ٹرمپ کی گھن گرج امریکی پالیسی نہیں ہوسکتی

ٹرمپ کی گھن گرج امریکی پالیسی نہیں ہوسکتی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے دھمکی آمیز رویہ اور اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں باغی ممالک کے خلاف کارروائی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کے عندیہ کے برعکس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نائب امریکی صدر مائیک پینس کے ساتھ باضابطہ ملاقات و مذاکرات اور مشاورت میں افغانستان کی صورتحال بارے پاک امریکہ مذاکرات پر اتفاق سنجیدگی کے ساتھ توجہ کا حامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے خطاب اور دھمکی کو ایک جذباتی کردار کی پالیسی سے ہٹ کر اظہار خیال سے زیادہ کی اہمیت اس لئے نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ داخلی طور پر من پسند اقدامات کو لاگو کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ یوں تو امریکہ کے صدر بہت طاقتور سمجھے اور گنے جاتے ہیں مگر جس صدر کی خواہشات پالیسیوں کا روپ نہ دھار سکیں اور ان کو داخلی طور پر ماتحت حکام کی جانب سے مزاحمت اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے ان کی تقریر اور امریکی پالیسیوں کو مختلف طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح امریکہ اور دنیا کو چلانا چاہتے ہیں وہ یکسر غیر حقیقت پسندانہ اور الٹا سخت رد عمل کا باعث بن کر سامنے آرہے ہیں۔ کوریا کاامریکہ کو کھلا چیلنج ایک طرف رکھ کر اگر ہم پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں دیکھیں تو جو کچھ کہنے کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کی ہمت ہماری حکومت نے ٹرمپ کی تقریر کے بعد کی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر ٹرمپ دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار نہ کرتے تو قومی سلامتی کو نسل کی جانب سے ان کو وہ مسکت جواب دینے کا موقع کبھی نہ ملتا۔ وقت اور حالات کے بدلتے پالیسیوں میں جس تبدیلی کی ضرورت سامنے آتی ہے اور حالات پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے تناظر میں جس طرح پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت پڑتی ہے یہ حقیقت اپنی جگہ مگر اس کا موقع بہر حال ٹرمپ کے خطاب ہی سے ملا۔ اقوام متحدہ میں ان کے خطاب کے رد عمل میں مزید مواقع اور پاکستان کو عالمی سطح پر کچھ اور ممالک سے مزید قربتوں کا موقع نہ بھی ملے تو ایک صف میں شمار ہونے کا موقع تو بہر حال مسلمہ امر ہے۔ امریکی صدر سخت لب و لہجہ اپنا کر اور دھمکی آمیزی کے رویے سے دنیا کو مرعوب نہیں کرسکتے الٹا ان کو امریکہ کے سامنے کھڑے ہونے کی شہ دینے کے مترادف ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برادر اسلامی ملک ایران کا خاص طور پر نام لیا جبکہ بعض انتہا پسند تنظیموں کابھی انہوں نے نام لے کر تذکرہ کیا۔ امریکہ ہی نے ایران سے ایٹمی معاملات بارے سمجھوتہ کیا تھا جبکہ امریکہ ایران تعلقات کاجائزہ لیا جائے تو ایران میں شہنشاہیت کے خاتمے اور مذہبی قیادت کے غلبے کے بعد کب دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات رہے ہیں۔ امریکہ نے ایران کیخلاف بساط بھر اقدامات میں کسر نہیں چھوڑی لیکن ایک با وقار قوم کو جھکانا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک مرتبہ پھر ان دھمکیوں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جبکہ شمالی کوریا' وینز ویلا اور کیوبا کے ساتھ امریکی مخاصمت اور دھمکیاں بھی نئی بات نہیں۔ یہ ممالک جس طرح امریکی پالیسیوں کے خلاف سنجیدگی اور سختی سے کھڑے ہونے کا تجربہ اور حوصلہ رکھتے ہیں اس کے تناظر میں امریکی صدر کی دھمکیوں کی زیادہ اہمیت نہیں۔ جہاں تک شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا سوال ہے اس ضمن میں اسلامی ممالک کی جانب سے امریکہ سے اختلاف نہیں بلکہ تعاون پر مبنی رویہ رہا ہے لیکن اگر امریکی صدر اس کے باوجود کوئی اور تاثر دینا چاہتے ہیں تو اس کا رد عمل فطری امر ہوگا۔ امریکہ اسلامی ممالک کے تعاون اور وسائل کے ساتھ ہی ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے۔ اس میں امریکہ کو کتنی کامیابی ملی اور ان تنظیموں کا وجود اور نظم کس حد تک بکھر چکا ہے اس حوالے سے حقیقت پسندانہ جائزے اور مزید تعاون اور سبھی ممالک کو اکٹھے اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ امریکہ کے پاس تنہا پرواز کی پالیسی کا کوئی موقع نہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتا ہے۔ امریکی صدر کو جب معروضی حالات کا سامنا کرنا پڑے تو ان کو اپنے ہی الفاظ کی اصابت سے واسطہ پڑے گا اور حقیقت حال کے مختلف ہونے کا احساس ہوگا۔ ٹرمپ کی تقریر کے متعلقہ ممالک کی طرف سے رد عمل کا سامنے آنا فطری امر ہوگا۔ ان امور و معاملات سے قطع نظر وزیر اعظم کاامریکی نائب صدر سے افغانستان کے معاملات بارے مذاکرات پر اتفاق دونوں ممالک کی ضرورت سے ہم آہنگ اتفاق رائے ہے۔ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ امور کا حل تلاش کرنے کے مقصد کے لیے ایک امریکی وفد اگلے مہینے پاکستان کا دورہ کرے گا۔شاہد خاقان عباسی اور مائیک پینس کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم نے امریکا کے نائب صدر کو افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔یاد رہے کہ امریکی صدر نے رواں برس 21 اگست کو اپنی تقریر میں افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر طالبان کو مبینہ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں امریکی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بارہا کہا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ افغان مسئلے پر وسیع پیمانے پر مذاکرات چاہتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن خطے میں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مل کر کام کریں، جو پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ہمارے تئیں امریکی پالیسی وہ نہیں جو ٹرمپ نے بیان کی ہے بلکہ امریکی پالیسی وہ ہے جس کا اظہار سرکاری طور پر ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں کیا گیا ہے اور یہی بہتر پالیسی ہے جس پر عملدرآمد سے افغانستان اور خطے میں قیام امن اور استحکام امن کی راہ ہموار ہوگی۔

متعلقہ خبریں