فاٹا انضمام' حوصلہ افزاء پیشرفت

فاٹا انضمام' حوصلہ افزاء پیشرفت

حکومت کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تحفظات کے اظہار کے بعد فاٹا رواج بل 2017ء کو واپس لے کر فاٹا کو پانچ سال سے بھی قبل خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ اگر پورے معاملے پر از سر نو غور کرنے کے بعد سوچ سمجھ کر کیاگیا ہے تو اس کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن اگر یہ کسی دبائو کا نتیجہ ہے اور سیاسی مصلحت کے تقاضوں کے تحت ہے تو اسے دانشمندانہ اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہمارے تئیں صائب الرائے افراد کا یہ موقف درست ہے کہ اس ضمن میں جلد بازی کی بجائے مرحلہ وار معاملات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ کوئی خلاء اور پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ فاٹا کے عوام کا قومی دھارے میں شامل ہونے کی خواہش آئین و قانون کے عین مطابق ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔ فاٹا کے عوامی نمائندے بھی فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے کوشاں ہیں جبکہ رواج ایکٹ کی قبائلی عوام اور ان کے نمائندوں کی طرف سے مخالفت کی گئی تھی ۔ بہر حال اسے واپس لے کر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے عمل میں تیزی لانے کا عندیہ یقیناً فاٹا کے عوام کی اکثریت کے لئے باعث اطمینان امر ہوگا۔ حکومت کو مرحلہ و ار اقدامات اور خاص طور پر ایف سی آر کے خاتمے اور قبائلی عوام کو قانونی حقوق دینے سے متعلق پیشرفت سے ابتداء کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھیں اور قبائلی عوام کے دیرینہ خواب کی تعبیر کا مرحلہ شروع ہو۔ اس سارے عمل میں جہاں حکومتی اقدامات کی اہمیت ہے وہاں قبائلی عوام کی جانب سے ان مراحل پرکیے گئے اقدامات کی کامیابی کے لئے تعاون' برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔
تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال
کراچی میں پولیس کی سرپرستی اور سیاسی کارندوں کی حمایت یافتہ خواتین اور نوجوانوں کا طلبہ کو منشیات کی آن لائن فروخت اور منشیات استعمال کرنے والوں میں لڑکیوں کی اکثریت ہونے کے تناظر میں پشاور میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور سپلائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی خوش آئند اقدام ضرور ہے تاہم اس پھیلتی اور بڑھتی وباء کی روک تھام کے لئے مزید سنجیدہ اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ پشاور کے بعض بڑے سکولوں میں آئس کا نشہ کرنے والے کمسن طالب علموں کی اطلاعات سنگین صورتحال کی نشاندہی اور خطرے کی گھنٹی ہی نہیں بلکہ پانی سر سے اونچا ہونے کی نشانی ہے۔ نوجوان نسل جس تیزی کے ساتھ نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہو رہی ہے وہ حیرت انگیز اور خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ ہمارے تئیں اس امر کی تحقیق ہونی چاہئے کہ وہ کون سے عوامل ہوتے ہیں جو نوجوان نسل کو نشے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی نشے کی طرف رغبت کیوں پیداہوتی ہے اس کے کیا نفسیاتی سماجی اور ماحولیاتی عوامل ہیں اگر اس ضمن میں ماہرین تحقیق اور مشاہدے کے بعد کوئی لائحہ عمل تجویز کریں اور اس پر متعلقہ حکام کی طرف سے خلوص کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے تو نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے سنجیدہ سعی ہوسکتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نشہ آور اشیاء کی سپلائی اور دستیابی کے کئی ایک امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکولوں میں یہ کیسے ممکن ہوتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر توجہ دے کر معصوم الذہن طالب علموں کو منشیات فروشوں کے چنگل سے بچایا جاسکتا ہے۔ انسداد منشیات کے حکام اگر اس جانب سب سے پہلے توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کالجوں' یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں منشیات کی دستیابی اور استعمال کوئی راز کی بات نہیں متعلقہ اداروں ' پولیس اور انتظامیہ سبھی اپنا کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ منشیات کے استعمال اور بہم رسانی میں کمی نہ آئے۔ جن منشیات فروشوں کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور جن کو گرفتار کیاگیا ہے اگر سنجیدگی سے سراغ اور سرا یہیں سے تلاش کرکے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوششیں کی جائیں تو کامیابی نا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں