نوجوانوں پر توجہ دیں

نوجوانوں پر توجہ دیں

اگر ہم پاکستان کی آبادی پر نظر ڈالیں تو اس وقت پاکستان کی آبادی میں 13 کروڑ جوان شامل ہیں اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 2کروڑ جوان ہیں۔ تعلیم کے لحا ظ سے دو صوبے پنجاب اور خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد جب وفاق میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور اتحا دیوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اُس وقت میں نے نئی حکومت کو صوبے اور عوام کی بہتری کے لئے چند گزارشات پیش کی تھیں اس میں ایک گزارش یہ بھی تھی کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان چونکہ ایک عالمی سطح کے انٹرنیشنل کھلاڑی اور سیلبرٹی ہیں اور عالمی سطح پر انکی ایک پہچان ہے لہٰذا عمران خان کو اپنی شخصیت اور مقبو لیت سے فائدہ اُٹھاکر اُن ممالک کے ساتھ معاہدے کر کے اپنے صوبے کے لوگوں کو بیرون ممالک بھیجنا چاہئے جہاں پر آبادی کی شرح صفر ہے ۔ میں یہاں اس بات کی وضا حت کرنا چاہوں گاکہ یو رپ کے سارے ممالک کی آبادی کی شرح صفر ہے اور وہاں پر جوانوں کی نسبت عمر رسیدہ لوگوں کی آبادی اور تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا عمران خان کو اپنی شخصیت اور بین الاقوامی مقبولیت کو بروئے کار لاکر کے پی کے نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنا چاہئے مگر بد قسمتی سے عمران خان ایک بین الاقوامی سیلبرٹی ہونے کے با وجود بھی کے پی کے اور پاکستان کے پڑھے لکھے جوانوں کے لئے وہ کام نہ کر سکے جو کرنا چاہئے تھا۔ حالانکہ بھارت اوردیگر کئی ترقی پذیر ممالک یورپ میں نو جوانوں کی کم آبادی کا فائدہ اُٹھا کر اپنے ہُنر مند جوانوں کو وہاں بھیج کر بھر پور استفادہ کر رہے ہیںاور بلین ڈالر کا زر مبادلہ کمارہے ہیں۔انٹر نیشنل ڈپلومیسی میں جس طرح اہم کردار ایک سیلبرٹی اور کرکٹ کا کھلاڑی ادا کر سکتا ہے وہ ایک بڑا تجربہ کارسفارت کاربھی ادا نہیں کر سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کے پی کے میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں تعلیم، پولیس، پٹواری، صفائی اور شفاف طریقے سے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی میں بُہت تک بہتری آئی ہے مگر بد قسمتی سے تحریک انصاف کو کے پی کے عوام نے جن کاموں کے لئے تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا تھا اُس کام میں وہ کامیاب نہ ہو سکی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عام انتخابات میں بھرپور دھاندلی ہوئی تھی اور عمران خان کے تین سال پانامہ لیکس اور دھاندلی کے خلاف دھرنوں اور احتجاج کی نذر ہوئے اور ابھی دو سال باقی ہیں۔مگر ان کاموں کے ساتھ ساتھ عمران خان اور تحریک انصا ف کو کے پی کے میں تبدیلی اور تعمیری کاموں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے تھی مگر پشتو کا مقولہ ہے چہ سہ جرندہ ورانہ اور سہ دانے لوندے ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے پشاور کے چند بڑے ہسپتالوں کی حالت زار کی بہتری کی طرف توجہ دی ہے مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ خیبر پختون خوا میں جتنے بھی ڈسٹرکٹ اورتحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہیں اُنکی حالت نا گُفتہ بہ ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے استد عا کرتا ہوں کہ کے پی کے تعلیم یافتہ لوگوں کا خطہ ہے اور دہشت گر دی اور انتہاپسندی کے بعد یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے اور اب بھی عمران خان اور پاکستان تحریک انصا ف کے پاس وقت ہے کہ وہ اس جنگ سے تباہ شدہ صوبے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کر یں اور کو شش کریں کہ اپنی ذاتی اور بین الاقوامی شہرت کو استعمال کر کے کے پی کے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باہر بھیجنے میں مدد کریں۔پختون سے جفا کش قوم کوئی نہیں لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کیا جائے۔ اور اس مارشل اور جری قوم کو معاشی استحصال سے بچایا جائے۔ اگر ہم دنیا کا کوئی بھی حصہ دیکھیں تو ایسا علاقہ نہیں ہوگا جہاں پر پختون نہیں ہوگا۔اب بھی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے پاس دو سال ہے اگرپاکستان تحریک انصاف کچھ کرنا چاہتی ہے تو بُہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت سمندر پار پاکستانی وطن عزیز کو سالانہ 20 ارب ڈالر بھیج رہے ہیں جس میں زیادہ سمندر پار پاکستانی پختون ہیں ۔ اگر اس سلسلے میں مزید کو شش کریں تو پاکستان کے ترسیلات زر کو 50 بلین سالانہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے 80لاکھ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں اور اگر اسکوڈبل کیا جائے تو ترسیلات زر کو ڈبل کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں کے پی کے حکومت کو چاہئے کہ پو رے صوبے میں لینگویج سنٹر اور ٹیکنیکل اور ووکیشنل ادارے قائم کئے جائیں تاکہ سمندر پار تربیت یافتہ افرادی قوت کوباہر بھیجا جاسکے۔ یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت ، بنگلہ دیش اور دنیا کے کئی ممالک اپنی تربیت یافتہ افرادی قوت کو بھیج کر بھاری ترسیلات زر کما رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں