طیب اردگان کا دورہ کچھ خوش گوار تھوڑاناگوار

طیب اردگان کا دورہ کچھ خوش گوار تھوڑاناگوار

ترک صدررجب طیب اردگان جدید مسلم دنیا کے ایک ممتاز قائد بن کر اُبھرے ہیں۔مسلمانوں کو درپیش مسائل پر ترکی کی موجودہ قیادت ایک واضح لائن اور دوٹوک موقف اپنائے ہوئے ہے ۔ستر کی دہائی تک مسلمان دنیا مضبوط قیادت کی حامل شخصیات پر مشتمل تھی ۔شاہ فیصل سے ذوالفقار علی بھٹو اور قذافی سے شاہ ایران تک مسلمانوں میں قدرے جرات مند اور پردے کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت کی حامل قیادت موجود تھی ۔پاکستان کا ایٹم بم اسی دور اور اسی قیادت کا نتیجہ ہے ۔یہی مسلمانوں کی عالم تنظیم او آئی سی کے قیام اور فعالیت کا سب سے آئیڈیل دور تھا ۔اس کے بعد جوں جوں سرد جنگ آخری مراحل کی طرف بڑھنے لگی تو مسلمان دنیا میں قیادتیں بہت سی وجوہات کی بنا پر زوال کا شکار ہونے لگیں ۔اس کے بعد تو مسلمان دنیا زوال کی راہوں کی مستقل راہی ہو کر رہ گئی۔ایک جنگ ختم نہیں ہوتی تھی کہ دوسری مسلط ہوجاتی یوں انسانوں کی جس پٹی کو عالم اسلام کہا جاتا ہے رستے ہوئے زخم کی شکل کرتا چلا گیا اب حالت یہ ہے کہ عالم اسلام کی شکل تک پہچانی نہیں جانتی۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے دور ہ پاکستان کے دوران بہت کھل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اوربھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کی ہے ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور مختلف تقریبات میں طیب اردگان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ۔مسئلہ کشمیر ہمارے ضمیر کو گھائل کر رہا ہے کشمیری بھائیوں کے کرب سے آگاہ ہیں۔کشمیر میںدردناک واقعات پیش آرہے ہیں ۔ترکی اس معاملے کو اقوام متحدہ میں آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا ۔رجب طیب اردگان کی قیادت میں جدید ترکی نے جہاں کرپشن کو دیس نکالا دیا وہیں گڈ گورننس اور اقتصادی ترقی کی نئی شاہراہوں پر اپنا سفر بھی تیز کیا ۔یہی وجہ ہے کہ اس سے طیب اردگان کی عوامی مقبولیت بھی بڑھنے کے ساتھ ساتھ ترکی میں جمہوریت کی ''سپیس '' بھی بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ جب ترکی میں ایک فوجی ٹولے نے امریکی ایما پر جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی تو عوام سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوئے۔ترکی پاکستان کا بااعتماد اور ہمہ موسمی دوست ہے ۔دونوں خطوں کے عوام میں تحریک خلافت اور اس سے بھی پرانے رشتے قائم ہیں ۔ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستانی عوام کا ساتھ دیا ہے ۔ترکی اور پاکستان کا تعلق محض حکومتوں کا نہیں بلکہ عوام کا ہے ۔یہ تعلق کسی دوسرے مسلمان یا غیر مسلم ملک کے ساتھ کم ہی قائم ہوا ہے ۔آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے اور سیلابوں میں بھی ترکی نے کھل کر متاثرین کی مدد کی ۔زلزلے کے بعد ترک صدر،وزیر اعظم اور دوسرے اعلیٰ حکام مسلسل متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے رہے ۔ترکی کی میڈیکل ٹیموں نے زخمیوں کی مدد کی ۔بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں بھی ترکی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ سیلاب میں تو بیگم اردگان کی طرف سے متاثرین کے لئے عطیہ کئے گئے ایک ہار کو خاصی شہرت بھی ملی تھی کیونکہ یہ نیلام ہو کر متاثرین تک پہنچنے کی بجائے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی بیگم تک پہنچ گیا تھا ۔کشمیر پر بھی ترکی نے ہمیشہ حق وسچ کا ساتھ دیا ہے ۔حالیہ دورے میں بھی ترک صدر نے عالم اسلام کے ایک ممتاز قائد کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں کھل کر بات کی۔رجب طیب اردگان کی یہ آواز اس وقت بلند ہوئی جب بین الاقوامی دنیا بہت سفاکی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مظالم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔عالمی طاقتوں نے اپنی آنکھوں پر مفادات اور تجارت کی پٹی چڑھا رکھی ہے وہ بھارت کی منڈیوں کی محبت میں انسانیت کی محبت کو بھول چکے ہیں ۔یہ از خود ایک درندگی اور بے رحمی ہے ۔عالمی ماحول پر طاری اس سکوت مرگ میں کشمیریوں کی حمایت میں رجب طیب اردگان کی آواز ایک قابل قدر اضافہ ہے ۔یہ طیب اردگان کے دورے کا روشن پہلو ہے مگر حکومت نے طیب اردگان کے دورے کو ایک قومی مہمان کی بجائے ایک خاندانی مہمان کے دورے کا رنگ دے کر بدمزگی پیدا کی۔وزیر اعظم میاں نوازشریف اپنے خاندان سمیت ائیر پورٹ پر انہیں وصول کرنے آئے ان کی سرگرمیوں کا محور لاہور سے اسلام آباد تک رہا ۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اس دورے میں ان کے دائیں بائیں رہے ۔خیبرپختونخوا،سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کا منظر سے غائب رہنا اچنبھے کا باعث بنا ۔تحریک انصاف تو پہلے ہی دورے سے دور رہی مگر مہمان کے اس انداز سے استقبال کو پیپلزپارٹی نے بھی ہدف تنقید بنایا۔ حد تو یہ کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی ترک صدر سے الگ ملاقات کا اہتمام نہیں کیا گیا جس کا شکوہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق بے بھی کیا ۔ ایک عالمی رہنما اور حکمران کا ایک فیملی فرینڈ کے انداز میں استقبال اور دورہ ترتیب دینا گورننس کا کوئی قابل تعریف انداز نہیں۔ہر حکمران کوذاتی دوستی کے شکنجے میں کسنا ملک کی خدمت نہیں ۔عالمی سیاست میں ملکوں کے درمیان دوستی اچھی رہتی ہے اور دوام بھی اسی دوستی کو رہتا ہے ۔ جمہوریت میں افراد اور حکمران آتے جاتے ہیں ملک قائم رہتے ہیں۔یہ کیا ہوا کہ کسی دوست ملک کے حکمران کے گر د حکمران خاندان کے افراد گھیرا ڈالے رکھیں اور کسی دوسرے یونٹ کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ دورے میں کیا ہوا ۔مودی کے ساتھ بھی تعلقات کا یہی سٹائل اپنانے کی کوشش میں موجود ہ حکمران اپنی راہوں میں کانٹوں کا قالین بچھابیٹھے تھے ۔ترکی کے معاملے میں گوکہ شکوک وشبہات کی فضا ء تو نہیں مگر لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ایک دوست اور برادر ملک کے حکمران کے ساتھ مستقبل کے کیا عہد وپیماں ہوئے؟اور اس عمل میں کسی دوسرے کو شریک کرنے سے گریز نے جہاں انداز حکمرانی پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے وہیں دورے کے دوران ہونے والے معاہدات پر بھی اُنگلیاں اُٹھنے لگی ہیں۔

متعلقہ خبریں