کیا واقعی ماحولیاتی آلودگی حکومت کے لیے اہم ہے ؟؟

کیا واقعی ماحولیاتی آلودگی حکومت کے لیے اہم ہے ؟؟

جب ماحولیاتی آلودگی کی بات ہونے لگتی تو دل میں ایک عجب سا دُکھ ہلکور ے لینے لگتا ہے ۔ شاید یہ تکلیف اتنی شدید نہ ہوتی اگر میں اس معاملے میں ایسی جذباتی نہ ہوتی ۔ میں نے گزشتہ کچھ عرصے میں اس حوالے سے کچھ تحقیق بھی کی اور وقتاً فوقتاًاپنی تحقیق اپنے قارئین کے گوش گزار بھی کرتی رہی ہوں ۔ معاملات ایسے نہیں ہیں جیسے اکثر اوقات ہمارے حکمران ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ جو تا ویلیں وہ پیش کرتے ہیں ان پر بھی کئی بار دل کھولنے لگتا ہے ۔ کیونکہ ایسا واضح اور چیختا چلاتا جھوٹ سنتے ہوئے کئی بار دل اوب جاتا ہے ۔ کبھی چیخ اٹھنے کو دل کرتا ہے دل چاہتا ہے کہ یکدم ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا جائے کہ بس اب بہت ہو چکا ، اب اور جھوٹ نہ بولیں ہم میں سے کتنے ہیں جو اصل سے ، حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں اور کئی ہیں جو پوری سچائی تو نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ کونسی باتیں سچ ہیں اور کونسی جھوٹ ۔ حکومت وقت ہمیں ہر وقت سی پیک کی لوریاں سناتی ہے ۔ ہمیں بار باریہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ جو تحفہ کوہ قرا قرم کے اس پار سے ہمارے لیے لے کر آئے ہیں اس سے بڑی ہفت اقلیم کوئی نہ ہو سکتی تھی اور اس قوم کو اس کے ثمرات سمیٹنے کے لیے اپنی جھولیاں بڑی کروا لینی چاہئیں کہ موجودہ جھولیوں میں اس کے ثمرات سمیٹے نہ جا سکیں گے ۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ سی پیک سے ہماری زندگیاں ایسی تبدیل ہو جائیں گی کہ پھر اس کے بعد ہم یہ سمجھ نہ پائیں گے کہ اس قدر ہن ہم پر کیسے برس رہا ہے ۔ پاکستان کے دن بدل جائینگے ۔ شہروں کے بیچوں بیچ کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخارنے لگ جانے کے بعد قصور اور ساہیوال لاس اینجلس اور نیویارک میں بدل جائینگے ۔ اور جب حکومت وقت کے وزرائے باتدبیر ایسی باتیں کرتے ہیں جس میں وہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس ملک و قوم کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں ۔ وہ اس ملک و قوم کی بھلائی کے لیے کس قدر جدوجہد کرتے ہیں تو کئی بارہنسی آتی ہے ، کئی بار رونا آتاہے لوگوں کو جب یہ بتایا جارہا ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں حکومت وقت کتنی پریشان و مشوش ہے ۔ وہ لوگ جنہیں کھانے کو دووقت روٹی نصیب نہیں ہورہی ۔ وہ لوگ جن شہروں میں بستے ہیں ان میں بارش ہو جائے تو کئی لوگ تو کرنٹ لگنے سے ہی مرجاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے گھروں میں کئی کئی روز تک پینے کا صاف پانی تک نہیں آتا ۔ وہ لوگ جو بسوں میں دھکے کھاتے ہیں اور مسلسل دھواں پھانکتے ہیں ۔ ان لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ انہیں کیا معلوم کہ ماحولیاتی آلودگی ان کی زندگیوں میں کیا کردار ادا کرنے والی ہے ۔ اس لیے وہ منہ بھر کے یہ نہیں کہتے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ یہ سب کیا ہے اور ہمیں اس سب کی کوئی پرواہ بھی نہیں ۔جو انہیں چپ کرواسکتے ۔ وہ ان کے کہنے پر ووٹ دینے کے لئے باہر بھی نہیں نکلتے جو اپنی زندگیوں سے بیزار ہیں ۔ سو یہ لوگ جو چاہیں کہتے رہتے ہیں ۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کس منہ سے ماحولیاتی آلودگی کی بات کرتے ہیں ۔ اس ملک میں جتنی ماحولیاتی آلودگی آپ کے اقدامات کی وجہ سے پھیلے گی اس کا کوئی حساب خود آپ کو بھی نہیں ۔ جس سی پیک کا آپ مسلسل کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں اس سی پیک نے اس ملک کی آب وہوا تباہ کر دینی ہے ۔ اس سی پیک میں جو سڑک بنائی جارہی ہے ، کتنے ٹرک ، کس ہیئت اور کس حجم کے اس سڑک پر عازم سفر ہوں گے اور ان سے ماحول پر کیا اثر ہوگا۔ یہ وہ کمال حکومت ہے جو مسلسل سی پیک ، سی پیک کرتی ہے لیکن کسی قسم کا کوئی اندازہ اس کے گیان کے کسیکونے میں موجود نہیں کوئی تحقیق نہیں کی گئی کہ تیرہ کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں سے ماحولیاتی آلودگی میں کس قدر اضافہ ہوگاشہروں کے بیچوں بیچ کارخانے لگانے سے لوگوں کی صحت پر کس قدر اثرات بد مرتب ہوں گے ملک کے شمالی علاقہ جات میں موجود گلیشئر کے پگھلنے کی رفتارکس قدر تیز ہوجائے گی ۔ کتنے سیلاب آئینگے کتنی تباہی ہوگی ۔ اس سب کی انہیں کوئی فکر بھی نہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک اس ملک سے دور کہیں اور جا کر ، جا بسنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ اس ملک میں جو بھی ہو ، کیسی بھی تباہی آئے کیسے بھی حالات خراب ہوں ، اس سب کو برداشت میں نے ، آپ نے ہم جیسے لوگوں نے ہی کرنا ہے ۔ یہ ملک ہمارا ہے ۔ جب یہ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس پر خاموش رہتے ہیں تو میرا خون کھولنے لگتا ہے ۔ کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے سب ہی حقیقت سے ناواقف ہوں اور سب ہی اتنے بزدل ہوں کہ جملہ بھی نہ بول سکتے ہیں ۔ انہیں اتنا بھی نہ کہہ سکتے ہوں کہ بس اب ہمیں اور دھوکہ دینے کی کوشش نہ کیجئے ۔ ہم سب جانتے ہیں ۔ یہ سی پیک بھی ہمیں کس قدر فائدہ دے گا ۔ ہم اس سے بھی واقف ہیں ۔ وہ سہولت جو ہم چین کو فراہم کر رہے ہیں ۔ اگر ہمارے حکمران اس ملک کے وفادار ہوتے تو ایسی سودے بازی کرتے کہچینی حکومت پاکستان کو کمال مراعات دیتی دو پن بجلی گھر بنوانے کی یہ قیمت ہے کہ ہماری حکومت اس ملک وقوم کا مستقبل دائو پر لگا رہی ہے کیونکہ ان کے لیے نہ ہمارے بچوں کا مستقبل اہم ہے اور نہ ہمارا ملک ۔ ان کے لیے اپنی آج کی وزارتیں اہم ہیں ۔ ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے میں یہ سیاست دان بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں زندہ جیتے جاگتے ، 22کروڑ لوگ رہتے ہیں جن کا مستقبل ایک سچ ہے اور ہمارے سیاست دان تو کبھی سچ بولتے ہی نہیں ۔ وہ وزارت جو ماحولیاتی تحفظ کے نام پر بنائی گئی ۔ اس کے افسران غیر ممالک کے دورے کر کر کے تھک گئے ۔ کسی نے پوچھا کہ کیا ہوا اور کیا کیا ۔ آج تک ملک پر سی پیک کے ممکنہ اثرات کی تفصیل تو کسی نے پوچھی نہیں اور نہ ہی تیار کر سکے ۔ میٹنگز تو بہت ہوتی ہیں ، اچھی بات ہے ۔ جھوٹ بولنے والے سیاست دان ایک اور جھوٹ بولنے کا عنوان ، تلاش کرلیتے ہیں ۔ اور بیوروکریسی نوکری بچانے کی کوشش میں حامی اورمددگار کا کام کرتی ہے ۔ لیکن ایسا کب تک چلے گا ؟ ۔

متعلقہ خبریں