محاسبہ ،مرکزہ اور فنون

محاسبہ ،مرکزہ اور فنون

میسنجر کی لائٹ بلنک ہوئی ۔دیکھا تو جواد کا پکچر میسج تھا۔میسج میں اردو کے چند ایک بڑے ادبی مجلوں میں سے ایک ''فنون''کے تازہ شمارے کی فہرست کی تصاویر تھیں ۔حصہ نظم میں جواد کی دو نظموں ''محاسبہ ''اور ''مرکزہ''کے نام درج تھے ۔میں سمجھ گیا کہ جواد نے یہ پکچر میسج کیوں کیا ہے ۔وہ فنون میں چھپنے کی اپنی خوشی میرے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا۔مجھے اپناماضی یاد آیا ۔1998ء میں میرا پہلا انشائیہ ڈاکٹر وزیرآغاکے ''اوراق'' میں چھپا تھا تو دل کرتا تھا کہ وہ رسالہ لے کر ہر کسی کے پاس لے جاؤں اور کہوں کہ دیکھوآج میری محنت رنگ لائی اور وزیرآغانے مجھے انشائیہ نگار تسلیم کرلیاہے ۔ ایک محفل میں جہاں میںبھی موجودتھا کسی نے میرے انشائیے کے اوراق میں چھپنے کی بات کی تو ایک بہت سینئر ادیب نے ازراہ مذاق کہہ دیا کہ اوراق کا سٹینڈرڈ یہاں تک پہنچ گیا ہے ۔ادیب بننا ہمارے ہاں ایک مشکل کام ہے ۔وجہ بڑی صاف ہے کہ یہاں اس فن کو سکھانے کا کوئی ادارہ ہی موجود نہیں ہے ۔ اسی لیے نئے نام سامنے نہیں آرہے ۔ ادب کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ ادب کی کوئی مارکیٹ نہیں ہے ۔کوئی بھی فل ٹائم ادیب بن کر اپنے گھر کا چولہا نہیں جلا سکتا اسی لیے ادب کوشوق کی حد تک ہی اپنایا جاتا ہے ۔ایک بات یہ بھی ادب کسی کامسئلہ ہی نہیں ہے لکھنے والا لکھ لیتا ہے پڑھنے والا کوئی بھی نہیں ہے ۔ نصاب میں بھرتی کے چند ایک لوگوں کو چھاپ لیا جاتا ہے تاکہ لوگ میر تقی میر اور غالب کو جان لیں باقی ادب کو کبھی بھی ایک سماجی علم تصور نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ ادب ہی ہے جوذہن کوحقیقی تبدیلی کی جانب گامزن کرسکتا ہے ۔ذوق سلیم کی آبیاری کرسکتا ہے ۔تہذیب سکھا سکتا ہے ۔افسوس کہ موجودہ کارپوریٹ کلچر میں ادب کی کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی ۔وجہ بھی صاف سی ہے کہ کارپوریٹ کلچر میں تہذیب کی بھی ضرورت نہیں ۔یہاں تو ان پرائیویٹ چیزوں کو چیخ چیخ کر فروخت کرنا ہوتا ہے جو کبھی سرعام گفتگومیں بھی نہیں آتی تھیں ۔ادب اور ادیب کو آج کے سماج نے باہرنکال دیاہے ۔ حکومتیں بھی اس بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔تبھی تو جواد کو فنون سے اپنی فنکاری کا سر ٹیفکیٹ لینا پڑا ۔جوادشروع میں افسانہ لکھتا رہا اور پھر بھارت کے بے پناہ شاعر وافسانہ نگار گلزار سے ایسا متاثر ہوا کہ نظم کی جانب آگیا۔ جواد کا افسانہ اور نظم دونوں ایسے ہیں کہ وہ آسانی سے ہاتھ نہیں آتے اس کے لیے احساس کا روزن کھولنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر اس کی کہی ہوئی بات اپنی کلیاں چٹکانے پر آمادہ ہوتی ہے۔جواد آج کل دیار غیر میں ہے لیکن ادب سے اس کا ساتھ نہیں چھوٹا ۔فنون احمد ندیم قاسمی کا ایسا پودا ہے کہ جو ان کی وفات کے بعد بھی پھل دے رہا ہے ۔ان کی بیٹیاں نیئر حیات قاسمی اور ڈاکٹر ناہید قاسمی اس رسالے کو باقاعدگی کے ساتھ شائع کرتی ہیں ۔ فنون میں چھپنا واقعی قدر کی بات ہے ۔قاسمی صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ شخصیات کی بجائے فن کے قدردان تھے ۔میں نے 2000میں ڈرتے ڈرتے اپنا افسانہ بغیر کسی کے تعارف کے انہیں بھیجا تھا اور اگلے شمارے میں انہوں نے چھاپ دیا تھا ۔اور اس کے بعد میرے کئی افسانے انہوں نے فنون میں چھاپے ۔ مجھے حیرت اس بات کی رہی کہ پشاور میں بیٹھے ایک اجنبی شخص کے افسانے کو ایک بہت بڑے افسانہ نگار نے پڑھا اور پڑھ کر اسے شائع بھی کیا ۔واقعی ایک بڑی بات ہے ۔ہمارے ہاں تو نئے ادیبوں کی کاغذ پر لکھی نظموں کے ہوائی جہاز بنانے کی روایت رہی ہے ۔جواد جی خوش رہو اور لکھتے رہو۔جواد کی ایک نظم ایک کے مطالعہ کے لیے ۔۔۔

'' محا سبہ''
عجیب رُت تھی
فضا میں پانی بھرا ہوا تھا
ہوا کنارے پہ بہہ رہی تھی
رگوں میں مٹی بھری پڑی تھی
بدن سے شاخیں نکل رہی تھیں
کلیدی لفظوں کے الجھے بالو ں کو کیا سمیٹوں
کہ واہموں کے ہزار پُل تھے
عجیب رُت تھی
نگارِ فردا کے خشک ہونٹوں کا پہلا بوسہ
ابھی خلاؤں کے پیچ و خم میں رُکا ہوا تھا
مسافتیں سب سمٹ کے بس ایک نقطے پہ آگئی تھیں
اَنا کے منبر پہ بیٹھ کر میں یہ سوچتا تھا
مجھے کسی سے کبھی محبت نہیں ہوئی ہے
اگر یہ سچ تھا
تو سینہ کوبی کی وارداتیں
مرے گزشتہ کی انٹیوں میں نجانے کیسے بھری ہوئی ہیں
مرے بدن سے نکلتی شاخوں پہ تھرتھراتے گلابی پتوں کی اوٹ سے جھانکتے تھے
جو وہم سارے
اُنہیں خبر تھی
اُنھیں خبر تھی، یہ کیوں ہوا ہے
کہ کیا حقیقت ہے ان گلابوں کی جو درختوں پہ آکھلے ہیں
سو یوں ہوا تھا
کہ میں جہانوں کا مرکزہ تھا
میں واقعی ایک واقعہ تھا
مری رگوں میں تھی سرخ مٹی
میں سوچتا ہوں
وہ رُت جو اب کے پلٹ کے آئے
تو اپنی شاخوں پہ بور بن کر اُبھرنے والے سلیس لفظوں کے سادہ معنی
میں زندگی کو نواز دوں گا
کہ تب ہی شاید میں سانس لوں گا۔

متعلقہ خبریں