ٹریفک کے مسائل

ٹریفک کے مسائل

زندگی کا سفر جتنا دلچسپ ہے اتنا ہی کٹھن بھی ہے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے وہ جو میر نے کہا تھا لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔ کام کی نزاکت دو حوالوں سے ہے اپنی زندگی اور اپنے آس پاس رہنے والوں کی زندگی۔ اپنا بھی خیال کیجیے اور دوسروں کا خیال بھی رکھیے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کی وجہ سے کسی کا دل نہ دکھے کسی نازک آبگینے کو ٹھیس نہ پہنچے۔جس دن ہم اپنے افعال و اعمال کی ذمہ داری مکمل طور پر قبول کرلیتے ہیں ۔بہانے بنا نے سے پرہیز کرنا شروع کردیتے ہیں اسی دن سے ہماری سمت درست ہوجاتی ہے ہماری زندگی با مقصد ہو جاتی ہے۔یوں کہیے کہ ہماری زندگی کا پہیہ درست سمت گھومنے لگتا ہے۔کامیاب لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سمجھ نہیں آتی وہاں سوال کرتے ہیں۔ ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ کوئی بیوقوفانہ سوال کرتے ہیں تو آپ صرف سوال پوچھتے وقت بیوقوف نظر آتے ہیں اور یہ بیوقوفی صرف تھوڑی دیر کی ہوتی ہے لیکن جب آپ سوال ہی نہیں کرتے تو پھر آپ ساری عمر بیوقوف ہی رہتے ہیں۔ ان کہاوتوں میں بھی صدیوں کی ذہانت پوشیدہ ہوتی ہے ۔دراصل بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے کردار پر توجہ دینی چاہیے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنی شہرت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ہم اس بات کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں میں ہماری شہرت کیا ہے۔ وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم جو کچھ بھی ہیں وہ صرف اور صرف کردار کی وجہ سے ہیں ہمارا اصل روپ وہی ہے جو ہمارا کردار ہے ۔اس حوالے سے ہمیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ایک دن ایک ڈاکٹر کہنے لگا کہ جناب اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اگر میں آپریشن تھیٹر میں پانچ منٹ دیر سے پہنچوں تو ایک جان ضائع ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر کی بات سن کر ہمارا ذہن پشاور کی ٹریفک کی طرف چلا گیا گاڑیوں رکشوں موٹر سائیکلوں کی بھر مار کی وجہ سے پشاور میں ڈرائیونگ کرنا اب جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ نوجوانوں نے قسطوں پر موٹر سائیکلیں حاصل کر رکھی ہیں اور جسے دیکھیے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے ٹریفک پولیس کے پاس بھی فرصت نہیں ہے کہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کرتب دکھانے والے ان نوجوانوں سے ڈرائیونگ لائسنس کا ہی پوچھ لے۔اس وقت پشاور میں موٹر سائیکلوں کی تعداد رکشوں سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے ہمارا خیال تھا کہ پشاور کی سڑکوں پر بھاگنے والے یہ اڑن کھٹولے ہی ہماری ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں لیکن اب تو ان رکشوں سے پہلے موٹر سائیکلوں کی خبر لینی چاہیے۔ بات چلی تھی ایک ڈاکٹر کے احساس ذمہ داری سے۔ ہمارا ذہن اس ڈاکٹر کی بات سن کر پشاور کی بڑھتی ہوئی چیختی چلاتی چنگاڑتی ہوئی ٹریفک کی طرف اس لیے چلا گیا کہ وہ وقت بڑا خطرناک ہوتا ہے جب ٹریفک کے اژدھام میں ایک ایمبولنس پھنسی ہوتی ہے جس میں ایک جاں بلب مریض موت و حیا ت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے ۔ جسے جلد از جلد ہسپتال پہنچانا ضروری ہوتا ہے لیکن اس ایمبولنس کے سائرن پر کوئی توجہ نہیں دیتا کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کی ذرا سی لاپرواہی سے کسی انسان کی جان ضائع ہو سکتی ہے۔قلعہ بالا حصار کے سامنے احمد فراز چوک میں دیکھا ہو ا منظر ہمیں آج تک نہیں بھولتا۔ ایک رکشہ میں سوار دو خستہ حال والدین ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے ۔ باپ کی گود میں ایک شیر خوار بچہ موت و حیات کی کشمکش میںمبتلا تھا ۔ جسے ماں باپ جلد از جلد لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچانا چاہتے تھے۔ بچے کی حالت بہت بگڑ چکی تھی وہ نیم بیہوش تھا۔ جب ٹریفک جام کا دورانیہ بڑھنے لگا تو باپ کی بے چینی بڑھ گئی۔جب اس نے دیکھا کہ اب مزید تاخیر سے بچے کی جان بھی جا سکتی ہے تو وہ اپنے بچے کو گود میں اٹھائے رکشے سے چھلانگ لگا کر اترا اور ٹریفک سپاہی کو اپنا بچہ دکھا کر کہنے لگا کہ یہ بچہ مر رہا ہے خدا کے لیے میری مدد کرو۔ میں نے اس بچے کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچانا ہے۔ ٹریفک سپاہی کو جیسے ہی حالات کی نزاکت کا احساس ہوا وہ حرکت میں آگیا۔ اس نے زور زور سے سیٹیاں بجا کر رکشے کے آگے کھڑی گاڑیوں کو ہٹایا ۔ اگر ٹریفک کا سپاہی ذرا سی لاپرواہی یا غفلت کا ارتکاب کرتا تو ایک انسان جان ضائع ہو جاتی۔ایک سوال اکثر پریشان کرتا ہے کہ اگر ہم یہ جانتے ہیں کہ رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی بہتات کی وجہ سے ہمیں ٹریفک کے انتہائی سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس کا تدارک کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی۔ یقین کیجیے اگر ہماری ٹریفک پولیس کے افسران ذرا سی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے سختی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی شخص بھی بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ نہ کرے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے ٹریفک کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔پشاور میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ پشاور میں گاڑی رکھنا اب ممکن ہی نہیں رہا۔ جتنی دیر میں گاڑی انسان کو منزل مقصود پر پہنچاتی ہے اس سے تو کم وقت میں پیدل چل کر اپنی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔دراصل چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہمارے بڑے بڑے مسائل کی وجہ بن رہی ہیں۔ پشاور کی سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل کا حل ٹریفک پولیس کے پاس ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہیں اور بھی بہت سی چیزوں پر توجہ دینی ہوتی ہے ۔

متعلقہ خبریں