتی کھا نو ں میںخاص طورپر صبح کے نا شتے میں آج بھی پائے پسندیدہ خوراک ہے ، پشاور میں اس کی جگہ جگہ دکانیںہو تی تھیں اور پشاور میں کئی مشہو ر پا ئے والے پائے گئے ان میںتحصیل گو رگٹھڑی میں ایک نیکا پا ئے والا ہنو ز نا مور ہے اسی طرح نیکا کی مو نث نکی ہے چنانچہ اس سکھ خاند ان کی بچی کا نا م نکی رند ھاوا ہو ا ، جس کے بارے میں پیشن گوئی کی جا رہی ہے کہ اس ذہین وفطین خاتون کی قسمت جا گ رہی ہے اور وہ امریکا کی آئند ہ وزیر خارجہ ہو گی ، جو ایک طر ح سے ہیلر ی کا تو ڑ ثابت ہو گی ، بھا رت نژاد نکی اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہے سیا ست میں بھی اس کا خاصا تجر بہ ہے ،ری پبلکن پا رٹی سے سیاست کا آغازکیا اوراپنی بہترین صلا حیتو ں کی وجہ سے نہ صر ف امر یکا کی سیا ست میں نا م سربلند کیا بلکہ وہ ریا ست کیر ولینا کی دو مر تبہ گورنر بھی مقر ہو ئی اور کا میابی سے الیکشن جیتا ، پا رٹی کی مشاورت میں اس کا بڑاحصہ رہا ہے ایک مر تبہ یہ توقع بھی کی جا رہی تھی کہ امریکا کی صدارت کے الیکشن کے لیے اسے پا رٹی ٹکٹ مل جا ئے ۔ تاہم جہا ں تک نکی رندھا وا کے وزیرخارجہ مقر ر ہو نے کا تعلق ہے تو اس میں ایک ہیچ مو جو د ہے کیو ں کہ وہ ٹرمپ کی نا قدین میں شما ر کی جا تی ہے الیکشن کے دوران بھی نکی نے ٹرمپ کی کئی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کی تھی اور اب بھی وہ نا قد بنی ہو ئی ہے جس کی وجہ سے معاملہ الجھا سا نظر آتا ہے جہاں ٹرمپ کی کا میا بی سے بھا رت شاداں نظر آرہا ہے وہا ں اس کی لا بی اس امر کے لیے متحرک ہے کہ بھارتی نژاد نکی کو وزیر خارجہ بنا دیا جا ئے بھا رت کا غالباً گما ن ہے کہ نکی کے آنے سے بھارت کے وارے نیارے ہو جا ئیں گے کیونکہ مو دی اور ٹرمپ کی سیا سی کیمسٹر ی میں تطا بق ہے چنا نچہ بھا رتی حکمر ان نیتا ؤ ں کی جو یہ کا وش ہے کہ پا کستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا جائے اس میں کا میا بی مل جائے گی ، ایسی سو چ محض گمان پر ہی مبنی ہو ا کرتی ہے ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہو ا کرتا ، کیو ں کہ امریکا میں تما م پا لیسیا ں ٹرمپ کی نہیںہو سکتیں ، وہا ں پا رٹی کو ترجیح حاصل ہے اس کے علا وہ پالیسی ساز ادار ہ وائٹ ہا ؤس نہیں بلکہ کانگرس ہے اگر پا رٹی چاہے گی تو نکی رندھا وا وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھا ل سکیں گی اس کی راہ میں ٹرمپ حائل نہیں ہو سکتے ۔ اگر بھا رتی نیتاؤ ں کا یہ گما ن ہے کہ نکی بھا رت نژاد ہو نے کے نا تے بھا رت کے لیے کا ر آمد رہے گی تو یہ خیال کی حد تک ٹھیک ہے ، نکی امر یکا میںپلی بڑھی ہے اس نے یہا ں ہی پڑھا ہے اور اسی معا شرے میں رچی بسی ہے ہو سکتا ہے کہ بھارت سے اس کے قلب میںآبائی وطن ہو نے کے نا تے کوئی خوشگوار گوشہ ہو مگر وہ پا بند اوروفادار اپنے ملک کی ہے جس طر ح افغان نژاد زلمے خلیل زادہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں امر یکا کا پہلا سفیر مقر ر ہو ا تھا اس کی سفارت کے دور ہی میںاس کے افغانستان پر امریکا نے کا رپٹ بمباری کی ڈرون حملے کیے اوراس نے پو ری طرح امریکی پالیسی کو اپنا یا ، بھارت کے لیے ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ اند را گاندھی کے دور میں گولڈن ٹیمپل پر حملے کے بعد سے سکھ قوم میں بھا رت کے خلا ف دلو ں میں نفر ت کا عنصر نے جنم لیا ہے جس کا اب بھی کسی نہ کسی طور اظہا ر ہوتارہتا ہے اور نکی سکھ ہے اور بھا رت کے لیے یہ ہی تاریک پہلو ہے ۔ نکی سمجھدار ہے سیا سی اور عالمی حالات کی پر کھ رکھتی ہے اس کو پا رٹی میں بھی منفردحیثیت حاصل ہے وہ صرف اپنے ملک کے مفادات کا ہی تحفظ کر ے گی۔ امر یکی بھی چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ ایسا وزیر خارجہ ہو جو اس کو نکیل ڈال کر رکھ سکے کیوں کہ امر یکا کے بھی دنیا سے مفادات وابستہ ہیں گاڑی دوپہیو ں کے بغیر نہیں چلا کر تی ۔

متعلقہ خبریں