حلقہ این اے 120کا ضمنی الیکشن

حلقہ این اے 120کا ضمنی الیکشن

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان سپریم کورٹ کے ترجمان ہیں جو وہ اپنے جلسوں میں یہ فرماتے رہتے تھے کہ حلقہ این اے 120میں لیگ (ن)کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کو ووٹ نہ دے کر عوام عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور کیا وہاں پر انتخابات میں لیگ (ن) کا مقابلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہور ہا تھا یعنی کیا سپریم کورٹ انتخابات میں بطور امیدار موجود تھی ؟ یہ اور اس قسم کے کچھ ضمنی سوال مختلف ٹی وی چینلز پر سینئر تجزیہ کار اٹھا تے رہے ہیں ، اس لئے اس ضمن میں یہ بات بھی اکثر لبوں پر آتی رہی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس حوالے سے خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔ یہ واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور فاضل عدالت عظمیٰ کے حوالے سے بزعم خود جس طرح نواز شریف کی نااہلی کے بعد عمران خان نے عدلیہ کا ترجمان بن کر ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور اب تک یعنی محولہ حلقے میں ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بھی ان کے لہجے میں تبدیلی نہیں آئی اور ایک میڈیا انٹر ویو میں انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ این اے 120میں لیگ (ن) کے 30فیصدووٹ کم ہونا سپریم کورٹ کی فتح ہے ، تو کیا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ د یا جائے کہ خواہ ووٹ کم ہوئے یا نہیں (خدانخواستہ ) سپریم کورٹ ہار گئی ہے ؟ اس قسم کے بیانات سے عمران خان سپریم کورٹ کی سبکی کرانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ اس سوال پر محترم چیف جسٹس کو ضرور نہ صرف غور کرنا چاہیئے بلکہ اس کا نوٹس لیکر مناسب اقدام بھی اٹھانا چاہیئے اور سپریم کورٹ کے اپنے ترجمان کے ذریعے اس صورتحال کی وضاحت کرنی چاہیئے ۔حلقہ این اے 120کے نتائج میں کس کے کتنے ووٹ کم ہوئے اور کس کو اضافی ووٹ ملے یہ ایک لمبی بحث ہے ، اور اس کی کئی وجوہات ہیں پھر الیکشن والے روز سارا دن مختلف چینلز پر ان کے نمائندے جو خبریں عوام تک پہنچا تے رہے اور تقریباً ہر چینل پران کے تجزیہ نگار ان خبروں کا پوسٹ مارٹم کرتے رہے وہ اپنی جگہ تاہم ان خبروں اور تجزیوں سے ملک کے دیگر حصوں میں موجود ہم جیسے قلم گھسیٹے بھی کچھ نہ کچھ اخذ کرنے میں کامیاب ضروررہے ہیں ۔ اور جس قدر معلومات ہم تک پہنچتی رہی ہیں ان سے یہ نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ ہار ہار ہوتی ہے اور جیت بہرحال جیت ، چاہے وہ ایک ووٹ ہی سے کیوں نہ ہو ، جہاں تک لیگ (ن) کو 30فیصد ووٹ کم پڑنے کی بات ہے تو لیگ (ن)کے ذمہ دار حلقوں کو اس پر ضرور سوچنا چاہیئے تاہم یہ بات بالکل درست ہے کہ عام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں بہت فرق ہوتا ہے اور عام انتخابات کاجو مومینٹم ہوتا ہے وہ ضمنی انتخابات میں قطعاًنہیں ہوتا ، اور ان میں عوام کی دلچسپی قدرے کم ہوتی ہے ۔ لیگ (ن) کے بعض وزراء نے اپنے ووٹروں کے دیر سے پولنگ سٹیشنوں پر پہنچنے کے بارے میں جس قسم کے جواز تراشے انہیں پہلے ہی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے تھا کہ اپنے ورکروں کے ذریعے اپنے ووٹروں کو ایک دن کے آرام کو تج دینے پر آمادہ کرتے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں بروقت لوگوں کو پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانے کا بندوبست کرتے۔

البتہ جس طرح مختلف ٹی وی چینلز پر بعض ووٹروں کو یہ شکایت کرتے دکھایاگیا کہ ان کے کاغذات بھی درست تھے اور لسٹوں میں نام بھی موجود تھا مگر انہیں صرف اس لئے واپس بھیج دیاگیا کہ ان کے پاس ووٹ نمبر کی پرچی شیر کے نشان والے کاغذ پر تھی اور جب وہ پی ٹی آئی کے نام کی پرچی لے کر آئے تو انہیں ووٹ پول کرنے کی اجازت ملی۔ تاہم دوسری جانب یہ خبریں بھی آئیں کہ کچھ پولنگ سٹیشنوں پر دھڑا دھڑ بیلٹ بکس بھرے جا رہے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے اب اس قسم کی اطلاعات کی چھان بین کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے کہ وہ حقائق معلوم کرے۔ اسی حلقے کے حوالے سے یہ خبریں بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ ملی مسلم لیگ اور کچھ دوسرے ناموں سے بعض نئی جماعتیں راتوں رات کھڑی کردی گئی تھیں اور ان کے چالیس کے لگ بھگ امیدوار میدان میںاتارے گئے جنہوں نے تقریباً اتنے ہی ووٹ لے کر لیگ(ن) کو نسبتاً کم ووٹ لینے پر مجبور کردیا۔ جتنے ووٹ وہ عام انتخابات میں حاصل کرتی آرہی ہے اسی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر رانا ثناء اللہ نے بھی شکایت کی ہے جس کا مطلب بہ الفاظ دیگر یہ تھا کہ کھمبیوں کی طرح جنم لینے والی ان جماعتوں کے ذریعے لیگ(ن) کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم اس صورتحال سے لیگ(ن) کے ذمہ داران کے کان کھڑے ہوجانے چاہئیں یعنی وہ اسے سرسری طور پر نہ لیں بلکہ اسے آنے والے عام انتخابات کے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھنا چاہئے کہ اب یہ حلقے جو مذہب کے نام پر اس وقت تو ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے مگر عین ممکن ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں یہ اکٹھے ہو کر تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً لیگ(ن) کے لئے بہت بڑا چیلنج بن جائیں۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے اور جس طرح راتوں رات ملک میں سیاسی جماعتوں کا جمعہ بازار لگ رہا ہے اور جو انتخابی عمل کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہیں ان کی رجسٹریشن ختم کرنے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ جو جماعتیں اپنی ضمانتیں بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں ان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے۔
ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا
ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں